Live Audio

فالج اسفل (نچلے دھڑ کا فالج)تفصیل دراصل یہ علامت تصلب جگر وغدد (تیزابیت) تسکین جگر کے سبب ظاہر ہوتی ہےجس وجہ سے بدن کے اندر خشکی بڑھ جاتی ہے خون گاڑھا ہو جاتا ہے جب ان کا اثر حرام مغز پر پڑتا ہے تو وہ اپنا منصبی فعل یعنی بدن کے نچلے دھڑکا کنٹرول چھوڑ دیتا ہے جس کا دوسرا نام بریک ڈاؤن نرو سسٹم ہے اس حالت کا نام فالج اسفل ہےاسباب جب کوئی شخص ایسی غذیہ و ادویا بکثرت کھاتا رہے جن کا مزاج خشک سرد یا خشک گرم ہو ان کے مسلسل و بکثرت کھانے کے نتیجے میں دوسرے لفظوں میں ان کے رد عمل کے باعث محور میں تصلب پیدا ہوتا ہے جس وجہ سے اعصابی نظام معطل ہو جاتا ہے اور نچلے دھڑکی حص و حرکت ختم ہو جاتی ہے
پیشاب بلا ارادہ نکل جاتا ہے کسی کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے اور کسی کا نارمل ہوتا ہے مریض کو نیند نہیں اتی گھبراہٹ ہوتی ہے قبض کا عرصہ ہونے کے ساتھ ساتھ بھوک مر جاتی ہے دن بدن کمزوری بڑھنے لگتی ہے اور بدن میں خون کی کمی بھی ہونے لگتی ہے علاج گرم تر و تر گرم غزیہ اور ادویہ دیں انشاءاللہ یقینی کامیابی ہوگی
💥میں نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہوٹل میں برتن دھونے کے کام پہ لگایا تو۔۔سب نے کہا: ڈآکٹر صاحب بہت سخت باپ ہیں۔۔۔ لیکن 😓😓
میرا نام حارث ہے, ڈاکٹر حارث۔۔عمر بیالیس سال۔
راولپنڈی میں ایک چھوٹا سا کلینک چلاتا ہوں۔ لوگ مجھے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ بعض عزت سے، بعض عادت سے، اور بعض اس لیے کہ میرے نام کے ساتھ ڈگری لگی ہوئی ہے۔
مگر میرے ہاتھوں کی لکیروں میں صرف نسخے نہیں لکھے۔
ان میں گرم پانی کی جلن بھی ہے۔
باسی سالن کی بو بھی ہے۔
اور وہ شرمندگی بھی، جو پہلی کمائی کے ساتھ آدمی کے اندر کہیں خاموشی سے پگھلتی ہے۔
میرا ایک بیٹا ہے۔
عمر۔
پندرہ سال کا۔
دبلا پتلا، لمبا، اچھے اسکول میں پڑھنے والا۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ویڈیوز دیکھتا ہے، مگر گھر کا پنکھا بند کرنا بھول جاتا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ میں روٹی کا ٹکڑا چھوڑ دیتا ہے، جیسے روٹی بھی کوئی عام چیز ہو۔ جوتے کبھی کبھی آج بھی اس کی ماں صاف کر دیتی ہے، اور وہ شکریہ کہنے کے بجائے موبائل دیکھتے ہوئے صرف “ہاں امی” کہہ دیتا ہے۔
میری بیوی ثنا بہت خیال رکھنے والی عورت ہے۔
ماں کا دل شاید اسی مٹی سے بنا ہوتا ہے جس میں دعا زیادہ اور ڈر کم نہیں ہوتا۔ وہ عمر کو دیکھتی ہے تو اسے اب بھی وہی بچہ دکھائی دیتا ہے جو بخار میں اس کی انگلی پکڑ کر سوتا تھا۔ میں عمر کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس کے اندر ایک ایسا لڑکا دکھائی دیتا ہے جو چند سال بعد دنیا کے سامنے اکیلا کھڑا ہو گا، اور دنیا ماں کی طرح اس کے ماتھے پر ہاتھ نہیں رکھے گی۔
گزشتہ شام میں کلینک سے واپس آیا تو ثنا کچن میں کھڑی روٹی اتار رہی تھی۔ عمر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا موبائل میں گم تھا۔ پلیٹ میں آدھی روٹی پڑی تھی، سالن کا چمچ کنارے پر سوکھ رہا تھا۔
میں نے ہاتھ دھوتے ہوئے کہا:
“ثنا، نوید کا فون آیا تھا۔ اس کے ریستوران میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے ایک لڑکا چاہیے۔ دن کے تین چار گھنٹے۔ برتن ترتیب دینا، میزوں سے پلیٹیں اٹھانا، کچن میں ہلکی مدد۔ میں سوچ رہا تھا عمر کو بھیج دوں۔”
ثنا کا ہاتھ رک گیا۔
توا گرم تھا، روٹی پھول رہی تھی، مگر اس کی آنکھیں میری طرف اٹھ گئیں۔
“عمر کو؟”
“ہاں، صرف چند گھنٹے۔ نوید اپنا آدمی ہے۔ دستانے ہوں گے، ایپرن ہو گا، کوئی خطرناک کام نہیں۔”
