اگر زندگی میں آپ کے ساتھ کوئی دھوکا کر جاے دغا دے جاے اتنا ظلم کرے کہ آ پ کا جینا مشکل ہو جائے کہ کچھ نہ رہے اس طرح سے زندگی تنگ کر دی جائے۔۔۔ تو خدا سے صرف دو دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس پر صبر کی توفیق دے کیونکہ اللہ کو
صبر کرنے والے پسند ہیں
دوسرا اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طاقت سے ایسی طاقت عطا فرمائے کہ بدلہ لے سکے سب سے پہلے اللہ ہمیں صبر اور شکر کرنے والوں میں شامل رکھیں آ مین
اسرائیل کا مطلب خدا سے زور آزمائی کرنے والا ہے؟
بنی اسرائیل کی نافرمانی اور عبرت ناک تاریخ
موسیٰؑ کے ذریعے سمندر میں راستہ بننے کا معجزہ دیکھ کر بچ جانے والے بنی اسرائیل کو جب فلسطین میں بسنے والوں سے جنگ کا حکم دیا گیا تو من و سلویٰ کھانے، دھوپ میں بادلوں کا سایہ پانے اور لاٹھی کے ذریعے سمندر میں راستہ بنتے دیکھنے والی اسی قوم نے صاف انکار کر دیا۔ ان کی اکثریت نے کہا:
"ہم ان سے جنگ نہیں کریں گے، وہ بہت طاقتور ہیں۔ جاؤ موسیٰ! تم اور تمہارا اللہ انہیں ختم کر دو، پھر ہم وہاں جا کر آباد ہو جائیں گے۔"
انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ان پر من و سلویٰ نازل ہوتا ہے، دھوپ میں بادل سایہ کرتے ہیں اور صرف ایک لاٹھی کے ذریعے پانی کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں، لیکن سہولیات کی عادی یہ قوم جنگ سے ڈر رہی تھی۔
اس زمانے میں فلسطین میں بسنے والے لوگ سخت مشرک، بتوں کے پجاری اور مختلف بداعمالیوں میں ملوث تھے۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی دینا اور عورتوں کے ساتھ بدکاری کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ انہی اعمال کی وجہ سے اللہ نے انہیں بنی اسرائیل کے ذریعے ہلاک کرنے کے لیے بنی اسرائیل کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا، لیکن بنی اسرائیل اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے صاف انکار کر چکے تھے۔
لہٰذا سزا کے طور پر وہ چالیس سال تک اسی صحرا میں بھٹکتے رہے۔ جب ایک نئی نسل جوان ہوئی، جو اس صحرائی زندگی سے تنگ آ چکی تھی، تو انہیں دوبارہ ان مشرکین پر حملے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے حملہ کیا اور وہاں آباد ہو گئے، لیکن چند سال بعد ہی وہاں کی جنسی بے راہ روی، پرکشش روایات اور باطل عقائد سے متاثر ہو کر ان کی اکثریت بھی انہی جیسی بنتی گئی۔
پھر ان میں مختلف قبیلے بن گئے اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے۔ انہی میں سے ایک قبیلہ ایسے عقائد میں غرق ہو گیا جن میں بتوں کے آگے بچوں کی قربانی اور بدکاری کو عبادت سمجھا جاتا تھا، اور بدلے میں طاقت اور منصب حاصل کرنے کا عقیدہ رکھا جاتا تھا۔
بنی اسرائیل اسی غرور میں مبتلا رہے کہ وہ نبیوں کی اولاد ہیں، لہٰذا انہیں عذاب کیوں دیا جائے گا۔ حالانکہ تاریخ ان کی سرکشی، نافرمانی اور بغاوت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
بنی اسرائیل کا مطلب اگر گوگل پر انگریزی میں تلاش کیا جائے تو جواب آتا ہے:
"The one who wrestled with God"
یعنی "وہ جس نے خدا سے کشتی کی" یا "زور آزمائی کی"..
موجودہ حالات.. اور ایپسٹین فائلز پر غور کریں تو بہت کچھ سمجھ آئے گا
"21st Century's Most Important Skill: Adaptability Quotient (AQ)"
اکسویں صدی کی سب سے اہم صلاحیت:
Adaptability Quotient (AQ)
ایک وقت تھا جب کامیابی کا معیار صرف ذہانت (IQ) کو سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں جذباتی ذہانت (EQ) کی اہمیت سامنے آئی۔ لیکن 21ویں صدی میں، جہاں دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے، ایک نئی صلاحیت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے:
Adaptability Quotient (AQ)۔
AQ سے مراد انسان کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات، نئی ٹیکنالوجیز، غیر متوقع چیلنجز اور مسلسل تبدیلیوں کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں معلومات اور مہارتیں تیزی سے پرانی ہو رہی ہیں۔ جو چیز آج فائدہ مند ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی اتنی ہی مؤثر ہو۔ ایسے ماحول میں کامیابی صرف علم رکھنے والوں کو نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ذہین لوگ بھی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ کچھ عام صلاحیتوں کے حامل افراد نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ کامیاب افراد تبدیلی کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھتے ہیں۔ وہ نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کر لیتے ہیں۔
Adaptability Quotient ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ترقی کا راستہ مستقل سیکھنے، لچکدار سوچ اور مثبت رویے سے گزرتا ہے۔ جو لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، نئے تجربات کو قبول کرتے ہیں اور نامعلوم راستوں پر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی مستقبل کے حقیقی رہنما بنتے ہیں۔
لہٰذا اگر ہم 21ویں صدی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اپنی معلومات میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود کو تبدیلی کے لیے بھی تیار رکھنا چاہیے۔ کیونکہ مستقبل اُن لوگوں کا ہے جو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Ghulam Mustafa Awan
Growth Coach | NLP Practitioner
#AdaptabilityQuotient #AQ #PersonalGrowth #GrowthMindset #SelfDevelopment
Pull down to refresh