ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ — شکوک کے دور میں، اطمینان قلب کا سرچشمہ
قرآن مجید نے اپنے تعارف میں یہ نہیں فرمایا۔ کہ "لا شک فیہ" بلکہ ارشاد فرمایا: "ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ"۔ عربی زبان میں "شک" محض ذہنی تردد کا نام ہے، جبکہ "ریب" دل کی بے چینی، اضطراب، وسوسے اور اندرونی کھٹک کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ گویا قرآن صرف عقل کے سوالات کا جواب نہیں دیتا ،بلکہ دل کے زخموں پر بھی مرہم رکھتا ہے۔
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، لیکن اطمینان کے چشمے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے علم تک رسائی کو آسان بنایا، مگر اس کے ساتھ ساتھ شبہات، افواہوں اور فکری انتشار کے دروازے بھی کھول دیے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، ایک جذباتی پوسٹ یا کسی نام نہاد دانشور کا کلپ لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا کر دیتا ہے۔ خصوصاً الحاد اور لادینیت کے نظریات کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ نوجوانوں کے دل و دماغ میں دین کے بارے میں بے یقینی پیدا ہونے لگتی ہے۔
الحاد کے بہت سے دلائل درحقیقت نئے نہیں، بلکہ وہی پرانے اعتراضات ہیں جو مختلف ادوار میں انبیاء علیہم السلام کے مخالفین اٹھاتے رہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج انہیں جدید زبان، پرکشش گرافکس اور سوشل میڈیا کی طاقت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک طالبِ حق قرآن کی طرف رجوع کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف سوالات کا جواب نہیں دیتی بلکہ سوال کرنے والے انسان کی داخلی کیفیت کو بھی سمجھتی ہے۔
قرآن عقل کو دلیل دیتا ہے، کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاریخ سے سبق سکھاتا ہے اور انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے۔ پھر یہی تعلق دل میں سکون، یقین اور امید پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو پڑھنے والا صرف معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی کیفیت سے آشنا ہوتا ہے جسے اطمینانِ قلب کہتے ہیں۔
آج جب سوشل میڈیا پر شکوک و شبہات کی یلغار ہے، تب پہلے سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے۔۔ کہ ہم قرآن کو محض تلاوت کی کتاب نہ سمجھیں بلکہ ہدایت، فکر اور یقین کا سرچشمہ بنائیں۔ کیونکہ واقعی "ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" — یہ وہ کتاب ہے جس میں نہ عقل کے لیے الجھن ہے اور نہ دل کے لیے اضطراب۔اگر مضامین اچھے ہو تو فالو اور کومنٹس کی درخواست
#قرآن_مجید #سوشل_میڈیا #الحاد #فکر_اسلامی #یقین #ہدایت #اسلام #تدبر_قرآن #قاری_حفیظ #LinkedInUrdu