ثنا نے روٹی پلیٹ میں رکھی، آنچ دھیمی کی اور آہستہ سے بولی:
“حارث، ریستوران کا کام آسان نہیں ہوتا۔ کچن میں گرمی ہوتی ہے، بدبو ہوتی ہے، کام کا دباؤ ہوتا ہے۔ برتن دھونا بہت سخت کام ہے۔ عموماً وہی لڑکا سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ عمر ابھی بچہ ہے۔”
میں نے عمر کی طرف دیکھا۔
وہ شاید سن رہا تھا، مگر موبائل کی اسکرین پر انگلی پھر بھی چل رہی تھی۔
ثنا کا جملہ میرے اندر اتر گیا۔
“سب سے آخر میں نکلتا ہے۔”
جیسے کسی نے پرانی الماری کھول دی ہو، جس میں برسوں سے بند کپڑوں کے ساتھ کچھ بھولی ہوئی بوئیں بھی رکھی رہ گئی ہوں۔
میں ثنا پر غصہ کر سکتا تھا، مگر غصہ آیا نہیں۔
صرف ایک عجیب سی اداسی آئی۔
ثنا کا خوف غلط نہیں تھا۔ ماں بچے کے ہاتھ دیکھتی ہے کہ کہیں کٹ نہ جائیں۔ باپ کبھی کبھی ان ہاتھوں کے اندر چھپا ہوا آدمی دیکھتا ہے کہ کہیں وہ بننے سے پہلے نرم ہی نہ رہ جائے۔
ثنا چاہتی تھی عمر کے ہاتھ محفوظ رہیں۔
میں چاہتا تھا ان ہاتھوں کو کسی دوسرے کے پسینے کی قیمت معلوم ہو۔
رات کو کھانے کے بعد عمر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ثنا برتن سمیٹنے لگی۔ میں نے دیکھا، عمر اپنی پلیٹ وہیں چھوڑ گیا تھا۔
ثنا نے بغیر کچھ کہے وہ پلیٹ اٹھائی۔
اس پلیٹ میں روٹی کا آدھا ٹکڑا پڑا تھا۔
مجھے اچانک صدر کا وہ چھوٹا سا ریستوران یاد آ گیا۔
میں شاید بارہ تیرہ سال کا تھا۔
ابو کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر میں پیسوں کی تنگی اتنی خاموش تھی کہ امی آٹا گوندتے ہوئے بھی حساب لگاتی رہتیں۔ میں نے چھٹیوں میں کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ پہلے محلے میں اخبار ڈالے۔ فجر سے پہلے سائیکل نکالتا۔ سردیوں میں ہاتھ جم جاتے۔ گرمیوں میں پسینہ قمیض کے اندر نمک بن جاتا۔
پھر ایک دن ایک جاننے والے نے مجھے صدر کے ایک ریستوران میں لگا دیا۔
سامنے ہال میں روشنی تھی۔
پیچھے کچن میں بھاپ تھی۔
سامنے لوگ پلیٹیں سجا کر کھاتے تھے۔
پیچھے ہم ان پلیٹوں سے بچا ہوا سالن، مچھلی کی بو، چاول کے دانے اور چکنی ہڈیاں الگ کرتے تھے۔
برتن دھونا کوئی کام نہیں تھا۔
ایک چھوٹی سی جنگ تھی۔
گرم پانی، صابن، چکنائی، شور، جلدی، ڈانٹ، اور آخر میں وہ بدبو جو کپڑوں میں نہیں، آدمی کے غرور میں بس جاتی ہے۔
ایک شام گھر آیا تو امی نے دروازے پر ہی کہا:
“حارث، پہلے نہا لو، بہت بو آ رہی ہے۔”
میں نے جھنجھلا کر کہا:
“امی، یہ کام انسانوں والا نہیں ہے۔”
ابو چارپائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اخبار نیچے کیا۔ میری طرف دیکھا۔ آواز بہت دھیمی تھی۔
“کام انسانوں والا ہی ہوتا ہے بیٹا۔ بس کبھی کبھی انسان کام کے قابل نہیں رہتا۔”
میں اس وقت سمجھا نہیں۔
بارہ سال کا لڑکا نصیحت نہیں سمجھتا۔ اسے صرف اپنی تکلیف سچ لگتی ہے۔
مگر آج، اتنے برس بعد، وہ جملہ میرے اندر پھر سے زندہ ہو گیا۔
رات کو میں عمر کے کمرے کے دروازے پر گیا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔ وہ بیڈ پر لیٹا موبائل دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں ائیر فریشنر کی خوشبو تھی، میز پر کتابیں بکھری تھیں، اور ایک خالی جوس کا ڈبہ فرش پر پڑا تھا۔
میں نے کہا:
“بات کرنی ہے۔”
اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا۔
“جی ابا۔”
میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“عمر، ایک بات یاد رکھنا۔ کبھی یہ نہ سوچنا کہ تم کسی کام کے لیے بہت بڑے ہو۔ آدمی کام سے چھوٹا نہیں ہوتا، کام سے بھاگ کر چھوٹا ہو جاتا ہے۔”
