"المجالس بالأمانة" گفتگو، رازداری اور نقلِ کلام کے اصول": ایک فکری و معاشرتی جائزہ
✍🏻: مولانا ہارون سیف اعوان
فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسلامک اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور۔
المجالس بالامانة... الحدیث
ترجمہ: مجلس کی بات امانت ہے.
وضاحت: مجلس کی بات امانت ہے ورنہ نتیجہ تعلق کی موت ہے۔
اجمال: پوری محفل کی سب باتوں کو ترتیب سے اور تقاضوں کے مطابق پوری سچائی سے پہنچانا ہی دراصل امانت داری ہے اور جس انداز میں محفل کی بات ہوتی ہے اسی انداز میں اسی بات کو آگے نقل کرنا ہی دراصل بھلائی ہے اور جتنے لوگوں میں راز کی بات کی جائے تو اتنے لوگوں میں بات رکھنا ہی دراصل رازداری ہے اور جب بات سرعام محفل میں کردی جائے تو اس بات کو آگے پھیلانا ہی دراصل مقصود ہوتا ہے۔
اجمال کی تفصیل: پوری محفل کی سب باتوں کو ترتیب سے اور تقاضوں کے مطابق پوری سچائی سے پہنچانا ہی دراصل امانت داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی محفل کی گفتگو کو آگے بیان کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی، تحریف، مبالغہ یا ذاتی رائے شامل نہ کی جائے بلکہ جو بات جس ترتیب اور حقیقت کے ساتھ کہی گئی ہو اسی طرح بیان کی جائے۔ امانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ بات کو اس کے اصل مفہوم کے مطابق منتقل کیا جائے۔
اور جس انداز میں محفل کی بات ہوتی ہے اسی انداز میں اسی بات کو آگے نقل کرنا ہی دراصل بھلائی ہے۔ اگر محفل میں سنجیدہ گفتگو ہوئی ہو تو اسے سنجیدگی کے ساتھ اور اگر مزاحیہ انداز میں کوئی بات ہوئی ہو تو اسے اسی تناظر میں بیان کیا جائے۔ انداز کی تبدیلی بعض اوقات مفہوم کو بدل دیتی ہے اور غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے، اس لیے اصل لہجہ اور سیاق و سباق محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
اور جتنے لوگوں میں راز کی بات کی جائے تو اتنے لوگوں میں بات رکھنا ہی دراصل رازداری ہے۔ یعنی اگر کوئی بات محدود افراد کے درمیان کہی گئی ہو تو اسے اسی محدود دائرے میں رکھنا چاہیے۔ راز کی حفاظت اعتماد کی بنیاد ہے اور اس کی خلاف ورزی تعلقات میں دراڑ پیدا کر سکتی ہے۔
اور جب بات سرعام محفل میں کردی جائے تو اس بات کو آگے پھیلانا ہی دراصل مقصود ہوتا ہے۔ کیونکہ عوامی محفل میں کہی جانے والی بات عام لوگوں تک پہنچانے ہی کے لیے ہوتی ہے، اس لیے ایسی بات کو بیان کرنا امانت کے خلاف نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر ایک تعلیمی نشست میں ادارے کے سربراہ نے اساتذہ کے سامنے آئندہ پروگرام کی تفصیلات بیان کیں اور ساتھ ہی چند انتظامی امور صرف متعلقہ کمیٹی کے ارکان تک محدود رکھنے کی ہدایت کی۔ اس صورت میں پروگرام کی عمومی معلومات دوسروں تک پہنچانا درست ہے، لیکن کمیٹی کے لیے مخصوص امور کو اسی دائرے میں رکھنا رازداری ہے۔ اسی طرح اگر سربراہ نے خوشگوار انداز میں کوئی مزاحیہ جملہ کہا ہو تو اسے سنجیدہ الزام بنا کر پیش کرنا امانت داری کے خلاف ہوگا۔ یوں سچائی، اصل انداز، رازداری اور سیاق و سباق کی حفاظت ہی مجلس کی امانت کا حقیقی مفہوم ہے۔
