
@username
No bio available.
از قلم.. علی محمود...
ہلکے بادلوں کے درمیان ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا ٹرین کس وقت میری منزل پر پہنچ چُکی تھی... جلدی جلدی اُٹھا بیگ اٹھایا کندھے پر لٹکایا اور تقریباً بھاگتے ہوئے ٹرین سے اُترا جو رفتہ رفتہ چلنی شروع ہو گئی تھی، میرے علاوہ چند لوگ ہی ٹرین سے اترے تھے...
آٹھ سال بعد ریلوے اسٹیشن پر اترتے ہی ذہن یادوں میں الجھتا گیا... فاروق آباد اورسانگلہ ِہل کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ جس کا یہ خستہ ہال ریلوے اسٹیشن تھا اِسی ریلوے اسٹیشن پر ہر شام ٹرین آنے کے وقت میں بھی اسٹیشن کے کسی ٹوٹے پھوٹے میز پر آ کر بیٹھ جاتا لوگوں کو آتے جاتے دیکھتا، کوئی مطمئن نظر آتے تو کوئی ُمُضطرب. ٹرین جاتے ہی اسٹیشن خالی ہو جاتا... ہر شام سورج ڈوبتے ہی اسٹیشن کے قریب درختوں کے پنچھی بھی لوٹ آتے اور میں بھی واپس گھر کی راہ لیتا......
...
سورج ڈھل چُکا تھا ہلکی لیکن نہایت یخ بستہ ہوا چل رہی تھی بادل گہرے ہو کر موسم کو مزید ٹھنڈا کر رہے تھے
میں نے اِدھر اُدھر نظر دُہرائی مجھے اپنی محبوبہ کی تلاش تھی اسٹیشن کے عین وسط میں چائے کا اکلوتا کھوکھا تھا جو پہلے نا تھا اور یقیناً اب مقامی لوگوں نے ہی بنایا تھا..
مجھے میری محبوبہ مل گئ تھی ٹہلتے ہوئے اُسی جانب گیا ایک چائے کی پیالی منگوا کر ہاتھ میں تھامے اسٹیشن کا جائزہ لے رہا تھا..چائے کی چُسکیاں بھرتے اُن چند خالی شاپروں کو دیکھ رہا تھا جو یقیناً لوگوں کے پھینکے ہوئے تھے اور اب ہوا کے رحم و کرم پر اِدھر سے اُدھر گھوم رہے تھے.. چند لوگوں کے سوا اسٹیشن پر اور کوئی نا تھا... میں چائے پینے کے بعد اسٹیشن سے نکلا....
سردی بڑھتی جا رہی تھی... اسٹیشن کے باہر اکثر تانگے کھڑے ہوتے تھے لیکن آج کوئی نا تھا شاید سب سواریاں لے کر جا چکے تھے اور کچھ میں نے بھی اپنا وقت چائے پینے میں گزار دیا تھا....
جیکٹ کے پورے بٹن بند کر کے میں اب پیدل ہی چل پڑا اسٹیشن سے سیدھا راستہ اندر بازار کی طرف جاتا تھا
یہ پانچ چھے گاؤں کے لوگوں کے لیے واحد بازار تھا جہاں ضرورت کی اشیاء مل جاتیں تھی چونکہ یہ قصبہ تھا تو شام ہوتے ہی دکانیں بند کر کے لوگ گھروں کو لوٹ جاتے تھے میں اب سوچ رہا تھا کہ چائے کے چکر میں غلطی کر بیٹھا ہوں
چلتے چلتے بازار ایک سڑک پر ختم ہوتا تھا جہاں بھی کچھ تانگے بان مل جاتے تھے قریبی قصبوں میں جانے کے لیے لیکن یہاں پہنچ کر مجھے یہ احساس ہوگیا کہ میں ہی دیر کر چکا ہوں ....
بادلوں کی گرج کے ساتھ ہی بارش شروع ہو گئی...میں تیز تیز قدموں کے ساتھ بازار کی ایک بند دکان کے بیرونی ٹین کی چھت کے نیچے کھڑا ہو کر کسی گاڑی کی تلاش میں تھا... غالباً ایک گھنٹے سے زائد میں وہاں کھڑا رہا بارش رُک گئی لیکن گاڑی تو دُور اب میرے علاوہ کوئی اِنسان بھی وہاں نظر نہیں آ رہا تھا، اندھیرا پوری طرح چھا گیا تھا سردی بے پناہ بڑھ گئی تھی میں نے بیگ سے اپنا مفلر نکال کر گردن کے گِرد لپیٹا اور پیدل ہی گاؤں کی جانب چل پڑا جو بازار سے تین کلو میٹر دور تھا....