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
میں نے کہا:
“اگر کوئی کہے کہ تم برتن دھونے کے لیے نہیں بنے، تو اس سے پوچھنا کہ پھر برتن دھونے والے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں؟”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
میں نے اس کی میز پر پڑا جوس کا خالی ڈبہ اٹھایا اور ڈسٹ بن میں ڈالتے ہوئے کہا:
“مشکل کام آدمی کو جلدی بڑا کرتا ہے۔ آسان کام صرف وقت گزارتا ہے، مشکل کام آنکھ کھولتا ہے۔ اگر تم کچن میں کھڑے ہو کر لوگوں کی چھوڑی ہوئی پلیٹیں صاف کرو گے تو شاید پہلی بار سمجھو گے کہ کھانا ضائع کرنا صرف بری عادت نہیں، کسی اور کی محنت کی بے عزتی بھی ہے۔”
عمر نے آہستہ سے کہا:
“امی کہہ رہی تھیں کام بہت سخت ہے۔”
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں،” میں نے فوراً کہا۔
وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا۔
“کام سخت ہے۔ اسی لیے ضروری ہے۔ بس اتنا خیال رہے گا کہ تم سے کوئی غیر محفوظ یا حد سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔ تم مزدور بننے نہیں جا رہے، مزدور کی عزت سیکھنے جا رہے ہو۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
میں نے اسے اپنے پہلے کاموں کے بارے میں بتایا۔ اخبار بانٹنے کے بارے میں۔ ریستوران کے سنک کے بارے میں۔ گرم پانی سے سکڑتی انگلیوں کے بارے میں۔ کلب کے گراؤنڈ میں نالیاں صاف کرنے کے بارے میں۔ اس ریٹائرڈ حوالدار کے بارے میں جس نے مجھے کہا تھا:
“آسان کرسی پر بیٹھنے سے پہلے مشکل زمین پر کھڑا ہونا سیکھو۔”
عمر نے پہلی بار پوری توجہ سے میری طرف دیکھا۔
شاید بچوں کو اپنے والدین کی کہانیاں تب سمجھ آتی ہیں جب وہ ان میں نصیحت کم اور پسینہ زیادہ محسوس کریں۔
میں نے آخر میں کہا:
“کل نوید انکل کے پاس چلے جانا۔ صرف تین گھنٹے۔ دستانے پہننا۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے فون کرنا۔ اور اگر مشکل لگے تو فوراً چھوڑنے کا فیصلہ نہ کرنا۔ پہلے سمجھنا کہ مشکل کس چیز کا نام ہے۔”
وہ دیر تک چپ رہا۔
پھر بولا:
“ٹھیک ہے ابا۔ میں کوشش کر لوں گا۔”
دروازے کے باہر ثنا کھڑی تھی۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
صرف اتنا کیا کہ صبح عمر کے لیے صاف قمیض استری کر کے رکھ دی۔
یہی عورت کا اختلاف ہوتا ہے۔ زبان سے “نہیں” کہتی ہے، مگر بچے کے بیگ میں احتیاط سے پانی کی بوتل رکھ دیتی ہے۔
اگلی صبح نوید کا فون آیا۔
“ڈاکٹر صاحب، آپ کا شہزادہ آ گیا ہے۔”
اس کے لہجے میں ہنسی تھی، مگر ہنسی کے نیچے شفقت بھی تھی۔
میں نے پوچھا:
“گھبرا تو نہیں رہا؟”
نوید بولا:
“گھبرا رہا ہے۔ مگر کھڑا ہے۔”
کلینک جانے سے پہلے میں ریستوران کی طرف نکل گیا۔
ریستوران کا پچھلا دروازہ کھلا تھا۔ اندر سے بھاپ نکل رہی تھی۔ کچن میں برتنوں کی کھنک، چولہے کی سانس، مصالحے کی خوشبو، پیاز کے تڑکے اور گرم پانی کی بھاپ ملی ہوئی تھی۔
میں دروازے کے پاس رک گیا۔
عمر سنک کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کے بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے۔ آستینیں کہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں۔ ہاتھوں میں پیلے دستانے تھے جو اس کے ہاتھوں سے بڑے لگ رہے تھے۔
وہ ایک پلیٹ کو بہت احتیاط سے رگڑ رہا تھا۔
جیسے پلیٹ پر سالن نہیں، کوئی سوال چپکا ہوا ہو۔
ایک ویٹر نے جلدی سے کہا:
“بھائی، پلیٹیں ختم ہو رہی ہیں، ذرا تیز ہاتھ چلاؤ۔”
عمر گھبرا گیا۔
اس نے ہاتھ تیز کیے۔ ایک پلیٹ اس کے ہاتھ سے پھسلی، سنک کے کنارے سے ٹکرائی، مگر ٹوٹی نہیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
