Live Audio

میرے مطابق اگر اپ اپنی گفتگو کا معیار ان لوگوں کے ساتھ
 بھی نرم ،اچھا رکھے جو برے ہیں تو وہ بھی اچھے بن سکتے ہیں۔

جو زیادتی یہ سوچ کر کی جاتی ہے

یہ خلا ہے عرش بریں نہیں

کہاں پاؤں رکھوں زمین نہیں

تیرے در پہ سجدے کا شوق ہے

جو یہاں نہیں تو کہیں نہیں

اک احساس ہی کافی ہے خود کے لیے 

مجھے میرے ہونے کا احساس ہے شدت سے 

کب میں خود کو پا لوں گا

وزن کم کرنے کے لیے سہانجنا (Moringa) کا استعمال کیسے کریں؟سہانجنا، جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے، ایک غذائیت سے بھرپور پودا ہے۔ اس کے پتے وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے لیے بھی سہانجنا کا استعمال کرتے ہیں۔سہانجنا وزن کم کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ہاضمہ بہتر بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔کم کیلوریز کے ساتھ غذائیت فراہم کرتا ہے۔سہانجنا استعمال کرنے کے آسان سہانجنا پاؤڈر گھر میں بنانے کا صحیح طریقہسہانجنا (مورنگا) ایک انتہائی مفید پودا ہے جس کے پتے غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اگر پاؤڈر صحیح طریقے سے تیار کیا جائے تو اس کا ذائقہ بہتر رہتا ہے اور غذائیت بھی زیادہ محفوظ رہتی ہے۔سہانجنا پاؤڈر بنانے کے لیے درکار چیزیںتازہ اور صاف سہانجنا کے پتےصاف کپڑا یا ٹرےگرائنڈر یا مصالحہ پیسنے والی مشینہوا بند ڈبہمرحلہ 1: پتوں کی صفائیپتوں کو ڈنڈیوں سے الگ کریں اور صاف پانی سے اچھی طرح دھو لیں تاکہ گردوغبار ختم ہو جائے۔مرحلہ 2: سایہ میں خشک کریںیہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ پتوں کو تیز دھوپ میں خشک کرنے سے ذائقہ کڑوا ہو سکتا ہے اور غذائیت بھی کم ہو سکتی ہے۔پتوں کو صاف کپڑے یا ٹرے پر پھیلا دیں۔ہوا دار اور سایہ دار جگہ پر رکھیں۔3 سے 5 دن تک خشک ہونے دیں۔مرحلہ 3: پاؤڈر بنائیںجب پتے مکمل خشک ہو جائیں تو انہیں گرائنڈر میں باریک پیس لیں۔مرحلہ 4: محفوظ کریںپاؤڈر کو ہوا بند ڈبے میں رکھیں اور نمی سے بچائیں۔سہانجنا پاؤڈر استعمال کرنے کا طریقہصبح نہار منہ آدھا چمچ۔یا ناشتے کے بعد ایک چمچ پانی کے ساتھ۔دہی، لسی یا سوپ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔عام غلطیاں❌ پتوں کو تیز دھوپ میں خشک کرنا❌ گیلے پتوں کو پیسنا❌ کھلے برتن میں ذخیرہ کرنا❌ ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال کرنانتیجہاگر سہانجنا کے پتے سایہ میں خشک کیے جائیں تو پاؤڈر کا ذائقہ بہتر رہتا ہے اور غذائیت بھی محفوظ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو دھوپ میں خشک کیے گئے پتوں کا پاؤڈر کڑوا لگتا ہے۔