بچپن میں سکول سے ملنے والی گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے میں نانی کے ہاں اِسی گاؤں میں آ جایا کرتا تھا... نانی کا گھر گاؤں کے آخری کونے پر تھا جس کی دونوں جانب دروازے تھے ایک گاؤں کی جانب جاتا تھا اور دوسری جانب سڑک تھی جو ایک طرف دوسرے قصبوں تک جاتی اور دوسری جانب اسی بازار تک جاتی تھی جس سے میں پیدل آ رہا تھا......
.. میرا نام علی محمود میں ایک گمنام شہر میں خاموش نوکری کرتا تھا اب چھُٹی لے کر آیا ..
نانی کا انتقال ہو چکا تھا.. اب وہاں صرف نانا اور تین ماموں اور اُنکی بیویاں ہی تھیں.. گاؤں میں ایک میلا لگا کرتا تھا میں اُسی میلے کو دیکھنے آیا تھا جہاز اپنے وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے لاہور ائرپورٹ پہنچا وہیں سے ریلوے اسٹیشن گیا آخری ٹرین ماڑی انڈس کے نام سے تھی لاہور سے وہی نکلنے والی آخری ٹرین تھی جس سے میں آیا تھا....
گاؤں کے اُس میلے کی انتظامیہ میرے نانا اور ماموں ہی تھے اس میلے میں پورا گاؤں شریک ہوتا تھا میں بچپن میں دیکھا کرتا تھا۔۔ رنگی برنگی برف والی قلفیاں، لکڑی کی بندوق، مٹی کے لٹو کاغذ کی کشتیاں ۔
یہ سب میں پھر سے دیکھنا چاہتا تھا انسان زندگی میں کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔۔۔لیکن اس کے ماضی کے کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جنہیں وہ کبھی بھلانا نہیں چاہتا ۔۔جب وہ زندگی کی بھاگم بھاگ سے تھک جاتاہے تو وہ اپنے ماضی کے ان لمحات کی تمنا کرتا ہے جس میں وہ کبھی بے فکری سے اور بھر پور جیا تھا۔۔ تبھی میں بھی اپنی مصروف ترین زندگی میں سے وقت نکال کر گاؤں کی جانب چلا آیا لیکن میں ابھی راستے میں تھا اور اب چلتے چلتے سوچ رہا تھا کہ کاش گاؤں کی جانب ٹرین کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہوتا....
بازار سے نکلتے ہی کچھ فاصلے پر ایک نہر تھی جس کو پار کرنے کے لئے ایک پُل تھا جس کے ایک طرف چھوٹی سی جھونپڑی جہاں کسی وقت میں ایک ضعیف بزرگ چند سبزیاں اور پھل بیچتا تھا گاؤں سے آنے جانے والے بزرگ اکثر یہاں بیٹھ کر اس ضعیف کے ساتھ حقہ پیتے تھے میں ایک لمحے کو وہاں رکا اس ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو دیکھتا رہا اور اس کی خستہ حالی سے صاف ظاہر تھا کہ اب یہاں کا کوئی باسی نہیں ہے ۔۔میں ثھنڈی آہ کے ساتھ ماضی کی یادوں کو جٹھتکتا ہوا چل پڑا۔۔نہر کا ٹوٹا ہوا پُل رات کے وقت اور بھی ڈراؤنا لگ رہا تھا اسی پُل کو پار کرتے وقت بہتے پانی کی آواز میں اچانک لگا جیسے کوئی چیز گِری ہو، بہت تیز آواز تھی...میں وہیں رُک گیا اور اُس جانب دیکھنے لگا جہاں سے آواز آئی کچھ لمحے اسی جانب توجہ مبذول رکھی لیکن اب وہاں کوئی حرکت محسوس نہیں ہو رہی تھی.. میں سر جھٹک کر پھر آگے چل پڑا پُل سے اُترتے ہی یہ کَچی سڑک گاؤں کی جانب جاتی تھی جو پہلے تو تھوڑی کُشادہ تھی لیکن اب اس کی دونوں جانب بڑی بڑی جھاڑیاں اُگ چکیں تھیں جس سے یہ سڑک اب کُشادہ نہیں رہی تھی یہ کچی سڑک کھیتوں کے بیچوں بیچ باقی قصبوں تک بھی جاتی تھی اُن میں سب سے پہلا گاؤں ہی میری منزل تھا اب یہ سڑک بمشکل سات فٹ چوڑی رہ گئی تھی،
