Default Profile

Sohail Akhtar rao

@username

No bio available.

11
Posts
7
Followers
0
Following
از قلم: سہیل اختر راؤ
ایک ہنر، ایک پیشہ، ایک فرد — دم توڑتی ایک صنعت: موچی
کسی بھی معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا بڑے کاروباری مراکز سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہنرمند افراد بھی اس کی شناخت ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں کی محنت، مہارت اور تجربے سے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ معاشرے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کئی روایتی ہنر اور پیشے وقت کے ساتھ دم توڑتے جا رہے ہیں، جن میں موچی کا پیشہ بھی شامل ہے۔
اس موضوع پر لکھنے کا خیال مجھے اس وقت آیا جب گزشتہ روز ایک جوتے کی مرمت کروانے کے لیے مجھے ملتان جیسے بڑے شہر میں تقریباً آٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جدید مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور برانڈڈ جوتوں کی دکانوں کی بھرمار کے باوجود ایک اچھا موچی تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تب احساس ہوا کہ جس پیشے کو کبھی ہر بازار، گلی اور محلے کی ضرورت سمجھا جاتا تھا، وہ آج آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے رخصت ہوتا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب موچی ہر بازار کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ جوتوں کی مرمت، سلائی، پالش اور چمڑے کے کام میں اس کی مہارت قابلِ تعریف ہوتی تھی۔ ایک اچھا موچی پرانے اور بوسیدہ جوتے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیتا تھا۔ لوگ اپنے جوتے سنبھال کر رکھتے، ضرورت پڑنے پر مرمت کرواتے اور چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے ان سے بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
مگر آج حالات مختلف ہیں۔ فیکٹریوں میں تیار ہونے والے سستے جوتوں اور تیزی سے بدلتے فیشن نے لوگوں کی سوچ بدل دی ہے۔ ہم بحیثیتِ معاشرہ فضول خرچی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جوتے کی مرمت کروانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور معمولی خرابی پر نیا جوڑا خرید لیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے مرمت کے کلچر کو تقریباً ترک کر دیا ہے۔ مہنگے سے مہنگا جوتا بھی اگر معمولی خرابی کا شکار ہو جائے تو ہم اسے مرمت کروانے کے بجائے نیا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جوتے کی مرمت کروانا ہمیں اپنی توہین محسوس ہوتا ہے، حالانکہ یہ رویہ نہ صرف فضول خرچی بلکہ اسراف کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ایک طرف ہم بڑھتی مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں اور دوسری طرف قابلِ استعمال اشیاء کو معمولی خرابی کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں۔ اگر ہم مرمت کی روایت کو دوبارہ اپنائیں تو نہ صرف اپنے اخراجات کم کر سکتے ہیں بلکہ ہنرمند طبقے کے روزگار کو بھی سہارا دے سکتے ہیں۔
حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسعت عطا کی ہے تو کم از کم پرانے جوتے مرمت کروا کر کسی ضرورت مند، مزدور یا غریب شخص کو دیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف ایک ہنرمند کا روزگار برقرار رہتا ہے بلکہ کسی مستحق کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے۔ یوں ایک چھوٹا سا عمل معاشرے میں احساسِ ذمہ داری، کفایت شعاری اور انسان دوستی کو فروغ دے سکتا ہے۔