پھر اس نے گہری سانس لی اور دوبارہ پلیٹ دھونے لگا۔
میں باہر کھڑا رہا۔
اس نے مجھے نہیں دیکھا۔
اور شاید اچھا ہی ہوا۔
بچوں کو بعض سبق باپ کی موجودگی میں نہیں، اس کی غیر موجودگی میں سمجھ آتے ہیں۔
سامنے ہال میں لوگ آرام سے بیٹھے تھے۔
ایک بچہ فرائز پلیٹ میں چھوڑ کر موبائل پر لگ گیا۔
ایک آدمی نے آدھا کھانا چھوڑا اور ویٹر کو اشارہ کیا۔
ایک عورت نے گلاس اٹھا کر کہا:
“یہ صاف نہیں ہے۔”
اور پیچھے عمر کھڑا تھا۔
مجھے اچانک دنیا کی ترتیب بہت صاف دکھائی دینے لگی۔
کچھ لوگ گندگی کرتے ہیں۔
کچھ لوگ صاف کرتے ہیں۔
کچھ لوگ حکم دیتے ہیں۔
کچھ لوگ “جی صاحب” کہتے ہیں۔
اور جو بچہ یہ فرق ایک بار اپنی آنکھ سے دیکھ لے، شاید پھر کسی “جی صاحب” کو حقیر نہیں سمجھتا۔
دوپہر کو عمر باہر آیا۔
اس کے چہرے پر شکست نہیں تھی۔
فخر بھی نہیں تھا۔
صرف تھکن تھی۔
سچی، نمکین، خاموش تھکن۔
اس نے مجھے دیکھا تو چونک گیا۔
“آپ کب آئے؟”
میں نے کہا:
“ابھی۔”
یہ جھوٹ بہت چھوٹا تھا، مگر اس کے پیچھے ایک باپ کی پوری کمزوری چھپی ہوئی تھی۔
اس نے دستانے اتارے۔
انگلیاں سفید اور سکڑی ہوئی تھیں۔
وہ کچھ دیر اپنے ہاتھ دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے بولا:
“اندر بہت بدبو ہے، ابا۔”
میں نے پوچھا:
“چھوڑنا ہے؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد بولا:
“نہیں۔ کل آؤں گا۔ آج میں بہت سست تھا۔”
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میرے حلق میں ایک تقریر اٹک گئی۔
مگر میں نے کچھ نہیں کہا۔
بعض لمحوں کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ الفاظ انہیں چھوٹا کر دیتے ہیں۔
شام کو عمر گھر آیا تو ثنا دروازے پر ہی کھڑی تھی۔
اس نے فوراً پوچھا:
“ہاتھ دکھاؤ۔”
عمر نے ہاتھ آگے کیے۔ انگلیاں دھلی ہوئی تھیں، مگر تھکن ان پر لکھی ہوئی تھی۔
ثنا نے اس کے ہاتھ دیکھے، پھر اسے پانی دیا۔
“کھانا لگا دوں؟”
عمر نے سر ہلایا۔
کھانے کی میز پر اس دن عجیب خاموشی تھی۔ ثنا بار بار عمر کو دیکھ رہی تھی۔ میں اخبار کھول کر بیٹھا تھا، مگر پڑھ کچھ نہیں رہا تھا۔
عمر نے پلیٹ میں سالن لیا، روٹی کا چھوٹا ٹکڑا توڑا، اور بہت آہستہ آہستہ کھانے لگا۔
پہلی بار اس نے پلیٹ میں کچھ نہیں چھوڑا۔
روٹی کا آخری نوالہ بھی کھایا۔
پھر پلیٹ اٹھائی اور کچن کی طرف چل دیا۔
ثنا نے فوراً کہا:
“رہنے دو، میں رکھ دیتی ہوں۔”
عمر نے پلٹ کر ماں کو دیکھا۔
“نہیں امی۔ آج سے اپنی پلیٹ میں خود دھویا کروں گا۔”
ثنا کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔
شاید فکر۔
شاید فخر۔
شاید دونوں۔
رات کو میں کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر صبح والا چائے کا کپ پڑا تھا۔ میں جلدی میں اسے سنک تک لے جانا بھول گیا تھا۔
عمر اندر آیا۔
کپ اٹھایا۔
کچن میں لے گیا۔
دھو کر واپس میز پر رکھ دیا۔
میں اسے دیکھتا رہا۔
وہ دروازے کے پاس کھڑا ہوا اور بولا:
“ابا، گھر کے برتن روز کون دھوتا ہے؟”
میں نے کہا:
“کبھی تمہاری امی، کبھی ماسی، کبھی دادی۔”
وہ کپ کو دیکھتا رہا۔
“کل اتوار ہے۔ ناشتہ کے بعد برتن میں دھو دوں گا۔ بس آپ لوگ زیادہ گندے نہ کرنا۔”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
میں دیر تک اس صاف کپ کو دیکھتا رہا۔
وہ کوئی بڑا منظر نہیں تھا۔
نہ کوئی انقلاب۔
نہ کوئی تقریر۔
نہ کسی فلم جیسا انجام۔
بس ایک معمولی سا کپ تھا۔
جس پر چائے کی پپڑی باقی نہیں رہی تھی۔
مگر مجھے لگا، میرے بیٹے نے آج پہلی پلیٹ نہیں دھوئی۔
اس نے اپنے اندر کا پہلا غرور دھویا تھا۔
تحریرBeenish Iftikhar