اور:- ریاست بچ گئی۔۔۔۔اب سیاست بچاؤ۔!!!!حاجی فضل محمود انجم۔۔       

 سال 2023ء میں عدم اعتماد کے موقع پر مسلم لیگ ن کے راہنماؤں نے دعوی! کیا تھا کہ ہم اپنی سیاست کی بجاۓ ریاست بچانے آۓ ہیں کیونکہ اس وقت یہ خدشات زبان زدِ عام تھے کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے  اور ساتھ ہی یہ خدشات بھی تھے کہ کہیں یہ  سیاسی کشمکش۔۔۔۔ذاتی مفادات۔۔۔۔ اقتدار کی جنگ اور اداروں سے ٹکراؤ ملک کو کسی بڑے بڑے بحران سے دوچار نہ کر دے کیونکہ اس وقت ہر طرف بے چینی، بے یقینی، انتشار و افتراق اور الزام تراشی کا دور دورہ تھا۔ ایسے میں اداروں نے یہی سوچا کہ انہیں اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملک کے استحکام و  سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے۔ انکی یہ کوشش کامیاب ہوئی اور  ریاست ایک بڑے  بحران سے صحیح و سلامت نکل آئی لیکن اب یہ سوال بڑی شد و مد سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے ریاست کو تو بحرانوں اور آزمائشوں سے بچا لیا لیکن آپ کی اپنی سیاست پہ ایک بڑا گہرا اور انمٹ  سوالیہ نشان لگ گیا۔      حکمران پارٹی کی سیاست پہ لگا ہوا یہ داغ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں اپنی موجودگی ظاہر کرتا رہتا ہے۔اس بات کے تازہ ترین شواہد گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ ہونے والے الیکشن میں زیادہ واضح ہوکر نظر آۓ ہیں جب مسلم لیگ (ن) کو ان انتخابات میں باوجود کوشش کے وہ مینڈیٹ نہ مل سکا جو  یہاں پر حکومت بنانے کیلئے ضروری تھا حالانکہ میاں محمد نواز شریف کو بھی بذات خود انتخابی مہم کی قیادت کیلئے باہر نکلنا پڑا لیکن اسکے باوجو پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا باوجود اسکے کہ صوبہ سندھ میں اسکی کارکردگی پر ہر شخص تحفظات کا شکار نظر آتا یے۔     آج مسلم لیگ (ن) کی سیاست بھی کچھ ایسے ہی خطرات سے دوچار ہے کیونکہ عوام مہنگائی و بے روزگاری، تعلیم و صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں،آج مسلم لیگ (ن) اپنی سیاست صرف اور صرف اس طریقے بچا سکتی ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کو ریلیف دے۔ پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی امریکہ ایران جنگ سے پہلے والی قیمتیں فورا" واپس لائیں جنکا انہوں وعدہ کر رکھا ہے اور بار بار کر رکھا ہے۔اب یہی ایک طریقہ ہے سیاست کو بچانے کا ورنہ سیاست بچتی ہوئی نظر نہیں آ رہی کیونکہ عام آدمی کو نہ تو بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی ہے اور نہ ہی پیچیدہ معاشی اصطلاحات سے۔ اس کے مسائل سادہ اور سیدھے ہیں مہنگائی، بجلی و گیس کے بل، روزگار، تعلیم اور صحت ۔ حکومت آسمان سے تارے بھی توڑ لائے لیکن  یہ بنیادی مسائل حل نہ کئے تو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو گی۔میاں نواز شریف اب اگر میدان میں خود نکلے ہیں تو وہ سیاست کو بھی بچائیں کیونکہ یہ ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مینڈیٹ تو بہر حال انہی کا ہی ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے سہانجنا (Moringa) کا استعمال کیسے کریں؟سہانجنا، جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے، ایک غذائیت سے بھرپور پودا ہے۔ اس کے پتے وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے لیے بھی سہانجنا کا استعمال کرتے ہیں۔