Live Audio

دوسروں کا رویہ آپ کے کردار کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔
زندگی میں بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جو ضرورت کے وقت ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، وعدے توڑ دیتے ہیں یا ہمارے ساتھ ویسا سلوک نہیں کرتے جس کے ہم حقدار ہوتے ہیں۔ ایسے لمحات میں دل دکھتا ہے اور اکثر انسان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی ویسا ہی جواب دے۔ مگر اصل عظمت یہ نہیں کہ ہم دوسروں جیسے بن جائیں، بلکہ اصل عظمت یہ ہے کہ ہم اپنے اصولوں، اپنی تربیت اور اپنے اخلاق کو قائم رکھیں۔
اگر کسی نے کل آپ کا ساتھ نہیں دیا تو یہ اس کے کردار کی عکاسی ہے، آپ کے کردار کی نہیں۔ آپ کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے پاس بدلہ لینے کا موقع ہو، مگر آپ پھر بھی عزت، صبر اور اچھے اخلاق کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ وقتی طور پر بدلہ دل کو تسکین دے سکتا ہے، لیکن اچھا کردار انسان کو ہمیشہ کے لیے عزت اور سکون عطا کرتا ہے۔ دنیا میں سب سے قیمتی چیز انسان کا اخلاق ہے۔ لوگ آپ کی دولت، شہرت یا کامیابی کو بھول سکتے ہیں، مگر آپ کے رویے اور کردار کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ اس لیے اپنے معیار کو دوسروں کے رویوں سے مت ناپیں۔ اپنے اخلاق کو اتنا بلند رکھیں کہ کوئی بھی منفی رویہ آپ کی مثبت شخصیت کو تبدیل نہ کر سکے۔
وہی لوگ حقیقت میں کامیاب ہوتے ہیں جو نفرت کے جواب میں نفرت نہیں، بلکہ وقار اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیونکہ کردار کی خوبصورتی اسی وقت سامنے آتی ہے جب حالات اس کے خلاف ہوں۔
 اپنے اخلاق کو اپنا تعارف بنائیں، کیونکہ اچھا کردار ہر بدلے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
بارِ حیات اُٹھائیے ، تنہا اُٹھائیے یہ بوجھ آپ سے نہیں اُٹھتا ، اُٹھائیے وہشت میں خاک اُڑانی ہی مقسُوم ہے ،تو پِھراک مشت خاک کیا سرِ صحرا اُٹھائیے ۔۔۔۔۔
خوش رہیں آباد رہیں ✨ یوسف صدیقی 🖋️ 
 #SelfRespect #PositiveThinking #LifeLessons #Character #Motivation #Humanity #fypシ #inspiration

کیا آپ کی معلومات کے لیے دلچسپی رکھتےہوں ۔۔۔ اگرہے رکھتے ہوں تو آپ ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ آپ کو آسانی سے نیو اپڈیٹ مل سکے life and love 

شکریہ 
When we give more repeated to mean people the imagine themselves superior 
السلام علیکم تمام دوست احباب کو خوش آمدید

اگر زندگی میں آپ کے ساتھ کوئی دھوکا کر جاے دغا دے جاے اتنا ظلم کرے کہ آ پ کا جینا مشکل ہو جائے کہ کچھ نہ رہے اس طرح سے زندگی تنگ کر دی جائے۔۔۔ تو خدا سے صرف دو دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس پر صبر کی توفیق دے کیونکہ اللہ کو

صبر کرنے والے پسند ہیں

دوسرا اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طاقت سے ایسی طاقت عطا فرمائے کہ بدلہ لے سکے سب سے پہلے اللہ ہمیں صبر اور شکر کرنے والوں میں شامل رکھیں آ مین

السلام علیکم! میرے بلاگ میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کو تعلیم، اسٹاک مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور دیگر معلوماتی موضوعات پر مفید اور آسان مضامین ملیں گے۔ میرا مقصد قارئین تک درست اور کارآمد معلومات پہنچانا ہے۔

شکریہ 

آنے والے وقت میں اپنے بچوں کو کیسے تیار کریں؟
دیکھیے، ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ اس دور سے بالکل مختلف ہے جب ہم خود بچے تھے۔ ہمارے آبا و اجداد اور ہمارا زمانہ، آج کے زمانے سے یکسر الگ ہے۔ تو لازمی بات ہے کہ اس دور کے تقاضے اور لوازمات بھی پہلے سے مختلف ہوں گے۔ 
اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اپنے باپ دادا یا اپنے اوپر قیاس کرنے کی غلطی نہ کریں۔ اپنے بچوں کی ضروریات کو موجودہ وقت کے تناظر میں پرکھیں، اور اسی کے مطابق ان کی تیاری کریں۔
سب سے پہلے اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش شروع کریں۔ سات سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بچے کی باقاعدہ تربیت کا آغاز کریں۔ انہیں اچھے اور برے میں تمیز کرنا سکھائیں۔ انہیں مثبت اور منفی محرکات کے بارے میں آگاہ کریں۔ 
اپنے بچے کو اپنے اردگرد بسنے والے تمام لوگوں کے رسم و رواج، عادات و اطوار، ہر مسلک اور ہر قبیلے کے لوگوں کی مذہبی رسومات کے بارے میں بتائیں۔ ان کے ذہن نشین کرائیں کہ اس دنیا میں رہنے والے ہر انسان کی سوچ اور خیالات الگ ہیں، اور کوئی بھی شخص اپنے خیالات کسی دوسرے پر تھوپ نہیں سکتا۔
اس کے بعد ان کی تعلیم و تربیت کی طرف آئیں۔ اپنے بچے کو انگریزی، ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر کی طرف راغب کریں۔ ان کی عمر کے حساب سے ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع کریں اور وقتاً فوقتاً اپنے بچے کو پرکھتے رہیں۔ یہ دیکھتے رہیں کہ آپ کے بچے کی دلچسپی کس چیز میں ہے، وہ کس کام میں شوق لے رہا ہے۔ دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو اپنے بچے کا رجحان معلوم ہو جائے گا، اور پھر بچے کے لیے وہی لائن منتخب کریں۔ 
یقین مانیں، صرف اتنی سی محنت درکار ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم آنے والے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھیں۔ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔
Thank you janeman ♥️🌸