شطرنج کھیلتے ہوئے آپ کا دماغ مکمل طور پر ایکٹو ہوتا ہے اور یہ ماضی کو سوچنے سے لیکر مستقبل کی منصوبہ بندی تک سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ، شطرنج جیسی سٹریٹیجی والی گیمز کو جوانی میں کھیلنے کی عادت بڑھاپے میں ہمیں یاداشت کی کمزوری سے بچا سکتی ہیں۔


وہیں پر، شطرنج آپ کو یہ بات ضرور سکھاتی ہے کہ اپنی زندگی میں ہونے والی غلط باتوں کی وجہ باہری دنیا نہیں بلکہ آپ کی کوئی بات ہی ہے۔ انسان شطرنج کھیلنے سے سیلف اکاؤنٹبلٹی بھی سیکھتا ہے۔

#جاوید_تیموری 


یوٹیوب سے آپ اپنا گھر چلا سکتے ہیں، مہینے کے تیس چالس ہزار نہیں، چار پانچ لاکھ تک آسانی سے کما سکتے ہیں۔ ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے اور وہ تجربہ کامیاب ہو چکا ہے۔ ہم نے محرک چینل کو اس سارے پراسس سے کامیاب ہوتے دیکھا ہے ،بس اس میں ایک قباحت ہے یا یوں کہیں کہ ایک مشقت ہے کہ آپ کو دو تین گھنٹے اس پر روزانہ دینے ہیں۔ اور صبر کے ساتھ تین مہینے نہیں، ایک سال سے ڈیڑھ سال تک پھر سے پھل دینا شروع کرتا ہے اور پھر چلتا رہتا ہے۔ 

