Live Audio

بند الماریوں کے قیدیچند روز پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔ کمرے کے ایک کونے میں بڑی سی الماری تھی — شیشے کے پیچھے کتابیں سجی ہوئی تھیں، جیسے نمائش میں رکھی گئی ہوں۔ اوپر دھول کی ایک باریک چادر بچھی تھی۔ میزبان کے ہاتھ میں موبائل تھا، انگلیاں مسلسل سکرین پر پھسل رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: "یہ کتابیں کب سے بند ہیں؟" وہ مسکرایا اور بولا: "یاد نہیں۔"بس یہی لمحہ مجھے آج بھی کچوکے لگاتا ہے۔ایک وقت تھا جب نوجوانوں کی محفلوں میں کتابوں پر جھگڑے ہوتے تھے۔ کوئی کہتا نسیم حجازی کا "خاک اور خون" بہترین ہے، کوئی ابنِ صفی کا دفاع کرتا، کوئی "خدا کی بستی" کو سینے سے لگائے بیٹھا ہوتا۔ اشفاق احمد کی باتیں دہرائی جاتیں، بانو قدسیہ کے جملے زبان پر چڑھے ہوتے۔ کتاب پڑھنا محض شوق نہیں تھا — یہ ایک طرزِ زندگی تھی، ایک تہذیبی روایت تھی۔آج وہ الماریاں بند ہیں اور موبائل کھلا ہے۔سوچتا ہوں — یہ کتابیں جو سالوں سے بند پڑی ہیں، ان کے اندر کتنے سفر ہوں گے جو طے نہ ہوئے، کتنے سوال ہوں گے جو نہ اُٹھے، کتنی بصیرت ہوگی جو ابھی تک قید ہے۔ کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں ہوتی — وہ صدیوں کی تہذیب کی امانت ہوتی ہے، اہلِ علم کی محنتِ عمر کا نچوڑ ہوتی ہے۔اور افسوس یہ ہے کہ یہ صرف ادب کی کتابوں تک محدود نہیں رہا۔قرآنِ مجید — وہ کتاب جو ہر گھر میں موجود ہے — وہ بھی اکثر اوپری طاق پر غلاف میں لپٹی ہوتی ہے۔ پڑھی جاتی ہے مگر سمجھی نہیں جاتی، سمجھی جاتی ہے مگر اتاری نہیں جاتی۔ حالانکہ یہی وہ کتاب ہے جس نے ایک پڑھے لکھے معاشرے کو "اقرأ" کا حکم دیا تھا — محض تلاوت کا نہیں، تدبر کا۔موبائل نے ہمیں اطلاعات کا سیلاب دیا ہے، مگر سوچنے کی فرصت چھین لی ہے۔ ریلز اور شارٹس میں ہم اتنے ڈوبے ہیں کہ ایک پورا مضمون پڑھنا گراں لگتا ہے۔ "لائک" ملے تو خوشی، "کمنٹ" ملے تو سکون — یہ فوری تسکین اب ہماری ضرورت بن چکی ہے۔ مگر یہ وہ سکون نہیں جو ایک اچھی کتاب کا آخری صفحہ بند کرنے کے بعد ملتا ہے۔الماریوں پر جمی دھول دراصل ہمارے اذہان کی کیفیت کا آئینہ ہے۔ابھی بھی وقت ہے۔ الماری کا تالہ کھولیے، کوئی ایک کتاب نکالیے — بس ایک۔ دھول جھاڑیے اور پہلا صفحہ پڑھیے۔ یقین کیجیے، وہ خاموش الفاظ آپ سے ضرور باتیں کریں گے۔کیونکہ زندہ قومیں صرف سکرینوں کی روشنی میں نہیں چلتیں — انہیں کتابوں کی روشنی بھی چاہیے ہوتی ہے۔اپنے پسندیدہ ترین کتاب کو نام لکھے جس کو اپنے دیکھا ہو؟..
سمارٹ واچ میں کنیکٹیویٹی اور اسمارٹ فیچرز
اسمارٹ واچز کا بنیادی مقصد آپ کی روزمرہ زندگی کو زیادہ آسان، منظم اور مؤثر بنانا ہے۔ جدید اسمارٹ واچز مختلف اسمارٹ فیچرز اور کنیکٹیویٹی آپشنز کے ذریعے آپ کو اپنی ڈیجیٹل دنیا سے ہر وقت جڑے رہنے میں مدد دیتی ہیں۔
اپنی ضروریات کے مطابق درج ذیل فیچرز پر غور کریں:
📶 بلوٹوتھ اور Wi-Fi کنیکٹیویٹییہ بنیادی فیچرز آپ کی اسمارٹ واچ کو موبائل فون کے ساتھ منسلک رکھتے ہیں، جس کی مدد سے نوٹیفکیشنز، کالز، پیغامات اور دیگر معلومات آسانی سے سنک ہوتی رہتی ہیں۔
📱 LTE / eSIM سپورٹeSIM یا LTE والی اسمارٹ واچ آپ کو فون کے بغیر بھی کال کرنے، پیغامات وصول کرنے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ فیچر ان افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو اکثر سفر کرتے ہیں یا ورزش کے دوران فون ساتھ رکھنا پسند نہیں کرتے۔
💳 NFC پیمنٹسNFC سپورٹ کے ذریعے آپ اپنی واچ سے براہِ راست ڈیجیٹل ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز جیسے Google Pay، Apple Pay اور دیگر موبائل پیمنٹ سروسز اس سہولت کو ممکن بناتے ہیں۔
🎵 میوزک پلے بیککئی اسمارٹ واچز مقامی اسٹوریج یا اسٹریمنگ سروسز کے ذریعے موسیقی سننے کی سہولت دیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ورزش یا سفر کے دوران فون نکالے بغیر اپنی پسندیدہ موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
🎙️ وائس اسسٹنٹ سپورٹGoogle Assistant، Siri یا Alexa جیسے وائس اسسٹنٹس کی مدد سے آپ صرف آواز کے ذریعے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں، جیسے کال کرنا، ریمائنڈر سیٹ کرنا، سوالات پوچھنا یا اسمارٹ ڈیوائسز کو کنٹرول کرنا۔
اگر آپ اکثر سفر کرتے ہیں یا ورزش کے دوران فون ساتھ نہیں رکھتے تو ایسی اسمارٹ واچ جو eSIM سپورٹ، آف لائن میوزک اسٹوریج اور جدید کنیکٹیویٹی فیچرز فراہم کرتی ہو، آپ کے لیے واقعی ایک بہترین اور کارآمد انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔#TimeXSmartWatches #Smartwatchawareness