موچی کا کام بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مکمل ہنر ہے۔ چمڑے کی پہچان، جوتے کی ساخت کو سمجھنا، سلائی اور مرمت کی باریکیاں جاننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ مہارت ہے جو برسوں کی محنت اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ افسوس کہ ایسے ہنر آج ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آج کل جو بھی موچی نظر آتا ہے، وہ زیادہ تر عمر رسیدہ شخص ہوتا ہے۔ نوجوان نسل اس پیشے میں آنا پسند نہیں کرتی۔ شاید اس کی وجہ کم آمدنی، معاشرتی رویے یا بہتر مواقع کی تلاش ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس ہنر کے وارث کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں "موچی" کا لفظ پڑھیں اور اس پیشے سے عملی طور پر ناواقف ہوں۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک پیشے کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ہنر، ایک روایت اور ایک ثقافتی ورثے کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فنی تعلیم اور روایتی ہنر مندوں کی سرپرستی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ایسے پیشوں سے وابستہ افراد کو آسان قرضے، جدید تربیت اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے ہنر کو نئی نسل تک منتقل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی فنی تعلیم کو وہ اہمیت دی جانی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔
موچی بظاہر ایک فرد ہے، مگر درحقیقت وہ ایک ہنر، ایک پیشہ اور ایک پوری صنعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے روایتی ہنر مندوں کی قدر نہ کی تو آنے والے وقت میں ہم صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیں گے۔ ترقی کا مطلب صرف نئی چیزیں اپنانا نہیں، بلکہ اپنی مفید روایات، ہنر اور محنت کش طبقے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ ✍️🌹
از قلم: سہیل اختر راؤ
مبارکباد صرف نوکری پر؟
ہمارے معاشرے میں کامیابی کا ایک روایتی پیمانہ طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ اگر کوئی نوجوان اچھی سرکاری یا نجی نوکری حاصل کر لے تو اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے، گھر والوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور معاشرہ بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لیکن جب کوئی نوجوان کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کرے تو اکثر اس کے سامنے سوالات، خدشات اور حوصلہ شکنی کی ایک لمبی فہرست رکھ دی جاتی ہے۔
نوکری حاصل کرنے والے کو مبارکبادوں، تعریفوں اور عزت سے نوازا جاتا ہے، خاص طور پر اگر وہ اچھی پوسٹ یا بڑا گریڈ ہو۔ لیکن جب کوئی شخص کاروبار شروع کرتا ہے، رسک لیتا ہے اور اپنی محفوظ روٹین کو چھوڑ کر نئی راہ اختیار کرتا ہے تو اکثر اسے وہ پذیرائی نہیں ملتی۔ اس کے برعکس اسے سوالات اور خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے: "کاروبار میں رسک ہے"، "نوکری کیوں نہیں کر لیتے؟"، "اگر نقصان ہو گیا تو؟"
کاروبار شروع کرنا آسان کام نہیں۔ اس میں سرمایہ، محنت، صبر، مسلسل جدوجہد اور نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص اپنی جمع پونجی، وقت اور خواب سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں کاروبار کو اکثر نوکری کے مقابلے میں کم محفوظ اور کم باعزت سمجھا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم کسی کامیاب کاروباری کی کامیابی تو دیکھتے ہیں مگر اس کے پیچھے چھپی جدوجہد، ناکامیاں اور قربانیاں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان معاشرتی دباؤ کے باعث اپنے خواب چھوڑ کر صرف نوکری کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔
اس سوچ کی جڑیں ہمارے گھروں اور تعلیمی نظام تک پھیلی ہوئی ہیں۔ والدین کی اکثریت بچوں سے پوچھتی ہے کہ بڑے ہو کر کون سی نوکری کرو گے، لیکن بہت کم والدین یہ پوچھتے ہیں کہ بڑے ہو کر کون سا کاروبار شروع کرو گے۔ بچپن سے ہی ذہن میں نوکری کو کامیابی اور کاروبار کو غیر یقینی راستہ سمجھا دیا جاتا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کو صرف نوکری کرنے والے افراد نہیں بلکہ کاروبار پیدا کرنے والے لوگ زیادہ درکار ہیں۔
دنیا کی مضبوط معیشتیں صرف ملازمین کے سہارے نہیں بلکہ کاروباری افراد، تاجروں اور نئے مواقع پیدا کرنے والوں کی بدولت ترقی کرتی ہیں۔ ایک کامیاب کاروبار نہ صرف ایک فرد کی آمدنی بڑھاتا ہے بلکہ روزگار پیدا کرتا ہے، مارکیٹ کو متحرک کرتا ہے اور معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں آتے ہیں، وہاں صرف نوکریاں کافی نہیں ہو سکتیں۔ حکومتیں اتنی نوکریاں پیدا نہیں کر سکتیں جتنی ضرورت ہے، اس خلا کو کاروبار، تجارت اور خود روزگاری ہی پورا کر سکتے ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ہر شخص کاروبار کے لیے نہیں بنا اور نہ ہی ہر کاروبار کامیاب ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر نوکری بھی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت محنت، دیانت داری، وژن اور مسلسل جدوجہد کی ہے، چاہے راستہ کوئی بھی ہو۔