میں ایک لمحے کو وہاں رُکا اُس سڑک کا جائزہ لیا جو اب بہت خوفناک لگ رہی تھی بادلوں کی گَرج کے ساتھ اب ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چُکی تھی... اب میرے پاس رکنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی میں پھر سے تیز قدموں کے ساتھ سڑک کی جانب سیدھا چل پڑا جہاں بارش کی وجہ سے اب کیچڑ تھا مجھے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی لیکن مجبوری کہ چلنا ہی تھا.... گہرے بادل کالی سیاہ رات بادلوں کی گرج یخ بستہ ہوا سے میرے دانت بج رہے تھے..میں اپنی ہی دُھن میں چل رہا تھا کہ میری حِس مجھے بتانے لگی کہ کوئی میرے پیچھےآ رہا ہے.....
میں ایکدم سے رُکا اور فوراً پیچھے دیکھا لیکن پیچھے کچھ بھی نہیں تھا... میں نے کندھے پر بیگ درست کیا اور پھرسے چل پڑا... مجھے چلتے چلتے ایک گھنٹے سے ذیادہ کا وقت ہوچکا تھا اور اب بارش تَھم چکی تھی بادل آہستہ آہستہ صاف ہو رہے تھے چاند بھی انکے درمیان اپنی جگہ بنا رہا تھا چاند کی روشنی سے اب راستہ دکھائی تو دے رہا تھا لیکن نہایت خوفناک لگ رہا تھا.. چلتے چلتے اب پھر محسوس ہو رہا تھا کہ میرے پیچھے کوئی ہے، کیچڑ کی وجہ سے واضح محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی میرے پیچھے آ رہا ہے میں خود آگے چل رہا تھا لیکن میری قوت سماعت میرے پیچھے آنے والی آواز پر مبذول تھی میں اب تیز تیز قدموں سے چلنے لگا میں نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے آنے والی آواز میں بھی رفتار بڑھ گئی ہے.. اب مجھے یقین ہو چکا تھا کہ پیچھے کوئی اور بھی ہے... مجھے اب خوف محسوس ہونے لگا ... میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں اب دیکھوں گا کہ پیچھے کون ہے میں وہیں رُک گیا میرے ساتھ ہی پیچھے آنے والے قدموں کی آواز بھی تھم گئی رات کی گہری خاموشی میں دُور کہیں گیدڑوں کے رونے کی آوازیں آنی شروع ہو گئی تھیں چاند اپنے پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی... خوف مجھ پر غالب ہو رہا تھا پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی میں نے بنا پیچھے مڑے ہی اونچی آواز میں پوچھا کون ہے؟... جواب میں مجھے یہی سوال سنائی دیا کون ہے؟ ..
مجھے سُن کر سُکون ہوا کہ شاید کوئی میری طرح اِسی راستے سے آ رہا ہے، میں نے خوف کو زائل کرتے ہوئے کھڑے کھڑے گردن گُمھا کر پیچھے مُڑ کر دیکھا تو سامنے کا منظر دیکھ کر مجھے اپنا خون جمتا ہوا محسوس ہونے لگا 'میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے میری سانس جہاں تھی وہیں رُک گئی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ میری ہی طرح مجھے کھڑے کھڑے گردن گھما کر دیکھ رہا تھا وہ شخص کوئی دوسرا نہیں میں خود ہی تھا ہاں وہ بلکل میں تھا جس انداز سے میں کھڑا تھا وہ بھی اسی انداز سے کھڑا تھا... یہ منظر دیکھتے ہی میرے منہ سے چیخ نکلی میں نے اونچی آواز میں کلمہ پڑھا ٹھیک اسی انداز میں وہ بھی چیخا اور کلمہ اس نے بھی پڑھا جس کے فوراً بعد میں نے ایک جانب دوڑنا شروع کر دیا... دوڑتے ہوئے میں نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو منظر مجھے مزید خوفزدہ کر رہا تھا جس انداز سے میں دیکھ رہا تھا وہ بھی اسی انداز سے مجھے دیکھتے ہوئے میری مخالف سمت بھاگ رہا تھا میں اور بھی رفتار سے بھاگنا شروع ہو گیا اس دوران میرا بیگ کہیں گِر گیا، جسے اٹھانے کی مجھ میں ہمت نا تھی... کافی بھاگنے کے بعد پیچھے دیکھا تو اب سناٹا چھا چُکا تھا میں ایک جگہ رُک کر ہانپ رہا تھا...
میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا اس طرح کے واقعات سے میرا کبھی سامنا نہیں ہوا تھا میں اکیلا ہی تھا یہی احساس مجھے اور خوفزدہ کر رہا تھا میں بس کلمہ پڑھے جا رہا تھا زندگی میں پہلی بار اس طرح کے حالات کا سامنا تھا اُکھڑی سانسوں کا توازن بحال کرنے کے بعد میں نے اپنے چاروں طرف نظریں دوڑائیں میرے چاروں طرف کھیت ہی تھے میں بھاگتے ہوئے اپنا راستہ کھو بیٹھا تھا تبھی دُور ایک روشنی کا ہیولہ نظر آیا میں اپنے اعصاب پر قابو پا کر اُسی جانب چل پڑا کہ شاید کوئی ذی روح مِل جائے.. لگ بھگ آدھے میل کی مسافت کے بعد روشنی کچھ واضح ہونے لگی چاند کی چاندنی میں نظر آ رہا تھا وہاں ایک جھونپڑی سی تھی مجھے اُمید کی کرن نظر آئی کے اکثر گاؤں کے کِسان کھیتوں کی حفاطت کے پیشِ نظر اِس طرح کی جھونپڑی بنا کر سویا کرتے تھے...
چلتے چلتے میں اِس جھونپڑی کے دروازے کے سامنے آ کر رُکا لکڑی کا ٹوٹا ہوا دروازہ تھا روشنی اس دروازے کے چھید سے آ رہی تھی غالباً چراغ کی روشنی تھی دروازے کے کچھ فاصلے پر ایک بڑا درخت تھا جس کے نیچے ایک ہاتھ سے چلانے والا نلکا لگا ہوا تھا میں نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی اور آواز دی کہ کوئی ہے؟. مجھے مدد چاہیے.. شہر سے آیا ہوں... میں نے یہ سب ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا.... کچھ لمحوں تک انتظار کیا لیکن آگے سے کوئی جواب نا آیا میں نے پریشانی کے عالم میں دروازہ اندر کی جانب دھکیلا تو وہ چوں چوں کی آواز کے ساتھ کُھلتا چلا گیا سامنے ہی ایک پانی والا مٹی کا بنا مٹکا پڑا تھا جس کے اوپر ایک پیالہ اُس کے ساتھ ایک مٹی کے چبوترے پر چراغ جل رہا تھا اُن چیزوں کے علاوہ اندر کچھ نہیں تھا اچانک چراغ بُجھ گیا.. چراغ بُجھتے ہی اندھیرا چھا گیا گیدڑوں کے رونے کی آوازیں پھر سے شروع ہو گئیں تھیں رات کے سناٹے میں گیدڑوں کی رونے کی آواز نومولود بچوں کے رونے جیسی آواز تھی میں گھبرا کر پیچھے کی جانب مڑا جھونپڑی سے باہر نکلتے ہی سامنے دیکھ کر چونک گیا کوئی سفید لباس میں اِسی جانب چلا آرہا تھا اس کے ایک ہاتھ میں لالٹین تھی جس میں جلنے والی آگ نہایت مدھم تھی میں تیز تیز قدم اٹھائے اُس کی جانب چلنے لگا کہ اُس تک خود جا کر مدد طلب کروں... میں جیسے ہی اُس کے قریب گیا اُس کا چہرہ دیکھتے ہی چیخ پڑا وہ سفید لباس کفن تھا اور کفن میں ملبوس میرا ہمشکل ہی تھا اُسے دیکھتے ہی میرا دل ڈوبنے لگا ہَلک سے آواز نا نکل پا رہی تھی .. بمشکل میں اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھنے لگا جس کی صرف مجھے پہلی آیت ہی آتی تھی.. وہ میرے سامنے کھڑا آیت الکرسی پڑھنے لگا میں صرف پہلی آیت کو دہرا رہا تھا لیکن وہ مکمل پڑھ رہا تھا اور مجھ سے بھی بلند آواز میں پڑھ رہا تھا میں سخت سردی میں بھی پسینے میں بھیگ چکا تھا میں نے اونچی آواز میں کلمہ پڑھنا شروع کیا اور ایک جانب دوڑنا شروع کر دیا خوف سے مجھے اپنے قدم بھی نہایت بھاری محسوس ہو رہے تھے میں مسلسل