سہانجنا وزن کم کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ہاضمہ بہتر بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔کم کیلوریز کے ساتھ غذائیت فراہم کرتا ہے۔سہانجنا استعمال کرنے کے آسان طریقے1. سہانجنا کی چائےایک کپ پانی ابالیں، اس میں ایک چمچ خشک سہانجنا کے پتے ڈالیں اور 5 منٹ بعد چھان کر پی لیں۔2. سہانجنا پاؤڈرروزانہ آدھا سے ایک چمچ سہانجنا پاؤڈر پانی یا دہی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔3. تازہ پتےتازہ پتوں کو سالن، سوپ یا سلاد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔وزن کم کرنے کے لیے 30 دن کا آسان پلانپہلے 10 دنروزانہ صبح آدھا چمچ سہانجنا پاؤڈر۔20 سے 30 منٹ چہل قدمی۔اگلے 10 دنصبح آدھا چمچ اور شام آدھا چمچ۔میٹھی اشیاء کم کریں۔آخری 10 دنروزانہ ایک چمچ سہانجنا پاؤڈر۔چہل قدمی 30 منٹ یا اس سے زیادہ کریں۔احتیاطیںضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔حاملہ خواتین ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔اگر کوئی مستقل بیماری یا دوا استعمال کر رہے ہیں تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔نتیجہصرف سہانجنا کھانے سے وزن کم نہیں ہوتا۔ بہتر نتائج کے لیے متوازن غذا، روزانہ واک اور مناسب نیند بھی ضروری ہیں۔ سہانجنا ایک مددگار غذا ہو سکتی ہے جو صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ وزن کم کرنے کے سفر میں معاون بنے۔مصنف: محمد طارق
وزن کم کرنے کے لیے سہانجنا (Moringa) کا استعمال کیسے کریں؟سہانجنا، جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے، ایک غذائیت سے بھرپور پودا ہے۔ اس کے پتے وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے لیے بھی سہانجنا کا استعمال کرتے ہیں۔سہانجنا وزن کم کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے۔بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ہاضمہ بہتر بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔کم کیلوریز کے ساتھ غذائیت فراہم کرتا ہے۔سہانجنا استعمال کرنے کے آسان طریقے1. سہانجنا کی چائےایک کپ پانی ابالیں، اس میں ایک چمچ خشک سہانجنا کے پتے ڈالیں اور 5 منٹ بعد چھان کر پی لیں۔2. سہانجنا پاؤڈرروزانہ آدھا سے ایک چمچ سہانجنا پاؤڈر پانی یا دہی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔3. تازہ پتےتازہ پتوں کو سالن، سوپ یا سلاد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔وزن کم کرنے کے لیے 30 دن کا آسان پلانپہلے 10 دنروزانہ صبح آدھا چمچ سہانجنا پاؤڈر۔20 سے 30 منٹ چہل قدمی۔اگلے 10 دنصبح آدھا چمچ اور شام آدھا چمچ۔میٹھی اشیاء کم کریں۔آخری 10 دنروزانہ ایک چمچ سہانجنا پاؤڈر۔چہل قدمی 30 منٹ یا اس سے زیادہ کریں۔احتیاطیںضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔حاملہ خواتین ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔اگر کوئی مستقل بیماری یا دوا استعمال کر رہے ہیں تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔نتیجہصرف سہانجنا کھانے سے وزن کم نہیں ہوتا۔ بہتر نتائج کے لیے متوازن غذا، روزانہ واک اور مناسب نیند بھی ضروری ہیں۔ سہانجنا ایک مددگار غذا ہو سکتی ہے جو صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ وزن کم کرنے کے سفر میں معاون بنے۔مصنف: محمد طارق
چیونٹیوں کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں شور نہیں ہوتا، مگر زندگی ہر لمحہ رواں رہتی ہے۔ زمین کے نیچے بنی ہوئی ان کی باریک سی بستیوں میں ہزاروں چیونٹیاں آباد ہوتی ہیں۔ کوئی نوزائیدہ ہوتی ہے، کوئی جوان اور کوئی عمر کے تجربات سمیٹے اپنی نسل کی رہنمائی کر رہی ہوتی ہے۔