ہمیں اپنی سوچ میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ نوکری کرنے والا بھی قابلِ احترام ہے اور کاروبار کرنے والا بھی۔ لیکن اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی جو رسک لے کر نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف نوکری حاصل کرنے والوں کو نہیں بلکہ کاروبار شروع کرنے والوں کو بھی دل سے مبارکباد دینا سیکھیں۔
کیونکہ نوکری ایک فرد کی زندگی بدل سکتی ہے، لیکن ایک کامیاب کاروبار کئی خاندانوں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
از قلم: سہیل اختر راؤ ✍️
عید الاضحیٰ — قربانی کے ساتھ ایک نیا عہد
عید الاضحیٰ صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس، انا، نفرتوں، غرور اور برے رویوں کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم صرف رسم ادا کر رہے ہیں یا واقعی قربانی کے مقصد کو سمجھ بھی رہے ہیں؟اگر ہمارے دلوں میں انسانیت، محبت، صبر، ایثار اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا نہیں ہو رہی تو ہمیں اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔
اس عید پر ہمیں خاص طور پر اپنے اُن رشتہ داروں، پڑوسیوں اور سفید پوش لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔نبی کریم ﷺ نے بھی قربانی کے گوشت میں دوسروں کا حق رکھنے کی تلقین فرمائی۔کوشش کریں کہ اپنے قریب ترین ضرورت مند رشتہ داروں کا بھرم رکھا جائے، ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور محبت کے ساتھ ان تک قربانی کا حصہ پہنچایا جائے۔
عید کے اِن پُرمسرت موقعوں پر اگر ہم اپنا فریزر بھرنے کے بجائے کسی غریب کا پیٹ بھر دیں، کسی ضرورت مند کے گھر خوشیاں پہنچا دیں، تو شاید یہی قربانی کی اصل روح کے زیادہ قریب ہوگا۔کیونکہ اصل خوشی صرف اپنے لیے جمع کرنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔
اور انہی دو دنوں میں صرف مصروفیات یا آرام میں وقت گزارنے کے بجائے کوشش کریں کہ اپنے قریب ترین لوگوں، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور فیملی کے ساتھ وقت گزاریں۔اکٹھے بیٹھیں، کھانا کھائیں، باتیں کریں، تصاویر بنائیں اور خوبصورت لمحے اپنے دلوں میں محفوظ کریں۔کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، اگلے ایک سال کے دوران کون ہمارے ساتھ ہو یا نہ ہو، یہ ہم نہیں جانتے، مگر یہ خوبصورت یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔میری زندگی میں عید کا سب سے خوبصورت اور دل کو سکون دینے والا لمحہ وہ ہوتا ہے جب میں اپنے والد صاحب سے عید ملتا ہوں، ان سے گلے ملتا ہوں۔ یہ لمحہ میرے لیے صرف خوشی نہیں بلکہ عزت، محبت اور دعا جیسا احساس رکھتا ہے۔ والدین کی موجودگی یقیناً اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اور شاید ہر اُس شخص کے دل کو یہ لمحہ خوشی دیتا ہوگا جس کے والدین اس کے ساتھ ہیں۔
اس عید کے موقع پر ہم جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی ذات پر بھی غور کریں۔کم از کم اپنے اندر موجود کسی ایک برائی، ایک عیب یا ایک خامی کو قربان کرنے کا عہد کریں۔چاہے وہ انا ہو، ضد ہو، غصہ ہو، نفرت ہو یا کسی کو معاف نہ کرنے کی عادت۔اگر ہم ہر عید پر اپنی ایک خامی ختم کرنے کی کوشش کریں، تو ان شاء اللہ اگلے سال تک ہم پہلے سے بہتر انسان بن چکے ہوں گے۔پھر اگلے سال ایک اور برائی کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش کریں گے، اور یوں آہستہ آہستہ ہمارا کردار، ہماری سوچ اور ہمارا معاشرہ خوبصورت بنتا چلا جائے گا۔