بھاگتا جا رہا تھا کافی دیر بنا پیچھے دیکھے بھاگتے ہوئے مجھے اپنے سامنے ایک اونچی دیوار نظر آئی جس کی اونچائی تقریباً چار فٹ تھی اور دور تک پھیلی ہوئی تھی.. میں سیدھا اِسی دیوار تک گیا دیوار پر ہاتھ رکھ کر اُچھل کر دوسری جانب کُود گیا... اور وہیں بیٹھ گیا.. میری سانس اُکھڑ چکی تھی بھاگتے ہوئے پِنڈلیاں کئی جگہوں سے بُری طرح زخمی ہو گئیں تھیں تھکن سے چُور ہو چکا تھا میرا ذہن ماؤف ہو گیا تھا کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے،اور کیوں ہو رہا ہے.... پِنڈلیوں کے زخم ٹھنڈی ہوا لگنے سے بہت دُکھنے لگے تھے.... سردی اپنے عروج پر تھی
میں کافی دیر دِیوار کے سہارے بیٹھا رہا مُسلسل کلمہ پڑھے جا رہا تھا دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے... اچانک ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیا میں جنات کے گھیرے میں ہوں؟ لیکن یہ بات مجھے حیرت کدہ کر رہی تھی کہ وہ مجھ سے بہتر قرآن پڑھ رہے تھے... مجھے اب یاد آ رہا تھا کہ میں نماز کبھی کبھی پڑھتا اور قرآن تو کھولے یاد ہی نہیں آخری بار کب کھولا بہت سی سورتیں بھول چکا تھا آیت الکرسی مجھے پوری یاد تھی جس کی اب پہلی آیت کے علاوہ سب بھول گیا تھا..
دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگ رہا تھا مہلت مانگ رہا تھا سچے رب کو یاد کر کے دل کو ڈھارس سی ہوئی تو اب میں نے جیسے تیسے خود کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا ارد گرد کا جائزہ لیا یہ دیوار دور تک پھیلی اندھیرے میں گُم ہو جاتی تھی... میں ناک کی سیدھ میں چل پڑا یہ صاف ستھری جگہ تھی کوئی جھاڑیاں وغیرہ نہیں تھیں چلتے چلتے سامنے ایک مِحراب سا نظر آیا لیکن یہ مسجد کے محراب کے مقابلے بہت بڑا تھا محراب جس میں امام کھڑا ہو کر جماعت کرواتا ہے مجھے یہ دیکھ کر سکون ہوا کہ غالباً یہ عید گاہ ہے میں سیدھا محراب میں جا کر بیٹھ گیا سوچا اب صبح تک یہیں رہوں گا یہی سوچ کر لیٹ گیا... موسم کے تیور ایک بار پھر بدل چکے تھے ہوا میں ٹھنڈک مزید بڑھ رہی تھی شاید بارش کا امکان تھا آنکھیں بند کیے اچانک آہٹ سی محسوس ہوئی ایسے جیسے میرے پاس کوئی کھڑا ہے میں نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو مجھ سے کچھ فاصلے پر میں نے ایک شخص کو کھڑے پایا.. اور اس کے پیچھے بہت سے لوگ جمع تھے جو صفیں بنا ہاتھ باندھے کھڑے تھے سب بلکل خاموش تھے میں لیٹے لیٹے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اچانک میرے سامنے کھڑا شخص پیچھے کی جانب مڑا اور اونچی آواز میں کہنے لگا میت کو دفنانے کا وقت ہو چکا ہے نمازِ جنازہ مکمل ہوئی... یہ سننے ہی میں یکلخت وہاں سے اٹھا اور بِنا سِمت کا تَعیُن کیے بھاگ پڑا، یہ کُھلا میدان تھا جس کے چاروں طرف چار فٹ کی دیوار تھی بھاگتے ہوئے یہ خیال مُجھے لرزہ رہا تھا کہ وہ جگہ عید گاہ نہیں بلکہ جنازہ گاہ تھی اور جس جگہ میں لیٹا تھا وہ جگہ میت رکھنے کی جگہ تھی.... میں سیدھا اُسی دیوار کے پاس پہنچا اور ایک بار