
Why We Should Always Think Positive Even in Worst Situation??
Ans : Thinking positive will always help you coming out of that situation, and you will learn from those negative experiences and that'll help you to showcase the better version of yourself and not to repeat those mistakes that makes you in that situation. It is the only positive thinking that will enable you to learn more from different experiences of life.

لینکس سیکھنے کے سفر میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ صرف کمانڈز یاد کرنے کے بجائے یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ سسٹم اصل میں کام کیسے کرتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک عام صارف اور ایک ماہر شخص کے درمیان فرق پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ صرف تیار شدہ حل استعمال کرتے ہیں، لیکن لینکس آپ کو مسائل کی جڑ تک پہنچنا سکھاتا ہے۔ جب کوئی سروس بند ہو جائے، کوئی ویب سائٹ کام نہ کرے یا کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو آپ صرف مسئلہ نہیں دیکھتے بلکہ اس کی وجہ تلاش کرنا بھی سیکھتے ہیں۔
لینکس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ آپ کو خود مختار بناتا ہے۔ آپ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں اور اپنے سسٹم کو خود سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ یہی مہارت آگے چل کر سرور مینجمنٹ، ویب ہوسٹنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں فائدہ دیتی ہے۔
یاد رکھیں کہ مہارت ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی۔ روزانہ تھوڑا وقت دینا، نئی چیزیں آزمانا اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہی ترقی کا راستہ ہے۔ ہر نیا سبق آپ کو پہلے سے بہتر بناتا ہے اور ہر مسئلہ آپ کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے۔
اگر آپ مستقل مزاجی کے ساتھ لینکس سیکھتے رہیں تو آنے والے وقت میں یہی علم آپ کے لیے نئے مواقع، بہتر روزگار اور مضبوط فنی صلاحیتوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

کہاوت ہے کہ اگر تمھاری بحث کسی بدتمیز شخص سے ہو رہی ہو تو چپ کر کے ہار مان لو۔ کیونکہ تمھاری آواز میں چاہے کتنا ہی دم کیوں نہ ہو تم کتے سے اونچا نہیں بھونک سکتے
جب دنیا آپ کو اکیلا چھوڑ دے تو بھیڑیے کی طرح اکیلے لڑنا سیکھیں، اور جب اپنوں کے ساتھ ہوں تو ایک ایسی طاقت بنیں جسے کوئی توڑ نہ سکے۔ اکیلے رہنا کوئی مجبوری نہیں، بلکہ ایک خاموش طاقت ہے۔ (بھیڑیا بھیڑ میں نہیں، اپنی بادشاہت میں جینا پسند کرتا ہے)۔
زندگی میں شور مچانا اور دکھاوا کرنا چھوڑیں، اپنے اندر وہ رعب اور ہمت پیدا کریں کہ آپ کی خاموشی بھی سامنے والے کے دل میں عزت پیدا کر دے۔ شیر کبھی بھونکتا نہیں، وہ سیدھا شکار کرتا ہے۔ (راجہ بننے کے لیے چہرہ نہیں، جگر بڑا ہونا چاہیے)۔
اگر اونچا اڑنا ہے تو نیچے مت دیکھو۔ عقاب کی طرح اپنی نظریں صرف اپنے ٹارگٹ پر رکھو۔ نیچے اڑنے والے پرندوں کی باتوں پر دھیان مت دو، کیونکہ تمہارا مقابلہ آسمان سے ہے۔ (طوفان میں پرندے چھپ جاتے ہیں، لیکن عقاب اس طوفان کے اوپر اڑتا ہے)۔