اسی طرح یہ عید ہمیں نفرتیں ختم کرنے اور رشتے جوڑنے کا بھی پیغام دیتی ہے۔اگر اس سال کسی اپنے سے ناراضگی ہوئی، کسی دوست، عزیز یا رشتہ دار سے دل دکھا، تو اس عید پہ پہل کریں۔قربانی کا حصہ لے کر خود اُس کے گھر جائیں، گلے شکوے ختم کریں، معاف کریں اور معافی مانگیں۔کیونکہ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو ٹوٹے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
آئیں اس عید الاضحیٰ پر ہم ایک نیا عہد کریں کہ ہم صرف جانور ہی نہیں بلکہ اپنی ضد، انا، نفرت، حسد اور لڑائی جھگڑوں کو بھی قربان کریں گے۔محبتیں بانٹیں گے، رشتے نبھائیں گے، غریبوں اور ضرورت مندوں کا سہارا بنیں گے اور ایک بہتر معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
گرمیوں کی چھٹیاں — صرف آرام نہیں، بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری
پچھلے کئی سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کسی نہ کسی وجہ سے اسکولوں میں بار بار چھٹیاں ہو جاتی ہیں۔ کبھی موسم، کبھی حالات، کبھی دیگر مسائل کی وجہ سے بچوں کی تعلیم مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں گرمیوں کی طویل چھٹیاں والدین کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہیں اور ایک بہترین موقع بھی۔
اکثر گھروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا مطلب صرف آرام، موبائل، کھیل کود اور سارا دن بے مقصد مصروفیات سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی دن بچوں کی شخصیت، تعلیم اور تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر والدین چاہیں تو تقریباً پچھتر دن کی یہ چھٹیاں بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ چھٹیوں کے دوران بچوں پر خصوصی توجہ دیں۔ صرف اسکول کے سہارے بیٹھنے کے بجائے خود بھی بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔ روزانہ کچھ وقت نکال کر ان سے پڑھائی کروائیں، ان کی کمزوریاں جانیں اور ان کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو کسی اچھے ٹیچر یا ٹیوٹر کا انتظام کیا جائے تاکہ بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر نہ ٹوٹے۔
آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کا حد سے زیادہ موبائل استعمال بھی بن چکا ہے۔ والدین کوشش کریں کہ بچوں کو غیر ضروری موبائل فون نہ دیا جائے، خاص طور پر سارا دن گیمز اور کارٹونز میں مصروف رہنے سے بچایا جائے۔ کیونکہ یہ چیزیں نہ صرف وقت ضائع کرتی ہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں اور عادات پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ اگر مکمل طور پر موبائل سے دور رکھنا ممکن نہ ہو تو پھر اس کا مثبت استعمال سکھایا جائے، جیسے مائنڈ پزل گیمز، معلوماتی ویڈیوز، تعلیمی ایپس، مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق سیکھنے والی سرگرمیاں اور ذہنی صلاحیت بڑھانے والے پروگرام وغیرہ۔
اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بچوں کو کتاب پڑھنے، اچھی گفتگو، دین، ادب اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی چھٹیاں صرف وقت گزاری نہ بنیں بلکہ ان کی شخصیت میں بہتری کا سبب بنیں۔
گرمیوں کے موسم میں بچوں کی صحت کا خیال رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران بچوں کو غیر ضروری دھوپ سے بچایا جائے، ٹھنڈے اور صاف مشروبات دیے جائیں، متوازن غذا کا اہتمام کیا جائے اور صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ کیونکہ صحت مند بچہ ہی بہتر انداز میں سیکھ اور آگے بڑھ سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین گرمیوں کی چھٹیوں کو صرف “انجوائےمنٹ” تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان دنوں کو بچوں کی تعلیم، تربیت، صحت اور مستقبل پر لگائیں۔ یہی وقت ہے جب ماں باپ اپنے بچوں کے قریب آ سکتے ہیں، ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور انہیں ایک بہتر انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحریر: سہیل اختر راؤ
ملتان بہاولپور روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل — عوام کب تک خوار ہوتی رہے گی؟
آج مجھے ملتان سے بہاولپور سفر کرنے کا اتفاق ہوا، اور اس سفر نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کس قدر بدانتظامی، لالچ اور بے حسی کا شکار ہو چکا ہے۔ خاص طور پر لوکل ہائی ایس سروس میں مسافروں کو جس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے، وہ کسی عذاب سے کم نہیں۔