پھر پھلانگ کر دوسری جانب کُود گیا اور اُٹھ کر پھر بھاگنے لگا گہرے بادلوں نے چاند کی روشنی کو ماند کر دیا تھا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا میں اندھا دھند بھاگے جا رہا تھا... یہ جگہ ہموار نا تھی بہت سے اونچے نیچے مٹی کے ٹیلے سے بنے ہوئے تھے جنہیں میں پھلانگتے ہوئے بھاگتا چلا جا رہا تھا اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر پڑا میں چکرا کر دو تین قدم لڑکھڑا کر ایک گہری کھائی میں گِر گیا میں نے وہاں سے اُٹھنے کی بہت کوشش کی لیکن میرا جسم جگہ جگہ سے زخمی ہو چکا تھا میرا پاؤں گرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گیا تھا میں درد سے کراہ رہا تھا یہ کھائی کافی گہری تھی لیکن بہت ہی تنگ تھی میں درد سے کراہتے ہوئے تھک ہار کر بیٹھ گیا اور کھائی سے نکلنے کے متعلق سوچنے لگا اچانک میرے اوپر کچھ گِرا میں ہربڑاہ کر اوپر دیکھنے لگا اوپر دیکھتے ہی اوپر کا سانس اوپر رک گیا اوپر کچھ لوگ اس کھائی کے چاروں جانب کھڑے تھے جو بلکل میرے ہمشکل ہی تھے اور اُن میں کچھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہے تھے جبکہ ان میں سے کچھ مجھ ہر مٹی ڈال رہے تھے مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ جنکو میں مٹی کے ٹیلے سمجھ رہا تھا وہ قبریں تھیں اور یہ جگہ قبرستان ہے اور میں خود ایک قبر میں ہوں میں نے اونچی آواز میں چیخنا شروع کر دیا لیکن اب سب دعا چھوڑ کر مجھ پر مٹی ڈالنے لگے میں مسلسل چیخ رہا تھا اچانک وہ رُک گئے اور ایک جانب چلے گئے.. انکے جاتے ہی گہری خاموشی میں دور کہیں آذان کی آواز میرے کانون میں پڑی .. خوف سے مجھے میری سانس رُکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی جو اب آذان کی آواز سنتے بحال ہونے لگی تھی... میں اس قدر خوفزدہ تھا کہ میں اب قبر کے اندر خود اذان کے الفاظ بلند آواز سے دُہرا رہا تھا آذان کے مکمل ہوتے ہی میں نے ہمت کر کے باہر نکلنے کی کوشش کی چند کوششوں کے بعد میں کامیاب ہو گیا لیکن باہر ابھی بھی اندھیرا تھا یہ غالباً تہجد کی آذان تھی... قبرستان کی خاموشی اور قبرستان کا منظر مجھے وحشت ناک لگ رہا تھا میں نے وہاں سے آذان کی آواز کی سِمت کا تعین کیا اور اُسی جانب دور پڑا کافی دیر کے بعد مجھے سامنے ایک چھوٹا سا مینار نظر آیا میں دل میں سوچ رہا تھا یا خدا یہ مسجد ہی ہو ... خدا خدا کر کے میں اس مینار کے پاس آیا اور میرا اندازہ درست نکلا یہ چھوٹی سی مسجد تھی جس کے کچھ فاصلے کچھ کچے گھر بنے ہوئے تھے ،میں نے سب نظر انداز کر کے مسجد کے اندر کا رُخ کیا ۔ایک گہری نظر سے مسجد کے اندرونی حصے کا جائزہ لیا ۔ مسجد کے چاروں کونوں میں صرف چراغ جل رہے تھے انہیں کی روشنی میں دیکھا کہ مسجد مٹی کی بنی ہوئی ہے۔اندر میرے علاؤہ کوئی بھی نہیں تھا۔۔میں نے لباس صاف کیا وضو کے لیے جگہ تلاش کی جو ایک۔۔ ہاتھ والے نلکے کی شکل میں مل گئی وضو کیا اور آتے ہی رب کے حضور سیدھا سجدے میں چلا گیا... مجھے نہیں پتہ تھا وہ کونسی نماز کا وقت تھا میں بس سجدے میں تھا اور روئے جا رہا تھا ہچکیوں سے روئے جا رہا تھا اسی دوران کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک آواز آئی بیٹا کیا بات ہے... میں نے سر اٹھایا سامنے ایک پرسکون چہرے والے بزرگ کو پایا وہ پوچھنے لگے بیٹا تم مسافر ہو؟. میں نے ہاں میں سر ہلایا انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ میں اس مسجد کا مؤذن اور امام ہوں... میں ان کے گلے لگ کر پھر رونے لگ گیا وہ مجھے تھپکی دیتے ہوئے پوچھنے لگے کیا بات ہے. .... میں نے مختصر انکو سارا واقعہ سنایا... انہوں نے مجھ سے میرا اور میری والدہ کا نام پوچھا... میرے بتانے پر وہ آنکھیں بند کر کے کچھ دیر خاموش رہے اور پھر جواب دیا کہ بیٹا اس سارے معاملے کے بہت سے پہلو ہیں..سب سے پہلے تو جان لو کہ کچھ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا... غور سے سنو... وہ سب جنات تھے لیکن مسلمان جنات تھے اور اگر ہم نماز اور قرآن سے دور ہیں تو ہم تقریباً مُردہ ہی ہیں.... وہ تفصیل سے بیان کیے جا رہے تھے کہ سب سے پہلے مجھے جو نظر آیا وہ میرا نفس تھا یعنی ہم اپنے دشمن خود ہیں... دوسرے جو لالٹین کی مدھم روشنی تمہارا ایمان تھی جو غفلت کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکا ہے جنازہ گاہ کو عید گاہ سمجھنا ایسا ہی ہے کہ تم دنیا کی ہمیشہ کی زندگی کے دھوکے میں رہو گے اور ایک دن تمہارا جنازہ بھی پڑھا دیا جائے گا آخری جو تمہیں دفنانے کا عمل تھا اس پر بھی تمہارے اپنے اعمال ہونگے چاہے تو نماز و قرآن کو چھوڑ کر خود کو زندہ مُردہ بنائے رکھو یا عبادت کے زریعے اللہ سے ناطہ جوڑے رکھو.... میں سمجھ گیا تھا یہ سب اللہ کی جانب سے مجھے تنبیہ تھیں کہ سیدھے رستے پر آؤ....میں سنتے ہی پھر سجدے میں چلا گیا میرے منہ سے ایک لفظ نا نکل پا رہا تھا بس دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا رہا طویل سجدے کے بعد سر اُٹھایا تو میرے آس پاس کوئی بھی نہیں تھا میں مسجد کے ایک کونے میں جا کہ بیٹھ کر کلمہ پڑھتا رہا۔۔۔کچھ دیر بعد ایک شخص لاٹھی کے سہارے چلتا مسجد کے اندر آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چونک گیا اور وہیں کھڑے کھڑے زور سے اپنی پکڑی ہوئی لاٹھی کو زمین پر مارا اور بولا فجر کی اذان پڑھو ۔ اور یہ کہتے ہی وہ واپس چلا گیا۔۔۔اس کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ اس کو میرا یہاں ہونا ناگوار گزرا۔ وہ جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے واپس چلا گیا ۔۔۔میں نڈھال سا ہمت کر کے اٹھا اور اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ میں اور اذان؟۔ بمشکل آذان کے الفاظ ذہن میں دہراتے ہوئے مسجد کے اندر مٹی کے بنے محراب میں کھڑا ہو کر اپنی زندگی میں پہلی بار اذان پڑھ رہا تھا ۔۔اذان مکمل کرتے میں اسی جگہ بیٹھ گیا۔۔اور بے یقینی سی کیفیت میں تھا کہ میں نے اذان مکمل پڑھ لی۔۔۔