محفل کی مختلف نوعیت کی اقسام اور انکی مختصر وضاحت درج ذیل ہے:
1۔ خفیہ و رازدارانہ محفل
ایسی محفل جس میں نجی، حساس یا راز کی باتیں کی جائیں، ان باتوں کو محفل کے دائرے سے باہر منتقل کرنا امانت کے خلاف ہے۔
2۔ پر تکلف یا بے تکلف محفل
پر تکلف محفل میں رسمی انداز اور بے تکلف محفل میں دوستانہ انداز غالب ہوتا ہے، لہٰذا بات کو اسی ماحول اور لہجے کے مطابق آگے بیان کرنا چاہیے۔
3۔ متانت و سنجیدگی والی محفل
اس محفل میں اہم اور فکر انگیز موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں، اس لیے ان کی نقل میں سنجیدگی اور وقار برقرار رکھنا ضروری ہے۔
4۔ مزاح و مذاق والی محفل
اس قسم کی محفل میں باتیں خوش طبعی اور تفریح کے انداز میں ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں غلط مفہوم یا سنجیدہ رنگ دے کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
5۔ عزت و ذلت والی محفل
اگر محفل میں کسی کی تعریف، تنقید، عزت افزائی یا تحقیر کی بات ہو تو اسے نقل کرتے وقت عدل، احتیاط اور امانت داری لازم ہے۔
6۔ توجہ و انہماک والی محفل
ایسی محفل میں شرکاء پوری یکسوئی کے ساتھ گفتگو سنتے اور سمجھتے ہیں، اس لیے اس کے مندرجات کو درست انداز میں منتقل کرنا ضروری ہے۔
7۔ بے دلی و نظر انداز والی محفل
اس محفل میں توجہ کم ہوتی ہے اور بعض باتیں غیر اہم سمجھی جاتی ہیں، لہٰذا ادھوری یا غیر مصدقہ باتوں کو آگے پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
8۔ تماش بینی و تماش گیری والی محفل
ایسی محفل میں لوگ زیادہ تر مشاہدہ، دلچسپی یا تفریح کے لیے شریک ہوتے ہیں، اس لیے باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا امانت کے منافی ہے۔
9۔ بے حیثیت یا حیثیت والی محفل
کبھی محفل کے شرکاء عام افراد ہوتے ہیں اور کبھی بااثر شخصیات، لیکن امانت داری کا اصول دونوں صورتوں میں یکساں رہتا ہے۔
10۔ جانبدارانہ یا غیر جانبدارانہ محفل
جانبدارانہ محفل میں ایک خاص رائے یا فریق کی حمایت پائی جاتی ہے جبکہ غیر جانبدارانہ محفل میں توازن ملحوظ رکھا جاتا ہے، اس لیے نقلِ کلام میں اس فرق کا لحاظ ضروری ہے۔
11۔ فکرمندی یا پریشانی والی محفل
اس قسم کی محفل میں لوگ اپنے مسائل، دکھ یا پریشانیاں بیان کرتے ہیں، لہٰذا ان کی باتوں کو راز اور امانت سمجھنا چاہیے۔
12۔ پر خلوص یا نفاق والی محفل
پر خلوص محفل میں خیر خواہی اور اخلاص ہوتا ہے جبکہ نفاق والی محفل میں ظاہر و باطن کا فرق پایا جاتا ہے، اس لیے حقیقت کو سمجھ کر ہی بات آگے منتقل کی جائے۔
13۔ یک جہت، دو جہت اور کئی جہات والی محفل
کبھی گفتگو ایک ہی موضوع تک محدود ہوتی ہے، کبھی دو اور کبھی متعدد موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے بات کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
14۔ ایک طرفہ یا دو طرفہ محفل
ایک طرفہ محفل میں ایک شخص یا فریق زیادہ گفتگو کرتا ہے جبکہ دو طرفہ محفل میں باہمی تبادلۂ خیال ہوتا ہے، لہٰذا نقلِ گفتگو میں تمام متعلقہ پہلوؤں کو شامل کرنا چاہیے۔
Pull down to refresh