اس دنیا کے باسیوں کو معلوم ہے کہ رزق کہیں نہ کہیں ان کے لیے رکھا گیا ہے۔ کبھی گھنے جنگلوں کے درمیان، کبھی پہاڑوں کی دراڑوں میں، کبھی کھیتوں کی منڈیروں پر اور کبھی انسانوں کے گھروں کے آس پاس۔ وہ جانتی ہیں کہ زمین کا ہر ذرہ اپنے اندر کسی نہ کسی کا حصہ چھپائے ہوئے ہے۔
جب کوئی چیونٹی پیدا ہوتی ہے تو اسے رزق کی فکر نہیں ہوتی۔ اس کی ماں یا اس کے باپ جیسے بزرگ چیونٹیاں اس کے لیے دانہ دانہ اکٹھا کر کے لاتی ہیں۔ وہ اپنی ننھی سی گل میں بیٹھی رہتی ہے اور اس کا رزق اس تک پہنچتا رہتا ہے۔ وقت گزرتا ہے، موسم بدلتے ہیں اور وہ ننھی چیونٹی آہستہ آہستہ بڑی ہونے لگتی ہے۔
پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب اسے بتایا جاتا ہے کہ اب وہ خود اپنے حصے کا رزق تلاش کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ اب اسے اپنی گل کی محفوظ دیواروں سے نکل کر دنیا کی وسعتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
کچھ چیونٹیاں وقت آنے پر باہر نکلتی ہیں۔ وہ منظم قطاروں میں چلتی ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں اور منزل کی طرف بڑھتی رہتی ہیں۔ لیکن کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں حالات وقت سے پہلے ہی باہر آنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کی گلوں میں تنگی آ جاتی ہے، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں یا پھر زندگی انہیں جلدی بالغ ہونے کا سبق سکھا دیتی ہے۔ وہ چھوٹی عمر میں ہی رزق کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں۔
اور کچھ خوش نصیب چیونٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اپنی پوری زندگی گل سے باہر آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان تک رزق خود پہنچتا رہتا ہے۔ وہ اپنی دنیا کے اندر ہی رہتی ہیں اور ان کے حصے کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں۔
مگر جو چیونٹیاں مجبوری، ضرورت یا ذمہ داری کے تحت اپنی گلوں سے نکلتی ہیں، ان کا سفر سب سے منفرد ہوتا ہے۔ وہ گروہوں کی صورت میں چلتی ہیں۔ کبھی لمبی قطار بناتی ہیں، کبھی بکھر جاتی ہیں اور کبھی دوبارہ ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتی ہیں۔ راستے میں کانٹے بھی آتے ہیں، پتھر بھی، ڈھلوانیں بھی اور اندھیرے راستے بھی۔ مگر وہ رکتی نہیں۔
انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا رزق کہیں نہ کہیں ان کا انتظار کر رہا ہے۔ چنانچہ وہ چلتی رہتی ہیں، تلاش کرتی رہتی ہیں اور آخرکار اپنے حصے کا دانہ پا لیتی ہیں۔
پھر وہ اس رزق کو اپنے کندھوں پر اٹھائے واپس اپنی گلوں کی طرف لوٹتی ہیں۔ ان کے قدم تھکے ہوئے ہوتے ہیں مگر دل مطمئن ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ آج انہوں نے صرف اپنا ہی نہیں بلکہ اپنی پوری بستی کا حصہ تلاش کیا ہے۔
چیونٹیوں کی دنیا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رزق کی تقسیم پہلے ہی طے ہے، مگر اس تک پہنچنے کے راستے سب کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کو رزق گھر بیٹھے مل جاتا ہے، کسی کو وقت آنے پر نکلنا پڑتا ہے اور کسی کو حالات وقت سے پہلے ہی سفر پر روانہ کر دیتے ہیں۔ مگر جو نکل پڑتے ہیں، وہ جان لیتے ہیں کہ منزل انہی کو ملتی ہے جو راستوں کی دشواریوں سے گھبراتے نہیں۔

Pull down to refresh