
@username
No bio available.
1-ہر مسکراتا ہوا شخص مخلص نہیں ہوتا
بعض لوگ آپ کے قریب اس لیے آتے ہیں تاکہ آپ کو سمجھ سکیں، اور بعض اس لیے تاکہ ایک دن آپ کو استعمال کر سکیں۔
2-دنیا الفاظ نہیں، فائدہ سمجھتی ہے
لوگ اکثر آپ کی باتوں سے زیادہ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ اُن کے کس کام آ سکتے ہیں۔
3-ہر سچ بول دینا دانشمندی نہیں
کچھ سچ وقت مانگتے ہیں، اور کچھ خاموشی۔
4-جذبات میں لیا گیا فیصلہ اکثر مہنگا پڑتا ہے
غصہ، محبت، خوف، اور انا، یہ چار چیزیں انسان سے غلط فیصلے کرواتی ہیں۔
5-لوگ آپ کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی آپ خود کو دیتے ہیں
جو انسان ہر وقت دستیاب رہتا ہے، وہ اکثر سستا سمجھا جانے لگتا ہے۔
6-ہر لڑائی جیتنا ضروری نہیں
سیان پتی یہ نہیں کہ آپ ہر بحث جیت جائیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ جان جائیں کون سی جنگ لڑنے کے قابل ہی نہیں۔
7-ضرورت سے زیادہ وضاحت کمزوری بن جاتی ہے
جو انسان ہر وقت خود کو explain کرتا رہتا ہے، لوگ آہستہ آہستہ اُس کی value کم کرنے لگتے ہیں۔
8-دنیا Result کو Character سے پہلے دیکھتی ہے
اکثر لوگ آپ کی نیت نہیں، آپ کی کامیابی دیکھ کر آپ کا احترام کرتے ہیں۔
9-خاموش انسان کو کمزور سمجھنا خطرناک غلطی ہے
بعض لوگ شور نہیں کرتے، صرف وقت آنے پر کھیل بدل دیتے ہیں۔
10-ہر تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا
کچھ لوگ صرف ایک مرحلے تک آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔ ہر جانے والا دشمن نہیں ہوتا۔
11-انسان کی اصل پہچان طاقت ملنے کے بعد ہوتی ہے
کمزور شخص اکثر مہذب لگتا ہے۔ اصل کردار اختیار ملنے کے بعد سامنے آتا ہے۔
12-مفت میں ملنے والی چیز کی قدر کم ہو جاتی ہے
چاہے وہ وقت ہو، محبت ہو، یا محنت۔
13-لوگ وہی سنتے ہیں جو اُن کے فائدے میں ہو
اسی لیے صرف سچ کافی نہیں، سچ پیش کرنے کا انداز بھی اہم ہے۔
14-ہر موقع فوراً نظر نہیں آتا
بعض اوقات زندگی موقع کو مسئلے کے کپڑوں میں بھیجتی ہے۔
15-سب سے بڑی سیان پتی خود پر قابو ہے
جو انسان اپنے غصے، زبان، خواہشات، اور انا کو control کر لے، دنیا اسے آسانی سے شکست نہیں دے سکتی۔
سیان پتی صرف چالاکی نہیں،زندگی کو انسانوں سمیت سمجھنے کا فن ہے۔اور دنیا میں اکثر وہی لوگ دیر تک بچتے ہیں،جو صرف اچھے نہیں… سمجھدار بھی ہوتے ہیں۔
دنیا گونگوں کی فریاد نہیں سنتی، یہ صرف اُن کے سامنے جھکتی ہے جو اپنی موجودگی کا اعلان کرنا جانتے ہیں۔ خود کو منوانے کا یہ بے رحم کھیل ان پانچ ٹھوس اصولوں پر کھڑا ہے۔
۱-تشہیر ، اپنی موجودگی کا اعلان کریں
سب سے پہلے اس شور زدہ ہجوم کو بتائیں کہ آپ کا وجود ہے۔ اگر خاموشی طاری رکھیں گے، تو گمنامی کی موت مارے جائیں گے۔ اپنی آواز، نظریے اور مہارت کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کریں۔
۲-شناخت ،ناقابلِ تسخیر چھاپ چھوڑیں
جب لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں، تو ایک ایسی مستقل شناخت تراشیں کہ آپ کا نام سنے بغیر بھی لوگ آپ کے کام کو پہچان لیں۔ یہ وہ چھاپ ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی وکالت کرتی ہے۔