زندگی میں جب ایک بار فیصلہ کر لیں کہ آپ کو کیا بننا ہے، تو پھر پیچھے مڑ کر مت دیکھیں۔ چیتے کی طرح اپنی پوری جان اور رفتار اس ایک مقصد کو پانے میں لگا دیں، کیونکہ آدھے دل سے کی گئی کوشش کبھی کامیابی نہیں دیتی۔ (شکار چھوٹ جائے، لیکن چیتے کی کوشش میں کمی نہیں آتی)۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آج آپ کتنے چھوٹے ہیں یا آپ کے حالات کتنے کمزور ہیں۔ اگر ایک چھوٹی سی چیونٹی ہمت نہیں ہارتی اور اپنے وزن سے دس گنا بڑا بوجھ اٹھا لیتی ہے، تو آپ تو انسان ہیں! اپنی اوقات سے بڑا سوچیں اور اتنی ہی بڑی محنت کریں۔ (چیونٹی دیوار سے سو بار گرتی ہے، مگر رستہ نہیں بدلتی)۔
اصل بات یہ ہے بھائی کہ کامیابی کا تعلق آپ کے جسم، سائز یا آپ کی شروعات سے نہیں ہے، بلکہ یہ سب آپ کی سوچ کا کھیل ہے۔ اگر آپ کے اندر یہ پانچ باتیں آ جائیں—بھیڑیے جیسی پلاننگ، شیر جیسی بے خوفی، عقاب جیسا فوکس، چیتے جیسی پاگل پن کی حد تک کوشش، اور چیونٹی جیسا کبھی ہار نہ ماننے والا جذبہ—تو یہ دنیا آپ کو کبھی جھکا نہیں سکتی۔ اپنے اندر کی اس خاموش طاقت کو جگائیں اور آج ہی سے اپنا گیم چینج کریں۔

What Is PCOS/PMOS?
Signs Every Woman Should Know
"اگر میری قبض ٹھیک نہ ہوئی تو میں اپنا پیٹ پھاڑ کر اپنی آنتیں باہر نکالوں گا اور پھر خود صاف کروں گا!"
یہ الفاظ تھے اتر پردیش (بھارت) سے تعلق رکھنے والے میرے ایک مریض اوم پرکاش کے، جو مجھ سے آن لائن مشورہ کر رہا تھا۔
پہلی نظر میں یہ الفاظ عجیب، غیر منطقی اور حد سے زیادہ لگتے ہیں، لیکن جب آپ روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں جو کئی کئی سال سے قبض، گیس، پیٹ پھولنے، بدہضمی، آئی بی ایس اور آنتوں کے مسائل کا شکار ہوں تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، یہ ایک انسان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی تھکن کی چیخ ہوتی ہے۔
میرے پاس ایسے مریض بھی آتے ہیں جو کہتے ہیں:
"ڈاکٹر صاحب! ہاتھ سے پاخانہ نکالنا پڑتا ہے۔"
"ڈاکٹر صاحب! زندگی عذاب بن گئی ہے۔"
"میں ہر وقت اپنے پیٹ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔"
"مجھے لگتا ہے میری کوئی خطرناک بیماری ہے۔"
اور بعض اوقات کچھ لوگ اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ زندگی سے ہی بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان آنتوں کو Second Brain (دوسرا دماغ) کہتے ہیں۔
گٹ برین ایکسس (Gut-Brain Axis) کیا ہے؟
آپ کے دماغ اور آنتوں کے درمیان ایک مسلسل رابطہ موجود ہوتا ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔
جب آپ پریشان ہوتے ہیں تو پیٹ خراب ہو جاتا ہے، اور جب آنتیں خراب ہوتی ہیں تو دماغ متاثر ہوتا ہے۔
یعنی دماغ آنتوں پر اثر ڈالتا ہے اور آنتیں دماغ پر۔
اسی لیے بعض لوگوں کو امتحان، انٹرویو یا ذہنی دباؤ کے دوران دست لگ جاتے ہیں یا پیٹ میں مروڑ شروع ہو جاتے ہیں۔
سیروٹونن اور آنتوں کا تعلق
بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جسم میں موجود تقریباً 90 فیصد سیروٹونن آنتوں میں بنتا ہے۔
سیروٹونن ایک اہم کیمیکل ہے جو:
✔ موڈ بہتر کرتا ہے
