ابن القيم في شفاء العليل: (1/90)
کوفہ مسلمانوں سے بھرا پڑا تھا، مگر مسلم صرف ایک تھا
جب یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالا اور عالمِ اسلام سے اپنی بیعت کا مطالبہ کیا تو امام حسینؑ نے اس بیعت سے انکار کر دیا۔ آپؑ کے نزدیک قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ دین، عدل اور حق کی امانت تھی۔ اسی دوران کوفہ کے لوگوں نے امام حسینؑ کو ہزاروں خطوط لکھے۔ ان خطوط میں محبت، وفاداری اور نصرت کے وعدے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کوفہ آپؑ کا منتظر ہے، ہم آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، آپؑ کی حفاظت کریں گے اور ہر حال میں آپؑ کا ساتھ دیں گے۔
امام حسینؑ نے ان خطوط اور وعدوں کی حقیقت جاننے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی اور داماد، حضرت مسلم بن عقیلؑ کو کوفہ روانہ کیا۔ حضرت مسلمؑ جب کوفہ پہنچے تو لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ ہزاروں افراد نے ان کے ہاتھ پر امام حسینؑ کی نمائندگی میں بیعت کی۔ ہر طرف وفاداری کے دعوے تھے، ہر زبان پر نصرت کے وعدے تھے اور ہر مجلس میں امام حسینؑ کی آمد کا ذکر تھا۔
حضرت مسلمؑ نے حالات کو سازگار دیکھ کر امام حسینؑ کو خط لکھا کہ کوفہ کے لوگ آپؑ کے منتظر ہیں اور آپؑ تشریف لا سکتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کوفہ حق کے استقبال کے لیے تیار ہے، مگر تاریخ نے ابھی اپنا اصل چہرہ دکھانا تھا۔
یزید نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کر دیا۔ ابن زیاد نے کوفہ پہنچتے ہی خوف، دھمکی، جبر اور لالچ کا ایسا جال بچھایا کہ لوگوں کے دل بدلنے لگے۔ قبائلی سردار خرید لیے گئے، لوگوں کو ڈرایا گیا، گرفتاریاں ہوئیں اور اعلان کیا گیا کہ جو بھی مسلم بن عقیلؑ کا ساتھ دے گا، اس کی جان، مال اور خاندان محفوظ نہیں رہے گا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دعووں کا امتحان شروع ہوا۔
جو لوگ کل تک وفاداری کے نعرے لگا رہے تھے، وہ ایک ایک کرکے پیچھے ہٹنے لگے۔ جو ہاتھ بیعت کے لیے اٹھے تھے، وہ خوف سے جھک گئے۔ جو زبانیں حق کے حق میں بول رہی تھیں، وہ خاموش ہو گئیں۔ جو دروازے استقبال کے لیے کھلے تھے، وہ بند ہو گئے۔
تاریخ بیان کرتی ہے کہ ایک وقت حضرت مسلم بن عقیلؑ کے گرد ہزاروں افراد موجود تھے، مگر شام ہوتے ہوتے سب منتشر ہو گئے۔ کوئی جان بچانے کے لیے گھر میں چھپ گیا، کوئی خاندان کے خوف سے الگ ہو گیا اور کوئی دنیاوی مفاد کی خاطر خاموش ہو گیا۔
اس وقت کوفہ میں مسلمان ہزاروں تھے۔ مسجدیں آباد تھیں، اذانیں گونج رہی تھیں، قرآن پڑھا جا رہا تھا، مگر جب حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو سب غائب ہو گئے۔
تب تاریخ نے ایک ایسا جملہ لکھا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے سبق بن گیا:
"کوفہ مسلمانوں سے بھرا پڑا تھا، مگر مسلم صرف ایک تھا۔"
مسلمان ہزاروں تھے، مگر مسلمانی ایک شخص میں باقی تھی۔
حضرت مسلم بن عقیلؑ تنہا رہ گئے، لیکن انہوں نے اپنے عہد سے وفا کی۔ نہ ابن زیاد کی دھمکیوں سے ڈرے، نہ تنہائی سے گھبرائے اور نہ حق کا راستہ چھوڑا۔ وہ شہر جس نے ہزاروں خطوط لکھے تھے، اسی شہر کی گلیوں میں مسلمؑ اکیلے رہ گئے۔
آخرکار ایک نیک خاتون، طوعہ، نے انہیں اپنے گھر میں پناہ دی، مگر جب حکومت کو ان کے ٹھکانے کا علم ہوا تو سپاہیوں کا لشکر انہیں گرفتار کرنے پہنچ گیا۔ حضرت مسلمؑ نے تن تنہا مقابلہ کیا اور بہادری کی ایسی مثال قائم کی جسے تاریخ آج بھی سلام کرتی ہے۔ مگر بالآخر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
9 ذوالحجہ 60 ہجری، یومِ عرفہ کے دن حضرت مسلم بن عقیلؑ کو شہید کر دیا گیا۔ وہ قافلۂ حسینؑ کے پہلے شہید تھے۔ ان کا خون دراصل کربلا کے میدان تک جانے والے راستے کا پہلا چراغ تھا۔
حضرت مسلم بن عقیلؑ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کا ساتھ دینا صرف نعروں کا نام نہیں، بلکہ قربانی، استقامت اور وفاداری کا نام ہے۔ وفاداری اس وقت نہیں آزمائی جاتی جب حالات سازگار ہوں، بلکہ اس وقت آزمائی جاتی ہے جب تلوار سر پر ہو اور پوری دنیا ساتھ چھوڑ چکی ہو۔
کوفہ کے ہزاروں لوگوں نے خطوط لکھے تھے، مگر تاریخ نے ان کے نام محفوظ نہیں رکھے۔ تاریخ نے صرف ایک نام محفوظ رکھا:
مسلم بن عقیلؑ۔
کیونکہ تاریخ تعداد نہیں گنتی، کردار گنتی ہے۔
اور اسی لیے آج بھی صدیوں بعد یہ حقیقت زندہ ہے کہ:
کوفہ مسلمانوں سے بھرا پڑا تھا، مگر مسلم صرف ایک تھا۔
Pull down to refresh