ٹرانسپورٹ مالکان اور ڈرائیور حضرات اپنی مرضی کے کرائے وصول کر رہے ہیں۔ کسی مسافر سے دو سو روپے، کسی سے ڈھائی سو اور کسی سے تین سو روپے لیے جا رہے ہیں۔ نہ کہیں سرکاری کرایہ نامہ آویزاں ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا موجود ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسٹاپ ٹو اسٹاپ بھی پچاس روپے وصول کیے جا رہے ہیں، چاہے مسافر نے صرف دو کلومیٹر ہی سفر کیوں نہ کرنا ہو۔ غریب عوام، مزدور، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے لوگ مجبوری میں یہ سب برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
صورتحال صرف کرایوں تک محدود نہیں بلکہ مسافروں کی جانوں سے بھی کھیلا جا رہا ہے۔ گاڑیوں میں حد سے زیادہ مسافر بٹھائے جاتے ہیں۔ خواتین، بزرگ اور بچے شدید دھکم پیل کا شکار ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی لوگ گاڑی کے دروازوں اور پچھلے اسٹینڈ پر کھڑے ہو کر سفر کرتے ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
آج جس ہائی ایس میں سفر ہوا، اس میں ڈرائیور کے علاوہ فرنٹ سیٹ پر تین افراد بٹھائے گئے تھے۔ گاڑی کے سائیڈ والے حصے، جہاں عام طور پر سامان یا محدود نشست ہوتی ہے، وہاں بھی چار افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ گاڑی کی چھت اور سیڑھیوں کے اوپر سامان اس قدر رکھا گیا تھا کہ واضح اوورلوڈنگ نظر آ رہی تھی۔ ٹریفک پولیس نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور گاڑی کا چالان بھی کیا، مگر افسوس کہ اتنی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود صرف ایک ہزار روپے جرمانہ لے کر گاڑی کو چھوڑ دیا گیایک اور انتہائی تکلیف دہ مسئلہ یہ ہے کہ ٹرانسپورٹر حضرات مسافروں کو اُن کی منزل تک عزت اور ذمہ داری کے ساتھ پہنچانے کے بجائے راستے میں جہاں مرضی چاہیں اتار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملتان سے بہاولپور جانے والی سواریاں اگر راستے میں کسی بستی یا اسٹاپ پر کم رہ جائیں تو ڈرائیور وہیں گاڑی خالی کر کے باقی دو چار مسافروں کو اتار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ “گاڑی خالی ہو گئی، آگے دوسری گاڑی پکڑ لیں۔” یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ مسافروں خصوصاً خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے شدید اذیت اور ذلت کا باعث بنتا ہے۔ا۔
سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ چند ہی لمحوں بعد اسی گاڑی نے دوبارہ مزید مسافر کھڑے کر لیے۔ لوگ سائیڈوں پر اور پیچھے لٹک کر سفر کرنے پر مجبور تھے۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ معمولی جرمانے ان ٹرانسپورٹرز کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب تک سخت کارروائی، بھاری جرمانے اور پرمٹ منسوخی جیسے اقدامات نہیں ہوں گے، عوام اسی طرح ذلیل اور خطرے میں سفر کرتی رہے گی۔
ملتان بہاولپور روڈ پر سفر کرنے والی عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ:
- سرکاری کرایہ نامہ ہر گاڑی میں لازمی آویزاں کروایا جائے۔- اسٹاپ ٹو اسٹاپ من مانی وصولیوں کا خاتمہ کیا جائے۔- اوورلوڈنگ اور خطرناک سفر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔- مسافروں خصوصاً خواتین، بزرگوں اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔- بار بار قانون توڑنے والی گاڑیوں کے پرمٹ منسوخ کیے جائیں۔- پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مستقل نگرانی میں لایا جائے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے عوام کو دی جانے والی سہولیات سے ہوتی ہے۔ اگر غریب آدمی عزت اور سکون کے ساتھ سفر بھی نہ کر سکے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ عوام کو صرف کرایہ دینے والی سواری نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے، کیونکہ محفوظ اور باعزت سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
تحریر: سہیل اختر راؤ
گداگری — مجبوری یا باقاعدہ کاروبار؟