۳-ترویج ، اپنی قدر کا احساس دلائیں
صرف ہنر مند ہونا کافی نہیں، دنیا کو مجبور کریں کہ وہ آپ کی قدر کرے۔ اپنے نتائج کو بولنے دیں، اپنی کہانی کا جال بچھائیں اور ثابت کریں کہ آپ سے جڑنا لوگوں کے اپنے مفاد میں ہے۔
۴-روابط ، طاقتور حلقہِ اثر بنائیں
زندگی کی کوئی بڑی جنگ اکیلے نہیں جیتی جاتی۔ اپنے گرد ایسے کامیاب اور ہوشیار لوگوں کا حصار قائم کریں جو آپ سے آگے ہوں۔ درست تعلقات ہی وہ سیڑھیاں ہیں جو خوابوں کو حقیقت کے محل تک لے جاتی ہیں۔
۵-ذات پر سرمایہ کاری ، اپنا اصل اثاثہ بنیں
اپنا وقت، پیسہ اور توانائیاں صرف دوسروں پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی ذات کی تعمیر پر لگائیں۔ آپ خود اپنا سب سے بڑا اور مہنگا اثاثہ ہیں۔ جب آپ کی اپنی قدر بڑھے گی، تو پوری دنیا کی قیمت آپ کے قدموں میں ہوگی۔
اگر آپ نے خود آگے بڑھ کر دنیا کو اپنی قیمت نہیں بتائی، تو یہ منڈی آپ کو کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کر دے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ اس بساط پر آپ کی اپنی ذات سے زیادہ قیمتی کوئی سودا نہیں۔
دنیا گونگوں کی فریاد نہیں سنتی، یہ صرف اُن کے سامنے جھکتی ہے جو اپنی موجودگی کا اعلان کرنا جانتے ہیں۔ خود کو منوانے کا یہ بے رحم کھیل ان پانچ ٹھوس اصولوں پر کھڑا ہے۔
۱-تشہیر ، اپنی موجودگی کا اعلان کریں
سب سے پہلے اس شور زدہ ہجوم کو بتائیں کہ آپ کا وجود ہے۔ اگر خاموشی طاری رکھیں گے، تو گمنامی کی موت مارے جائیں گے۔ اپنی آواز، نظریے اور مہارت کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کریں۔
۲-شناخت ،ناقابلِ تسخیر چھاپ چھوڑیں
جب لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں، تو ایک ایسی مستقل شناخت تراشیں کہ آپ کا نام سنے بغیر بھی لوگ آپ کے کام کو پہچان لیں۔ یہ وہ چھاپ ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی وکالت کرتی ہے۔
۳-ترویج ، اپنی قدر کا احساس دلائیں
صرف ہنر مند ہونا کافی نہیں، دنیا کو مجبور کریں کہ وہ آپ کی قدر کرے۔ اپنے نتائج کو بولنے دیں، اپنی کہانی کا جال بچھائیں اور ثابت کریں کہ آپ سے جڑنا لوگوں کے اپنے مفاد میں ہے۔
۴-روابط ، طاقتور حلقہِ اثر بنائیں
زندگی کی کوئی بڑی جنگ اکیلے نہیں جیتی جاتی۔ اپنے گرد ایسے کامیاب اور ہوشیار لوگوں کا حصار قائم کریں جو آپ سے آگے ہوں۔ درست تعلقات ہی وہ سیڑھیاں ہیں جو خوابوں کو حقیقت کے محل تک لے جاتی ہیں۔
۵-ذات پر سرمایہ کاری ، اپنا اصل اثاثہ بنیں
اپنا وقت، پیسہ اور توانائیاں صرف دوسروں پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی ذات کی تعمیر پر لگائیں۔ آپ خود اپنا سب سے بڑا اور مہنگا اثاثہ ہیں۔ جب آپ کی اپنی قدر بڑھے گی، تو پوری دنیا کی قیمت آپ کے قدموں میں ہوگی۔
اگر آپ نے خود آگے بڑھ کر دنیا کو اپنی قیمت نہیں بتائی، تو یہ منڈی آپ کو کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کر دے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ اس بساط پر آپ کی اپنی ذات سے زیادہ قیمتی کوئی سودا نہیں۔
intoBlog - Write, Speak, Inspire