خود مختار فیصلہ سازی اور نتائج کی ذمہ داری: قرآنی ہدایات، نبوی تعلیمات اور عقلی استدلال کا تحقیقی جائزہ
✍🏻: ہارون سیف
فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور۔
خود مختار ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، شعور اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ فیصلے کرے، ان فیصلوں کے نتائج کو قبول کرے اور کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کرے۔ مشاورت اسلام میں ایک اہم اصول ہے، تاہم مشاورت کا مقصد فیصلہ سازی میں رہنمائی حاصل کرنا ہے، نہ کہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ﴾ (آل عمران: 159) یعنی "پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مشورہ لینے کے بعد آخری فیصلہ خود کرنا اور اس کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" (صحیح بخاری) یعنی "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہر انسان اپنے دائرۂ اختیار میں کیے گئے فیصلوں کا خود جواب دہ ہے۔
عقلی اعتبار سے بھی خود مختاری ذمہ دارانہ زندگی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان اپنے فیصلوں کے نتائج دوسروں پر ڈالنے لگے تو اس کی شخصیت میں پختگی پیدا نہیں ہوتی اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے الزام تراشی کا عادی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے وہ تجربات سے سیکھتا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا اور اعتمادِ نفس حاصل کرتا ہے۔ یہی رویہ انفرادی اور اجتماعی ترقی کا سبب بنتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی جامعہ کا انتخاب کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ، والدین اور دوستوں سے مشورہ کرتا ہے، لیکن آخرکار فیصلہ خود کرتا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جائے تو اسے اپنی محنت اور درست انتخاب کا اعتراف کرنا چاہیے، اور اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی حکمتِ عملی کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس مثال سے خود مختاری کی دونوں جہتیں واضح ہوتی ہیں: ایک طرف مشاورت سے استفادہ اور دوسری طرف فیصلے اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا۔ یہی طرزِ عمل ایک بالغ، باکردار اور ذمہ دار انسان کی علامت ہے۔
اگر زندگی میں آپ کے ساتھ کوئی دھوکا کر جاے دغا دے جاے اتنا ظلم کرے کہ آ پ کا جینا مشکل ہو جائے کہ کچھ نہ رہے اس طرح سے زندگی تنگ کر دی جائے۔۔۔ تو خدا سے صرف دو دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس پر صبر کی توفیق دے کیونکہ اللہ کو
صبر کرنے والے پسند ہیں
دوسرا اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طاقت سے ایسی طاقت عطا فرمائے کہ بدلہ لے سکے سب سے پہلے اللہ ہمیں صبر اور شکر کرنے والوں میں شامل رکھیں آ مین
Pull down to refresh