از قلم: سہیل اختر راؤ
ایک ہنر، ایک پیشہ، ایک فرد — دم توڑتی ایک صنعت: موچی
کسی بھی معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا بڑے کاروباری مراکز سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہنرمند افراد بھی اس کی شناخت ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں کی محنت، مہارت اور تجربے سے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ معاشرے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کئی روایتی ہنر اور پیشے وقت کے ساتھ دم توڑتے جا رہے ہیں، جن میں موچی کا پیشہ بھی شامل ہے۔
اس موضوع پر لکھنے کا خیال مجھے اس وقت آیا جب گزشتہ روز ایک جوتے کی مرمت کروانے کے لیے مجھے ملتان جیسے بڑے شہر میں تقریباً آٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جدید مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور برانڈڈ جوتوں کی دکانوں کی بھرمار کے باوجود ایک اچھا موچی تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تب احساس ہوا کہ جس پیشے کو کبھی ہر بازار، گلی اور محلے کی ضرورت سمجھا جاتا تھا، وہ آج آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے رخصت ہوتا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب موچی ہر بازار کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ جوتوں کی مرمت، سلائی، پالش اور چمڑے کے کام میں اس کی مہارت قابلِ تعریف ہوتی تھی۔ ایک اچھا موچی پرانے اور بوسیدہ جوتے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیتا تھا۔ لوگ اپنے جوتے سنبھال کر رکھتے، ضرورت پڑنے پر مرمت کرواتے اور چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے ان سے بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
مگر آج حالات مختلف ہیں۔ فیکٹریوں میں تیار ہونے والے سستے جوتوں اور تیزی سے بدلتے فیشن نے لوگوں کی سوچ بدل دی ہے۔ ہم بحیثیتِ معاشرہ فضول خرچی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جوتے کی مرمت کروانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور معمولی خرابی پر نیا جوڑا خرید لیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے مرمت کے کلچر کو تقریباً ترک کر دیا ہے۔ مہنگے سے مہنگا جوتا بھی اگر معمولی خرابی کا شکار ہو جائے تو ہم اسے مرمت کروانے کے بجائے نیا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جوتے کی مرمت کروانا ہمیں اپنی توہین محسوس ہوتا ہے، حالانکہ یہ رویہ نہ صرف فضول خرچی بلکہ اسراف کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ایک طرف ہم بڑھتی مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں اور دوسری طرف قابلِ استعمال اشیاء کو معمولی خرابی کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں۔ اگر ہم مرمت کی روایت کو دوبارہ اپنائیں تو نہ صرف اپنے اخراجات کم کر سکتے ہیں بلکہ ہنرمند طبقے کے روزگار کو بھی سہارا دے سکتے ہیں۔
حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسعت عطا کی ہے تو کم از کم پرانے جوتے مرمت کروا کر کسی ضرورت مند، مزدور یا غریب شخص کو دیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف ایک ہنرمند کا روزگار برقرار رہتا ہے بلکہ کسی مستحق کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے۔ یوں ایک چھوٹا سا عمل معاشرے میں احساسِ ذمہ داری، کفایت شعاری اور انسان دوستی کو فروغ دے سکتا ہے۔
موچی کا کام بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مکمل ہنر ہے۔ چمڑے کی پہچان، جوتے کی ساخت کو سمجھنا، سلائی اور مرمت کی باریکیاں جاننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ مہارت ہے جو برسوں کی محنت اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ افسوس کہ ایسے ہنر آج ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آج کل جو بھی موچی نظر آتا ہے، وہ زیادہ تر عمر رسیدہ شخص ہوتا ہے۔ نوجوان نسل اس پیشے میں آنا پسند نہیں کرتی۔ شاید اس کی وجہ کم آمدنی، معاشرتی رویے یا بہتر مواقع کی تلاش ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس ہنر کے وارث کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں "موچی" کا لفظ پڑھیں اور اس پیشے سے عملی طور پر ناواقف ہوں۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک پیشے کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ہنر، ایک روایت اور ایک ثقافتی ورثے کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فنی تعلیم اور روایتی ہنر مندوں کی سرپرستی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ایسے پیشوں سے وابستہ افراد کو آسان قرضے، جدید تربیت اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے ہنر کو نئی نسل تک منتقل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی فنی تعلیم کو وہ اہمیت دی جانی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔
موچی بظاہر ایک فرد ہے، مگر درحقیقت وہ ایک ہنر، ایک پیشہ اور ایک پوری صنعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے روایتی ہنر مندوں کی قدر نہ کی تو آنے والے وقت میں ہم صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیں گے۔ ترقی کا مطلب صرف نئی چیزیں اپنانا نہیں، بلکہ اپنی مفید روایات، ہنر اور محنت کش طبقے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ ✍️🌹