یہ سب کچھ آپ بھی کر سکتے ہیں، بس اس کے لیے دو تین شرائط ہیں کہ آپ پہلے ریسرچ کریں، کہ آپ کی niche کیا ہو گی، پھر اس میں کیا ہو گا، کس طرح ہو گا۔ تھوڑا سا آپ کا پاگل پن اور کام تو آپ گھر بیٹھے چار سے پانچ لاکھ کما سکتے ہیں۔

#جاوید_تیموری 

معاشیات کا ایک قانون ہے ، جسے  "میتھیو ایفیکٹ" (Matthew Effect) کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ جس کے پاس پہلے سے کچھ موجود ہو، اسے مزید ملتا جاتا ہے، اور جس کے پاس کم ہو، اس کے لیے ایک ایک قدم آگے بڑھنا پہاڑ سر کرنے جیسا ہوگا۔

پہلی نظر میں یہ ناانصافی محسوس ہوتی ہے، لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے اپنی زندگی کے اردگرد دیکھیے۔ ایک طالب علم جسے شروع میں اچھا تعلیمی ماحول ملا، وہ بہتر یونیورسٹی گیا، بہتر نوکری پائی اور اب وہ مواقع کے سمندر میں تیر رہا ہے۔ دوسری طرف، ایک ایسا بچہ جس نے بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر آغاز کیا، اسے اپنی ہر کامیابی ثابت کرنے کے لیے دس گنا زیادہ خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ یہی فرق شہرت میں بھی ہے۔ ایک مشہور مصنف کی کتاب کا سرورق دیکھتے ہی ہزاروں ہاتھ اسے خریدنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں، جبکہ ایک نیا لکھنے والا برسوں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مشہور مصنف کی تحریر زیادہ بہتر ہو، لیکن اس کا "نام" اسے وہ اعتماد دے دیتا ہے جو ایک نیا شخص نہیں پا سکتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قانون کا مطلب یہ ہے کہ کامیابی صرف خوش قسمت لوگوں کی میراث ہے؟

قطعاً نہیں۔ میتھیو ایفیکٹ کا اصل سبق یہ ہے کہ زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ "آغاز" ہے۔ پہلی کامیابی، پہلا ایک لاکھ، یا پہلے سو قاری، یہ سب حاصل کرنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جس لمحے آپ وہ پہلی اینٹ رکھ دیتے ہیں، آپ ایک ایسے پہیے کو گھما دیتے ہیں جس کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ پہلی کامیابی کے بعد دوسری کامیابی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، کیونکہ اب آپ کے پاس "ساکھ" کا سرمایہ موجود ہوتا ہے۔

کامیاب لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی پوری توانائیاں کسی بڑی چیز کے انتظار میں ضائع نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک چھوٹا سا فائدہ حاصل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج وہ ایک چھوٹا سا فائدہ بھی پیدا کر لیں، تو آنے والے وقت میں وہی فائدہ ان کی "بڑی طاقت" بن جائے گا۔

اس لیے، دوسروں کے پاس موجود دولت یا شہرت دیکھ کر شکایت کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ آج ایسا کون سا چھوٹا سا قدم اٹھا سکتے ہیں جو آپ کو اس "میتھیو ایفیکٹ" کے دائرے میں لے آئے؟ کیونکہ یاد رکھیں، دنیا صفر سے شروع کرنے والوں کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ قانونِ قدرت ہے کہ دنیا ہمیشہ رفتار پکڑنے والوں کے حق میں ہوتی ہے۔ اپنی پہلی کامیابی کا آغاز کریں، باقی راستے خود بنتے چلے جائیں گے۔

#جاوید_تیموری

ہارورڈ یونیورسٹی میں 1950 کی دہائی میں ڈاکٹر کرٹ رچٹر  Curt Richter نے ایک تجربہ کیا جس میں انہوں نے چوہوں کو پانی کے ایک حوض میں ڈالا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ پانی میں کتنی دیر تک تیر سکتے ہیں۔

