
Sana's word
“Trying to become closer to Allah every day 🤍”
دل پریشان ہو اور کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو تو یہ یاد رکھیں:
"کبھی کبھی اللہ راستے نہیں دکھاتا، بلکہ پہلے صبر سکھاتا ہے۔"
جب دل بوجھل ہو، آنکھیں نم ہوں، اور ہر طرف اندھیرا محسوس ہو، تو مایوس نہ ہوں۔ وہی اللہ جس نے سمندر میں حضرت موسیٰؑ کے لیے راستہ بنایا، آگ میں حضرت ابراہیمؑ کے لیے سلامتی پیدا کی، اور کنویں سے حضرت یوسفؑ کو عزت کی بلندیوں تک پہنچایا، وہی اللہ آج بھی اپنے بندوں کی مدد پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔"
(سورۃ الطلاق 65:2-3)
اگر آج کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تو پریشان نہ ہوں، ممکن ہے اللہ آپ کے لیے ایسا راستہ تیار کر رہا ہو جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔
اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، دعا کرتے رہیں، کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ 🌿✨
دل پریشان ہو اور کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو تو یہ یاد رکھیں:
"کبھی کبھی اللہ راستے نہیں دکھاتا، بلکہ پہلے صبر سکھاتا ہے۔"
جب دل بوجھل ہو، آنکھیں نم ہوں، اور ہر طرف اندھیرا محسوس ہو، تو مایوس نہ ہوں۔ وہی اللہ جس نے سمندر میں حضرت موسیٰؑ کے لیے راستہ بنایا، آگ میں حضرت ابراہیمؑ کے لیے سلامتی پیدا کی، اور کنویں سے حضرت یوسفؑ کو عزت کی بلندیوں تک پہنچایا، وہی اللہ آج بھی اپنے بندوں کی مدد پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔"
(سورۃ الطلاق 65:2-3)
اگر آج کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تو پریشان نہ ہوں، ممکن ہے اللہ آپ کے لیے ایسا راستہ تیار کر رہا ہو جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔
اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، دعا کرتے رہیں، کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ 🌿✨
جب نا ملنے کا خوف ستانے لگے تو یقین سے دعائیں مانگنا،
جب صبر نہ آرہا ہو تب جائے نماز اٹھا کہ خوب رونا،
جب ہمت ہار ماننے لگے تب سجدوں میں اس سے،
ڈھیر ساری باتیں کرنے لگنا،
جب سکون نہ پہنچ پا رہا ہو تو تہجد پڑھنا،
جب اس سے تسلی ملتا دیکھنا چاہ رہے ہو تو قرآن کو پڑھ لینا،
جب انتظار نہیں کر پا رہے ہو تو بس اسکے کن ہونے کا انتظار کرنا
جب دل بوجھل ہو جائے، راستے بند نظر آئیں اور اللہ کے سوا کوئی سہارا نہ دکھائی دے، تو یاد رکھیں:
"اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔"
📖 سورۃ الطلاق 65:2-3
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
"جان لو کہ اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے، اور ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔"
(مسند احمد)
✨ جب دنیا کے دروازے بند ہوتے محسوس ہوں، تب اللہ کے دروازے کھلتے ہیں۔
✨ جب کوئی سمجھنے والا نہ ہو، اللہ سب سن رہا ہوتا ہے۔
✨ جب امید ٹوٹنے لگے، تب دعا کو مضبوطی سے تھام لیں۔
اللہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ بس یقین، صبر اور دعا کا دامن نہ چھوڑیں۔ 🤍
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الله پاک كوبھت پسند ھے
وہ د ل،
جس میں مخلوق كا درد ھو.
وہ جگہ،
جھاں الله پاک کا ذ کر ھو.
وہ آنکھیں،
جن میں حیا ھو.
وہ شخص،
جو وعدہ وفا کرتا ھو.
وہ آنسو،
جو خوف خدا سے گرے.
وہ خد مت
جو بغیر مطلب کے ھو.
یا الله !
ھم سب کو یہ صفات عطا فرما .
آمین.
ہمارا "رب" کتنا عظیم اور اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الله پاک كوبھت پسند ھے
وہ د ل،
جس میں مخلوق كا درد ھو.
وہ جگہ،
جھاں الله پاک کا ذ کر ھو.
وہ آنکھیں،
جن میں حیا ھو.
وہ شخص،
جو وعدہ وفا کرتا ھو.
وہ آنسو،
جو خوف خدا سے گرے.
وہ خد مت
جو بغیر مطلب کے ھو.
یا الله !
ھم سب کو یہ صفات عطا فرما .
آمین.
ہمارا "رب" کتنا عظیم اور غفورالرحیم ھے،
الله سے دعا ہے کہ آپ پر ہمیشہ رحم و کرم فرماۓ،صحت اور تندرُستی عطا فرمے
اور آپکو ہمیشہ خوش و آباد رکهے.
آمین یاربالعالمین ۔غفورالرحیم ھے،
الله سے دعا ہے کہ آپ پر ہمیشہ رحم و کرم فرماۓ،صحت اور تندرُستی عطا فرمے
اور آپکو ہمیش
ہ خوش و آباد رکهے.