از قلم: سہیل اختر راو
آج ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ گداگری ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ صرف مجبوری نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ پیشہ اور کاروبار بن چکی ہے۔چوک، بازار، بس اسٹینڈ، درگاہیں، ہسپتال، ٹریفک سگنل — ہر جگہ ایک ہی منظر نظر آتا ہے۔ معصوم بچوں کے ہاتھ پھیلائے جا رہے ہیں، عورتوں کو آگے کر دیا گیا ہے، اور صحت مند مرد محنت کے بجائے بھیک مانگنے کو آسان ذریعۂ آمدن بنا چکے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف مانگنے والوں کا نہیں، بلکہ ہم جیسے لوگوں کا بھی ہے۔کیونکہ ہم بنا سوچے سمجھے ہر آنے والے کو پیسے دے دیتے ہیں۔نہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ واقعی وہ مجبور ہے یا نہیں، نہ یہ سوچتے ہیں کہ آج دیا جانے والا یہ چند روپیہ کل اس کی سستی، بے غیرتی اور نکمے پن کو مزید مضبوط کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ پیشہ ور ہیں۔دیہاتوں میں ان کے گھر موجود ہیں، کئی لوگوں نے جانور پال رکھے ہیں، مرغے لڑاتے ہیں، نشے کرتے ہیں، دن بھر چوپڑیوں اور ڈیروں میں بیٹھے رہتے ہیں، جبکہ کم عمر بچوں اور عورتوں کو بازاروں میں بھیج دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے پیسہ اکٹھا کیا جا سکے۔یہ غربت کم اور کاروبار زیادہ لگتا ہے۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض پیشہ ور گداگر معذور افراد کو بھی استعمال کرتے ہیں۔لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے معذور بچوں اور افراد سے بھیک منگوائی جاتی ہے، کیونکہ لوگ ترس کھا کر زیادہ پیسے دے دیتے ہیں۔یہ انسانیت نہیں بلکہ معذوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کرے اور معذور افراد کو سڑکوں پر ذلیل ہونے کے بجائے تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کرے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ ہر ضرورت مند کو بھکاری بنانا حل نہیں۔اصل مدد یہ ہے کہ کسی کو ہنر سکھایا جائے، روزگار دیا جائے، اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے، نہ کہ پوری زندگی اس کے ہاتھ میں کشکول تھما دیا جائے۔
سب سے بڑا ظلم ان معصوم بچوں پر ہو رہا ہے جن کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی مگر انہیں بھیک مانگنے پر لگا دیا گیا۔آج وہ سڑکوں پر مانگ رہے ہیں، کل یہی بچے جرائم، نشے اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیے جائیں گے۔جو قوم اپنے بچوں کو محنت کے بجائے مانگنے کی عادت ڈال دے، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
حکومت بھی چند دن کارروائیاں کرتی ہے، چند گرفتاریاں ہوتی ہیں، خبریں بنتی ہیں، پھر سب خاموش ہو جاتا ہے۔نہ مستقل قانون سازی ہوتی ہے، نہ بحالی کے مراکز بنتے ہیں، نہ ان مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے جو اس دھندے کو چلا رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف حکومت نہیں، عوام بھی اپنی سوچ بدلیں۔ہر ہاتھ پھیلانے والے کو پیسے دینا نیکی نہیں، بعض اوقات یہ ایک برائی کو زندہ رکھنے کے برابر ہوتا ہے۔اگر واقعی مدد کرنی ہے تو کسی مستحق کو روزگار دیں، کھانا کھلائیں، علاج کروائیں، مگر پیشہ ور گداگری کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔
قومیں محنت سے بنتی ہیں، بھیک سے نہیں۔اور یاد رکھیں:
"جس معاشرے میں محنت شرمندہ اور مانگنا آسان ہو جائے، وہاں غیرت آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔"
بچوں کے اسکول میں داخلے سے پہلے والدین کی ذمہ داریاں
از قلم: سہیل اختر راؤ
بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی پوری زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ایک کامیاب انسان بننے کے لیے اچھی ابتدائی تعلیم بے حد اہم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں، خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں، اکثر والدین بچوں کو اسکول میں داخل کرواتے وقت صرف فیس یا گھر سے فاصلے کو دیکھتے ہیں، جبکہ بہت سی اہم باتوں پر توجہ نہیں دیتے۔ بعد میں یہی غفلت بچے کی تعلیم، تربیت اور شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچے کا داخلہ کروانے سے پہلے اسکول کے ماحول اور معیار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسکول کا گزشتہ تعلیمی ریکارڈ کیسا ہے۔ وہاں کے رزلٹس کیا رہے ہیں؟ بچوں کی کارکردگی بہتر ہے یا نہیں؟ ایک اچھا رزلٹ اس بات کی نشانی ہوتا ہے کہ وہاں تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسکول کے اساتذہ کی قابلیت جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر استاد خود تعلیم یافتہ، بااخلاق اور تربیت یافتہ ہوں گے تو وہ بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں گے۔ کیونکہ بچے اپنی ابتدائی عمر میں وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں۔
اسکول کا ماحول بھی بے حد اہم ہوتا ہے۔ والدین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہاں صفائی کا مناسب انتظام ہے یا نہیں، کلاس روم ہوادار ہیں یا نہیں، پنکھے موجود ہیں یا نہیں، بچوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب کرسیاں اور میزیں ہیں یا نہیں۔ پینے کے صاف پانی کا انتظام اور واش رومز کی صفائی بھی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ اگر ایک بچہ گندے ماحول میں تعلیم حاصل کرے گا تو اس کی صحت اور ذہنی نشوونما دونوں متاثر ہوں گی۔
اسی طرح والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسکول میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے یا نہیں۔ صرف کتابی تعلیم کافی نہیں ہوتی بلکہ اچھا اخلاق، نظم و ضبط اور ادب بھی ایک کامیاب انسان کی پہچان ہے۔
خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں والدین کو چاہیے کہ وہ صرف دوسروں کی دیکھا دیکھی یا کم فیس کی وجہ سے فیصلہ نہ کریں، بلکہ بچے کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر اسکول کا انتخاب کریں۔ کیونکہ آج کی صحیح توجہ کل بچے کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچے کا اسکول صرف ایک عمارت نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں سے اس کی شخصیت، سوچ اور مستقبل کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔ اس لیے ہر والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے داخلے سے پہلے مکمل تحقیق کریں تاکہ ان کا بچہ ایک محفوظ، صاف اور معیاری تعلیمی ماحول حاصل کر سکے۔
قوموں کے مستقبل میدانِ جنگ میں نہیں، درسگاہوں میں محفوظ ہوتے ہیں۔ آج اگر ہم فیول کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کے دروازے بار بار بند کرتے رہے، کبھی دو دن کلاسز، کبھی تین دن، اور پھر اچانک تعطیلات… تو یاد رکھیے اس کا سب سے گہرا اثر اُن معصوم ذہنوں پر پڑے گا جن کے ہاتھوں میں کل اس ملک کی تقدیر ہونی ہے۔
موجودہ حالات اپنی جگہ حساس ہیں، وسائل کی بچت بھی ضروری ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ تعلیم میں آنے والا یہ خلل آنے والے وقت میں کتنی بڑی محرومی بن سکتا ہے؟ ایک طالبِ علم کا ٹوٹتا ہوا تعلیمی تسلسل صرف چند دنوں کا نقصان نہیں ہوتا، یہ اُس کے اعتماد، محنت اور خوابوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
آج کا بچہ پہلے ہی بے شمار ذہنی دباؤ، تعلیمی مقابلے اور بدلتے نظامِ تعلیم کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مسلسل تعطیلات اور غیر یقینی صورتحال اُن کے اندر مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ والدین پریشان ہیں، اساتذہ فکرمند ہیں، اور طلبہ اپنے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
اربابِ اختیار سے مؤدبانہ مگر پُرزور گزارش ہے کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ ایسا لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے جس میں وسائل کی بچت بھی ممکن ہو اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔ کیونکہ اگر قوم کے بچوں کا تعلیمی وقت ضائع ہو گیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
یاد رکھیے…ایندھن کی کمی شاید کچھ عرصے بعد پوری ہو جائے،مگر تعلیم کا نقصان نسلوں تک باقی رہ جاتا ہے۔
read please, best lines
Mothers day special pic