اوسطاً وہ 15 منٹ کے بعد ہار مان لیتے اور ڈوبنے لگتے۔

لیکن جب وہ تھک کر ہارنے لگتے، تو تحقیقاتی ٹیم انہیں باہر نکال لیتی، انہیں خشک کرتی، چند منٹ آرام دینے کے بعد دوبارہ حوض میں ڈال دیتی۔

اس دوسرے دور میں آپ کا خیال ہے کہ وہ کتنی دیر تک تیر سکے؟

یاد رہے کہ وہ صرف چند منٹ پہلے ہی تک تیرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔

کیا وہ دوبارہ 15 منٹ تیر سکے؟


10 منٹ؟


5 منٹ؟


نہیں!


60 گھنٹے!


یہ کوئی لفظوں کی غلطی نہیں ہے۔


بالکل صحیح! چوہے 60 گھنٹے تک تیرتے رہے۔


نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ چوہوں کو یقین تھا کہ آخرکار انہیں بچا لیا جائے گا، انہوں نے اپنے جسموں کو اس حد تک دھکیل دیا جو پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ اس پر تھوڑا غور کریں!

اگر امید اور یقین کی وجہ سے تھکے ہوئے چوہے اتنی دیر تک تیر سکتے ہیں، تو آپ کا خود پر یقین اور آپ کی صلاحیتوں پر یقین آپ کے لئے کیا کچھ کر سکتا ہے؟

یاد رکھیں کہ آپ کس قابل ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ یہاں کیوں ہیں۔ "تیرتے رہیں۔" اور کبھی ہمت نہ ہاریں۔

#جاوید_تیموری

Say consistent and focus 



گرتے ہوئے بال (Hair Fall) ہومیوپیتھک نقطۂ نظر اور حل


بالوں کا گرنا آج کل مردوں اور عورتوں دونوں میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ذہنی تناؤ، کیمیکل والے شیمپو کا استعمال اور ناقص غذا اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ عام طور پر لوگ بالوں کو گرنے سے روکنے کے لیے صرف بیرونی تیل یا شیمپو بدلتے ہیں، لیکن ہومیوپیتھک فلسفہِ علاج کے مطابق، بالوں کا گرنا جسم کے اندرونی نظام میں کسی خرابی یا کمی کا اشارہ ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک اندرونی وجہ کا علاج نہ کیا جائے، بال مستقل طور پر صحت مند نہیں ہو سکتے۔

بالوں کے گرنے کی بنیادی وجوہات

  • غذائی اجزاء کی کمی: خون کی کمی (Anemia)، وٹامنز (خاص طور پر وٹامن D اور B12) اور پروٹین کی کمی۔
  • ہارمونز کا عدم توازن: خواتین میں تھائرائیڈ کا مسئلہ یا زچگی کے بعد ہارمونز کی تبدیلی۔
  • شدید ذہنی تناؤ: مسلسل پریشانی، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔
  • کیمیکلز کا کثرت سے استعمال: بالوں کو بار بار کلر کرنا، اسٹریٹ کرنا یا تیز کیمیکل والے شیمپو استعمال کرنا۔

ہومیوپیتھک طرزِ علاج کی افادیت

ہومیوپیتھی بالوں کے گرنے کی جڑ (Root Cause) کو تلاش کر کے اس کا علاج کرتی ہے۔

  • جڑوں کو مضبوط بنانا: ہومیوپیتھک ادویات کھوپڑی (Scalp) میں خون کی گردش کو بہتر بناتی ہیں، جس سے بالوں کی جڑوں کو پوری غذا ملتی ہے۔
  • اندرونی کمی کا تدارک: اگر بال کسی بیماری، خون کی کمی یا ذہنی صدمے کی وجہ سے گر رہے ہوں، تو یہ علاج اس مخصوص وجہ کو دور کرتا ہے۔
  • نئے بالوں کی افزائش: یہ طریقہ کار بند ہو جانے والے مساموں (Hair Follicles) کو دوبارہ متحرک کرتا ہے، جس سے نئے اور صحت مند بال اگنے لگتے ہیں۔