آمین یاربالعالمین ۔
جب ہم مسلسل اللہ سے دعا مانگتے ہیں...
کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں، مگر اللہ تعالیٰ ہماری ہر دعا سنتا ہے۔ بعض دعائیں فوراً قبول ہو جاتی ہیں، بعض میں تاخیر ہوتی ہے، اور بعض کے بدلے اللہ ہمیں کوئی بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے۔
اللہ سے مانگتے رہو، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ جب راستے بند نظر آئیں، امید ٹوٹنے لگے، اور دل پریشان ہو، تب بھی اپنے رب کا دروازہ نہ چھوڑو۔ وہی رب ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" (سورۃ غافر 40:60)
یاد رکھیں، دعا صرف مانگنے کا نام نہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرنے کا نام ہے۔
"دعا کرتے رہو، کیونکہ اللہ خاموش دعاؤں کو بھی سنتا ہے، آنسوؤں کو بھی جانتا ہے، اور دل کی ہر بات سے واقف ہے۔" 🤍
عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں…
یہ حضرت حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت،
حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری
اور اللہ کی رضا پر سب کچھ قربان کر دینے کا پیغام ہے۔ ✨
یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ
صرف جانور نہیں،
بلکہ اپنے غرور، حسد، نفرت اور گناہوں کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنا چاہیے۔ 🤍
قربانی کا اصل مقصد دلوں کی نیت اور تقویٰ ہے۔
“اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
— سورۃ الحج 22:37
🌙 عیدالاضحیٰ محبت، ایثار، صبر اور بندگی کا درس دیتی ہے۔
اللہ ہمیں حقیقی قربانی کی روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تلبیہ اور تکبیرات دونوں اللہ کی بڑائی بیان کرنے والے اذکار ہیں، لیکن ان کے الفاظ، موقع اور مقصد مختلف ہوتے ہیں۔
تلبیہ کیا ہے؟
حج یا عمرہ کی نیت کے بعد جو مخصوص دعا پڑھی جاتی ہے اسے تلبیہ کہتے ہیں۔
تلبیہ کے الفاظ:
لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ،
لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ،
إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ،
لَا شَرِيكَ لَكَ
معنی:
“اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں۔”
تلبیہ کب پڑھا جاتا ہے؟
صرف حج اور عمرہ کے دوران
احرام باندھنے کے بعد
بار بار پڑھنا سنت ہے، خاص طور پر:
اونچی جگہ چڑھتے وقت
نیچے اترتے وقت
نماز کے بعد
قافلے سے ملتے وقت
تلبیہ کب تک پڑھتے ہیں؟
عمرہ میں: طواف شروع ہونے تک
حج میں: جمرۂ عقبہ کو کنکری مارنے تک
تکبیرات کیا ہیں؟
“اللہ اکبر” کہنا یا مخصوص تکبیر پڑھنا تکبیرات کہلاتا ہے۔
عام تکبیر:
اَللّٰهُ أَكْبَر
“اللہ سب سے بڑا ہے”
تکبیرِ تشریق کیا ہے؟
عید الاضحیٰ کے دنوں میں پڑھی جانے والی خاص تکبیر۔
الفاظ:
اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ،
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ،
اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ
کب پڑھی جاتی ہے؟
9 ذوالحجہ (فجر) سے
13 ذوالحجہ (عصر) تک
ہر فرض نماز کے بعد
مختصر فرق
تلبیہ
تکبیرات
حج و عمرہ سے خاص
عام عبادات اور عید کے ایام میں
“لبیک اللہم لبیک…”
“اللہ اکبر…”
احرام کے بعد پڑھی جاتی ہے
نمازوں کے بعد یا مختلف مواقع پر
بندے کی حاضری اور اطاعت کا اعلان
اللہ کی عظمت و بڑائی کا بیان
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا
“لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل اور دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں گے۔”
— سورۃ الحج: 27
اور تکبیر کے بارے میں:
وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ
“تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمہیں دی۔”
— سورۃ البقرہ: 185
ظلم چاہے کتنا ہی بڑھ جائے،
اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتا۔
جب تمہیں لگے کہ ظالم حد سے بڑھ رہا ہے تو
حضرت موسیٰ اور فرعون کو یاد کر لینا…
دریا بھی اللہ کے حکم سے راستہ دے دیتا ہے،
اور غرور میں ڈوبا بادشاہ اپنے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔
اور جب اپنے ہی لوگ دل دکھائیں،
سازشیں کریں، تنہا چھوڑ دیں تو
حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کو یاد کر لینا…
کنویں سے لے کر مصر کی عزت تک کا سفر
یہ سکھاتا ہے کہ اللہ جس کے ساتھ ہو،
اسے کوئی گرا نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
(سورۃ البقرہ 2:153)
اور فرمایا:
"اور ہم نے چاہا کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیے گئے تھے…"
(سورۃ القصص 28:5)
یاد رکھو…
ظلم وقتی ہوتا ہے،
مگر اللہ کا انصاف ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
intoBlog - Audio, Express, Blog