
@username
No bio available.
اور:- ریاست بچ گئی۔۔۔۔اب سیاست بچاؤ۔!!!!حاجی فضل محمود انجم۔۔
سال 2023ء میں عدم اعتماد کے موقع پر مسلم لیگ ن کے راہنماؤں نے دعوی! کیا تھا کہ ہم اپنی سیاست کی بجاۓ ریاست بچانے آۓ ہیں کیونکہ اس وقت یہ خدشات زبان زدِ عام تھے کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے اور ساتھ ہی یہ خدشات بھی تھے کہ کہیں یہ سیاسی کشمکش۔۔۔۔ذاتی مفادات۔۔۔۔ اقتدار کی جنگ اور اداروں سے ٹکراؤ ملک کو کسی بڑے بڑے بحران سے دوچار نہ کر دے کیونکہ اس وقت ہر طرف بے چینی، بے یقینی، انتشار و افتراق اور الزام تراشی کا دور دورہ تھا۔ ایسے میں اداروں نے یہی سوچا کہ انہیں اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملک کے استحکام و سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے۔ انکی یہ کوشش کامیاب ہوئی اور ریاست ایک بڑے بحران سے صحیح و سلامت نکل آئی لیکن اب یہ سوال بڑی شد و مد سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے ریاست کو تو بحرانوں اور آزمائشوں سے بچا لیا لیکن آپ کی اپنی سیاست پہ ایک بڑا گہرا اور انمٹ سوالیہ نشان لگ گیا۔ حکمران پارٹی کی سیاست پہ لگا ہوا یہ داغ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں اپنی موجودگی ظاہر کرتا رہتا ہے۔اس بات کے تازہ ترین شواہد گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ ہونے والے الیکشن میں زیادہ واضح ہوکر نظر آۓ ہیں جب مسلم لیگ (ن) کو ان انتخابات میں باوجود کوشش کے وہ مینڈیٹ نہ مل سکا جو یہاں پر حکومت بنانے کیلئے ضروری تھا حالانکہ میاں محمد نواز شریف کو بھی بذات خود انتخابی مہم کی قیادت کیلئے باہر نکلنا پڑا لیکن اسکے باوجو پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا باوجود اسکے کہ صوبہ سندھ میں اسکی کارکردگی پر ہر شخص تحفظات کا شکار نظر آتا یے۔ آج مسلم لیگ (ن) کی سیاست بھی کچھ ایسے ہی خطرات سے دوچار ہے کیونکہ عوام مہنگائی و بے روزگاری، تعلیم و صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں،آج مسلم لیگ (ن) اپنی سیاست صرف اور صرف اس طریقے بچا سکتی ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کو ریلیف دے۔ پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی امریکہ ایران جنگ سے پہلے والی قیمتیں فورا" واپس لائیں جنکا انہوں وعدہ کر رکھا ہے اور بار بار کر رکھا ہے۔اب یہی ایک طریقہ ہے سیاست کو بچانے کا ورنہ سیاست بچتی ہوئی نظر نہیں آ رہی کیونکہ عام آدمی کو نہ تو بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی ہے اور نہ ہی پیچیدہ معاشی اصطلاحات سے۔ اس کے مسائل سادہ اور سیدھے ہیں مہنگائی، بجلی و گیس کے بل، روزگار، تعلیم اور صحت ۔ حکومت آسمان سے تارے بھی توڑ لائے لیکن یہ بنیادی مسائل حل نہ کئے تو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو گی۔میاں نواز شریف اب اگر میدان میں خود نکلے ہیں تو وہ سیاست کو بھی بچائیں کیونکہ یہ ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مینڈیٹ تو بہر حال انہی کا ہی ہے۔
intoBlog - Write, Speak, Inspire