اسرائیل کا مطلب خدا سے زور آزمائی کرنے والا ہے؟

بنی اسرائیل کی نافرمانی اور عبرت ناک تاریخ


موسیٰؑ کے ذریعے سمندر میں راستہ بننے کا معجزہ دیکھ کر بچ جانے والے بنی اسرائیل کو جب فلسطین میں بسنے والوں سے جنگ کا حکم دیا گیا تو من و سلویٰ کھانے، دھوپ میں بادلوں کا سایہ پانے اور لاٹھی کے ذریعے سمندر میں راستہ بنتے دیکھنے والی اسی قوم نے صاف انکار کر دیا۔ ان کی اکثریت نے کہا:


"ہم ان سے جنگ نہیں کریں گے، وہ بہت طاقتور ہیں۔ جاؤ موسیٰ! تم اور تمہارا اللہ انہیں ختم کر دو، پھر ہم وہاں جا کر آباد ہو جائیں گے۔"


انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ان پر من و سلویٰ نازل ہوتا ہے، دھوپ میں بادل سایہ کرتے ہیں اور صرف ایک لاٹھی کے ذریعے پانی کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں، لیکن سہولیات کی عادی یہ قوم جنگ سے ڈر رہی تھی۔


اس زمانے میں فلسطین میں بسنے والے لوگ سخت مشرک، بتوں کے پجاری اور مختلف بداعمالیوں میں ملوث تھے۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی دینا اور عورتوں کے ساتھ بدکاری کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ انہی اعمال کی وجہ سے اللہ نے انہیں بنی اسرائیل کے ذریعے ہلاک کرنے کے لیے بنی اسرائیل کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا، لیکن بنی اسرائیل اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے صاف انکار کر چکے تھے۔


لہٰذا سزا کے طور پر وہ چالیس سال تک اسی صحرا میں بھٹکتے رہے۔ جب ایک نئی نسل جوان ہوئی، جو اس صحرائی زندگی سے تنگ آ چکی تھی، تو انہیں دوبارہ ان مشرکین پر حملے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے حملہ کیا اور وہاں آباد ہو گئے، لیکن چند سال بعد ہی وہاں کی جنسی بے راہ روی، پرکشش روایات اور باطل عقائد سے متاثر ہو کر ان کی اکثریت بھی انہی جیسی بنتی گئی۔


پھر ان میں مختلف قبیلے بن گئے اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے۔ انہی میں سے ایک قبیلہ ایسے عقائد میں غرق ہو گیا جن میں بتوں کے آگے بچوں کی قربانی اور بدکاری کو عبادت سمجھا جاتا تھا، اور بدلے میں طاقت اور منصب حاصل کرنے کا عقیدہ رکھا جاتا تھا۔


بنی اسرائیل اسی غرور میں مبتلا رہے کہ وہ نبیوں کی اولاد ہیں، لہٰذا انہیں عذاب کیوں دیا جائے گا۔ حالانکہ تاریخ ان کی سرکشی، نافرمانی اور بغاوت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔


بنی اسرائیل کا مطلب اگر گوگل پر انگریزی میں تلاش کیا جائے تو جواب آتا ہے:


"The one who wrestled with God"


یعنی "وہ جس نے خدا سے کشتی کی" یا "زور آزمائی کی"..

موجودہ حالات.. اور ایپسٹین فائلز پر غور کریں تو بہت کچھ سمجھ آئے گا

"21st Century's Most Important Skill: Adaptability Quotient (AQ)"

اکسویں صدی کی سب سے اہم صلاحیت:


Adaptability Quotient (AQ)

ایک وقت تھا جب کامیابی کا معیار صرف ذہانت (IQ) کو سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں جذباتی ذہانت (EQ) کی اہمیت سامنے آئی۔ لیکن 21ویں صدی میں، جہاں دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے، ایک نئی صلاحیت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے: 

Adaptability Quotient (AQ)۔

AQ سے مراد انسان کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات، نئی ٹیکنالوجیز، غیر متوقع چیلنجز اور مسلسل تبدیلیوں کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں معلومات اور مہارتیں تیزی سے پرانی ہو رہی ہیں۔ جو چیز آج فائدہ مند ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی اتنی ہی مؤثر ہو۔ ایسے ماحول میں کامیابی صرف علم رکھنے والوں کو نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ذہین لوگ بھی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ کچھ عام صلاحیتوں کے حامل افراد نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ کامیاب افراد تبدیلی کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھتے ہیں۔ وہ نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کر لیتے ہیں۔

Adaptability Quotient ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ترقی کا راستہ مستقل سیکھنے، لچکدار سوچ اور مثبت رویے سے گزرتا ہے۔ جو لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، نئے تجربات کو قبول کرتے ہیں اور نامعلوم راستوں پر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی مستقبل کے حقیقی رہنما بنتے ہیں۔

لہٰذا اگر ہم 21ویں صدی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اپنی معلومات میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود کو تبدیلی کے لیے بھی تیار رکھنا چاہیے۔ کیونکہ مستقبل اُن لوگوں کا ہے جو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


Ghulam Mustafa Awan

Growth Coach | NLP Practitioner

#AdaptabilityQuotient #AQ #PersonalGrowth #GrowthMindset #SelfDevelopment

Pull down to refresh