hy kya hall hai… or kya ho raha hai aj kal👀

کیا ہم اپنے بچوں کے لئے گھر بنا رہے ہیں یا ایسے بچے بنا رہے ہیں جو خود گھر بنا سکیں ـ ہمارے معاشرے میں یہ المیہ ہے کہ بچوں کو ذہنی طور پر بڑا نہیں ہونے دیتے ـ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ میرے بچے کی ابھی عمر ہی کیا ہے ـ کر لے گا جب بڑا ہوگاـ ابھی تو اس کے کھیلنے کے دن ہیں ـ ابھی تو صرف 22 سال کا ہی ہے ابھی یہ ذمہ داریاں کہاں اٹھا سکتا ہے؟زیادہ تر ذمہ داریوں کا بوجھ شادی کے بعد تک کے لئے سنبھال کر رکھا جاتا ہے ـ کہ شادی کے بعد میچور ہو جائے گا ـ سدھر جائے گا ـ ذمہ دار ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ ـ خدارا اپنے بچوں کے ساتھ یہ جاہلانا طرز عمل بند کریں ـ اور اسے میٹرک کے بعد ہی بزنس تجارت جو بھی کاروبار کرنا ہو اس کی ٹریننگ شروع کروا دیا کریں اور یہ جو والد بیچارے نے بیٹوں کے گھر بنانے کی ساری کی ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے ـ اپنے بیٹوں کو جوان ہوتے ہی سونپ دیں ـ اپ اپنی جوانی تو دے چکے ہیں ـ ان کی پرورش کرنے میں 15، 16 سال بہت ہوتے ہیں خالص سونے جیسی شفقت، پیار، محبت تحفظ ،اچھا لباس، اچھی خوراک اچھی نیند ـ یہ سب بہت زیادہ ہے جو اپ اپنی اولاد کے لئے کر چکے ہیں ـ اب انہیں ازاد چھوڑ دیں ـ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ فیصلے کرنے دیں ـ انہیں بتائیں کہ اب انہیں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھانی ہیں اپنے گھر خود بنانے ہیں جتنی جلدی گھر بنا لو گے اتنی جلدی شادی کر دی جائے گی ـ

امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ نے ایک بار کہا تھا کہ


بچوں کو اتنا دو کہ وہ کچھ بھی کر سکیں لیکن اتنا نہ دو کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے


اسلام کی تعلیمات بھی کچھ ایسی ہی ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو ایک انصار نے اپنا ادھا مال پیش کردیا انہوں نے فرمایا

مجھے بازار کا راستہ بتا دو یعنی سہارا نہیں موقع چاہیے

اپ بھی اپنے بچوں کو موقع دیں کہ وہ بار بار کام کریں اور اپنے تجربے سے سیکھیں انہیں وراثت کا عادی نہ بنائیں بلکہ انہیں کمانے کے نئے راستے اور طریقے بتائیں بچپن سے انہیں سکھائیں کہ

اپنا خرچ خود اٹھانا ہے

کام کرو

بچت کرو

اپنی کریڈٹ ہسٹری بناؤ

اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو سمجھو اور انہیں پورا کرو ـ تاکہ معاشرے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکوـ

Bahut garmi hai 🙂
Unfortunately… We live amongst dangerous, jealous and evil people with friendly faces
کیا آپ بھی اپنی ضرورتوں کے لیے بندوں کی طرف دیکھتے ہیں؟ یاد رکھیں، دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ 'یا غنیُ' (Ya Ghani) کا مطلب ہے وہ ذات جو سب سے بے نیاز ہے اور سب کو غنی کرنے والی ہے۔ جو شخص چلتے پھرتے اس نام کا ورد کرتا ہے، اللہ اسے کبھی لوگوں کا محتاج نہیں ہونے دیتا اور اسے ایسی جگہ سے عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اپنی پیشانی کو صرف ایک در پر جھکائیں اور آج سے ہی اس نام کو اپنا معمول بنا لیں۔
یہ ایک بے لگام معاشرہ ہے جہاں تم اپنے خاموش رہنے پر بھی مجرم ٹھہرائے جاتے ہو

Pull down to refresh