کچھ لمحات گزرنے پر مجھے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی میں نے بیٹھے بیٹھے مسجد کے بیرونی جانب دیکھا تو بہت سے لوگ مسجد میں داخل ہو رہے تھے جو سیدھا میری جانب آئے اور صف بنا کر کھڑے ہو گئے وہ سب بزرگ تھے سروں پر عمامے باندھے وہ غالباً دس سے گیارہ تھے ان میں سے ایک نے اقامت پڑھی اور پھر سب میری جانب دیکھنے لگے۔۔یہ سب اتنی جلدی ہؤا کہ میں سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا۔۔اسی دوران ان میں سے ایک نے میری جانب ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا امامت کے لیے کھڑے ہو جائیں ہہ وہی شخص تھا جو لاٹھی کے سہارے مسجد میں آیا تھا۔۔میں حیرت کدہ تھا کہ یہ سب کیا ہے میں نے جیسے ہی کچھ بولنا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکتے ہوئے کہا ۔۔ہمارے قبیلے کی روایت ہے جو پہلے مسجد میں داخل ہوا ۔۔وہی اذان دے گا اور وہی امامت کروائے گا آج آپ پہلے آ گئے یہ شرف آپ کو ملا ہے مبارک ہو ۔۔ ایک اندیکھی سی طاقت کے زیرِ اثر میں کھڑا ہوا ۔۔میرا ذہن ماؤف سا تھا میں نے تکبیر پڑھی اور ہاتھ باندھے قرآت پڑھنے لگا۔۔۔میں قرآن کی وہ سورتیں پڑھ رہا تھا جو مجھے یاد بھی نہیں تھیں کیسے منہ سے تلاوت نکلے جا رہی تھی۔۔تشہد مکمل کرتے ہی دائیں جانب سلام پھیرا جیسے ہی بائیں جانب سلام پھیرا مسجد میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔۔سلام پھرتے ہی چراغ بجھ گئے۔۔میں فوراً پیچھے مڑا اور مڑتے ہی دیکھا پیچھے کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔میں شدید خوف سے کانپ کر رہ گیا ۔۔میرا دل ڈوبے جا رہا تھا اسی دوران مجھ پر غنودگی طاری ہو گئی اور میں ایک جانب لڑھک گیا ۔۔
پرندوں کے چہچہانے سے میری آنکھ کھلی
میں یکلخت اٹھ کھڑا ہوا تیزی سے ارد گرد دیکھنے لگا ۔۔صبح ہو چکی تھی میں ایک درخت کے نیچے تھا میرے آس پاس بے شمار درخت تھے نظر دوڑا تے میری نظر ایک چیز پر رک گیئ ۔۔وہ ایک ہاتھ سے چلانے والا نلکا تھا اور میں پہچان گیا تھا یہ وہی تھا جہاں سے کل رات میں نے وضو کیا تھا لیکن یہاں نا کوئی گھر تھے اور نا
کوئی مسجد تھی۔
میں یہ سوچ کر کانپ گیا تھا کہ وہ سب کے سب جنات تھے
ارد گرد دیکھنے سے مجھے
یہ اندازہ ہو گیا کہ میں ایک باغ میں ہوں ۔۔
دور ایک شخص کو جاتے ہوئے دیکھا تو اسی جانب بھاگتے ہوئے آوازیں دیتا اسے اپنے جانب متوجہ کیا وہ میری آواز سن کر رک گیا میں تیزی سے اس کے پاس پہنچا سلام کیا اور بنا اپنا تعارف کروائے سیدھا اپنے گاؤں کا نام بتا کر پتہ پوچھنے لگا ۔۔
اس نے ایک نظر میرے حلیے پر ڈالتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے راستہ سمجھانے لگا ۔۔
راستے کا تعین کرتے ہی میں تیزی سے اسی جانب چل پڑا
میں نہایت تیزی سے چلتے ہوئے اپنے دماغ میں جھانک ۔۔
رہا تھا مجھ میں یہ سوال تھا کہ میرے ساتھ یہ سب کیا ہوا
جواب میں ایک ہی بات جو میرے اندر گونج رہی تھی وہ یہ
کہ
جب مالک کسی کو راہ راست پر لاتا ہے
تو وہ ہے نمازیوں سے بھی امامت کرواتا ہے؟

intoBlog - Audio, Express, Blog