بالوں کو صحت مند رکھنے کے لیے چند مفید مشورے

  1. متوازن غذا کا استعمال: اپنی روزمرہ خوراک میں انڈے، دالیں، ہری سبزیاں اور گری دار میوے (بادام، اخروٹ) شامل کریں۔
  2. کیمیکلز سے پرہیز: بالوں پر تیز کیمیکل والے شیمپو اور جیل لگانے کے بجائے قدرتی یا ہربل چیزوں کو ترجیح دیں۔
  3. گیلے بالوں میں کنگھی نہ کریں: گیلے بال انتہائی کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں خشک ہونے کے بعد ہی نرمی سے کنگھی کریں۔
  4. مناسب نیند اور ورزش: روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیں اور ہلکی ورزش کریں تاکہ جسم میں خون کی گردش بہتر اور ذہنی تناؤ کم ہو۔

اگر آپ بھی بالوں کے بے تحاشا گرنے، گنج پن یا خشکی (Dandruff) سے پریشان ہیں اور مہنگے پروڈکٹس آزما کر تھک چکے ہیں، تو کسی مستند ہومیوپیتھک معالج سے رجوع کریں۔ وہ آپ کی انفرادی علامات کے مطابق ایک محفوظ اور مستقل علاج تجویز کر سکتے ہیں۔


نصیرالدین

رجسٹرڈ ہومیوپیتھک ڈاکر

Fizawarraich6shared fromJavaid Temuri's post
Fizawarraich6shared frommaqbul hussain's post

اے آئی (AI) سیکھنا کیوں ضروری ہے؟ — اعداد و شمار (Facts) جو آپ کو چونکا دیں گے

سنہ 2023 میں ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) نے ایک رپورٹ (Report) جاری کی جس میں بتایا گیا کہ آنے والے پانچ سالوں میں دنیا بھر میں چودہ ملین (14 Million) سے زیادہ نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ وجہ صرف ایک ہے — اے آئی (AI) اور آٹومیشن (Automation)۔ یہ پڑھ کر شاید آپ کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا ہو کہ پھر تو اے آئی (AI) ہمارا دشمن ہے۔ لیکن اسی رپورٹ (Report) میں یہ بھی لکھا تھا کہ اسی عرصے میں تیئس ملین (23 Million) نئی نوکریاں بھی پیدا ہوں گی — اور وہ سب ان لوگوں کے لیے ہوں گی جو اے آئی (AI) جانتے ہوں گے۔ یعنی خطرہ اے آئی (AI) سے نہیں بلکہ اے آئی (AI) نہ جاننے سے ہے۔

آج دنیا کی بڑی کمپنیاں (Companies) جیسے گوگل (Google)، مائیکروسافٹ (Microsoft) اور ایمیزون (Amazon) اپنے ملازمین (Employees) کو اے آئی (AI) کی تربیت (Training) دے رہی ہیں۔ گوگل (Google) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تمام شعبوں (Departments) میں اے آئی (AI) لازمی کر رہا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں بھی آئی ٹی (IT) کمپنیاں اب اے آئی (AI) جاننے والے افراد کو زیادہ تنخواہ (Salary) دے رہی ہیں۔ ایک تحقیق (Research) کے مطابق جو لوگ اے آئی (AI) ٹولز (Tools) استعمال کرتے ہیں وہ اپنا کام اوسطاً چالیس فیصد (40%) زیادہ تیزی سے مکمل کرتے ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں زیادہ کام اور زیادہ کمائی۔

لیکن سب سے اہم بات جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اے آئی (AI) سیکھنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ چند سال پہلے یہ صرف انجینئرز (Engineers) اور ڈیٹا سائنٹسٹس (Data Scientists) کا کام سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج ایک عام طالب علم، ایک گھریلو خاتون، ایک دکاندار — کوئی بھی اے آئی (AI) ٹولز (Tools) سیکھ کر اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شروع کرنا ہوگا — اور وہ وقت آج ہے، کل نہیں۔

کیا آپ اے آئی (AI) سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ 💬 کمنٹ (Comment) میں بتائیں کہ آپ کہاں سے شروع کرنا چاہیں گے۔ اگر یہ پوسٹ آپ کو کام کی لگی تو ❤️ لائک (Like) کریں، کسی ایسے دوست کو 🔁 شیئر (Share) کریں جو ابھی تک اے آئی (AI) سے انجان ہے اور 🔔 فالو (Follow) کریں کیونکہ اگلی پوسٹ میں بتاؤں گا کہ اے آئی (AI) سیکھنے کی شروعات کہاں سے کریں — بالکل مفت (Free) میں! 🚀

Pull down to refresh