✔ خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتا ہے
✔ نیند کو متاثر کرتا ہے
✔ آنتوں کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے
جب آنتوں کی صحت خراب ہوتی ہے، آنتوں میں سوزش ہوتی ہے یا گٹ بیکٹیریا کا توازن بگڑ جاتا ہے تو سیروٹونن کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
نتیجتاً:
- چڑچڑاپن بڑھ سکتا ہے
- غصہ زیادہ آ سکتا ہے
- بے چینی پیدا ہو سکتی ہے
- ڈپریشن کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں
- ہر وقت بیماری کا خوف لاحق رہ سکتا ہے
بعض مریضوں کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیوں دی جاتی ہیں؟
بہت سے مریض حیران ہوتے ہیں جب آئی بی ایس یا دائمی قبض کے ساتھ انہیں اینٹی ڈپریسنٹ دوا دی جاتی ہے۔
وہ فوراً کہتے ہیں:
"ڈاکٹر صاحب! کیا آپ مجھے پاگل سمجھتے ہیں؟"
حقیقت یہ ہے کہ ایسا بالکل نہیں۔
بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات دماغ اور آنتوں کے درمیان موجود اعصابی رابطے کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ ادویات:
✔ آنتوں کی حساسیت کم کر سکتی ہیں
✔ پیٹ کے درد میں کمی لا سکتی ہیں
✔ بے چینی اور ڈپریشن کم کر سکتی ہیں
✔ مریض کی مجموعی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں
اسی لیے دنیا بھر میں آئی بی ایس اور بعض دائمی آنتوں کے مریضوں میں یہ ادویات مناسب مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ایک اور بڑی غلطی
میں روزانہ ایسے مریض دیکھتا ہوں جو اپنی بیماری سے زیادہ اپنی بیماری کے بارے میں سوچ سوچ کر بیمار ہو جاتے ہیں۔
ہر وقت گوگل سرچ کرنا...
ہر درد کو کینسر سمجھنا...
ہر گیس کو خطرناک بیماری سمجھنا...
ہر رپورٹ کو بار بار دیکھنا...
یہ عادتیں خود ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہیں، اور ذہنی دباؤ آنتوں کو مزید خراب کرتا ہے۔
یہ ایک شیطانی چکر بن جاتا ہے۔
آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے کیا کریں؟
✔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے پرسکون نیند لیں۔
✔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کریں۔
✔ پانی مناسب مقدار میں پئیں۔
✔ فائبر والی غذائیں استعمال کریں:
دلیا، سلاد، سبزیاں، پھل، بیج، بادام، اخروٹ اور دالیں۔
✔ دہی اور قدرتی پروبائیوٹکس کو خوراک کا حصہ بنائیں۔
✔ تمباکو نوشی اور نشے سے مکمل پرہیز کریں۔
✔ بیکری آئٹمز، فاسٹ فوڈ اور بازاری کھانوں کو محدود کریں۔
✔ حسد، موازنہ اور دوسروں کی زندگیوں سے متاثر ہونے کی عادت چھوڑیں۔
✔ شکرگزاری اپنائیں۔
✔ ہر چھوٹی علامت کو خطرناک بیماری سمجھ کر خوفزدہ نہ ہوں۔
✔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں لیکن اپنی صحت کی ذمہ داری خود بھی لیں۔
یاد رکھیں
اگر آپ کی آنتیں بیمار ہیں تو صرف آپ کا معدہ متاثر نہیں ہوتا، آپ کی نیند، آپ کی سوچ، آپ کا موڈ، آپ کی خوشی، آپ کی توانائی اور بعض اوقات زندگی کے بارے میں آپ کا پورا نقطۂ نظر متاثر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے آنتوں کا خیال رکھیں...
کیونکہ بعض اوقات صحت کا سفر دماغ سے نہیں، آنتوں سے شروع ہوتا ہے۔
Copied
Pull down to refresh