انسان کی سب سے بڑی آزمائش اس کی خواہشات ہیں۔ ایک پوری ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہو جاتی ہے اور یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ذہنی سکون کو برباد کر دیتا ہے۔ یاد رکھو بھائی، سکون باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آتا ہے۔ قناعت صرف غربت کا علاج نہیں بلکہ یہ روح کی آزادی بھی ہے۔ (ہر وہ شخص جو خواہشات پر قابو پا لے، وہ زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی پرسکون رہتا ہے)۔
زندگی میں بے شمار چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ حادثات، دوسروں کا رویہ، معاشرتی حالات، بیماری یا نقصان—ان پر ہمارا کنٹرول نہیں، لیکن ان کے بارے میں ہمارا ردِعمل ہمارے اختیار میں ہے۔ جس چیز پر قابو نہ ہو اسے شکوہ کیے بغیر قبول کر لینا ہی دانش مندی ہے۔ (جب تم تقدیر سے لڑنے کے بجائے اس سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہو، تو زندگی میں اطمینان بڑھ جاتا ہے)۔
انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ماضی اور مستقبل میں کھو دیتا ہے، حالانکہ اس کے پاس صرف یہ لمحہ موجود ہے۔ اپنی توانائی وہاں خرچ کرو جہاں تم کچھ کر سکتے ہو، اور وہ ہے یہ موجودہ لمحہ۔ ماضی کی غلطیاں قابو میں نہیں اور مستقبل کا خوف محض ایک وہم ہے، لیکن حال تمہارے ہاتھ میں ہے۔ (جو شخص حال کو گلے لگاتا ہے، وہی زندگی کے اصل لطف سے مستفید ہوتا ہے)۔
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا، ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ یہ زندگی ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی برتنے کی ترغیب دیتی ہے۔ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا اور ان کے دکھ کو محسوس کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔ (نرمی اور انصاف معاشرے میں ایسا توازن پیدا کرتے ہیں جس سے زندگی پرسکون ہو جاتی ہے)۔
اصل طاقت وہ نہیں جو کسی کے پاس مال و دولت کی شکل میں ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے جو اپنے غصے، حسد اور خوف پر قابو پا لے۔ اگر تم اپنے ذہن پر قابو پا لو تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اندرونی حکمرانی ہی سب سے بڑی حکومت ہے۔ (اصل بادشاہت دوسروں پر حکومت کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی ذات پر قابو پانے میں ہے)۔
زندگی کی مشکلات کو دشمن سمجھنے کے بجائے استاد سمجھو۔ ناکامیاں اور حادثات ہماری شخصیت کو نکھارتے ہیں اور ہمیں صبر سکھاتے ہیں۔ جو شخص ان حالات میں ہمت نہیں ہارتا، اسے اچھے نتائج ملتے ہیں۔ (یہ کٹھن رویہ انسان کو نفسیاتی طور پر مضبوط بناتا ہے اور اسے استقامت سے نوازتا ہے)۔
روز اپنی ذات کا محاسبہ کرنا انسان کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے۔ دن کے اختتام پر اکیلے بیٹھ کر سوچو کہ آج میں نے کہاں اچھا عمل کیا اور کہاں غلطی۔ اچھی چیزوں پر شکر ادا کرنا اور غلطیوں کو سدھارنا تمہیں ایک بہترین لیڈر بنائے گا۔ (یہ عمل دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو بدلنے پر زور دیتا ہے)۔
آزادی کا مطلب صرف بیرونی پابندیوں سے نجات نہیں ہے۔ اصل آزادی تب ملتی ہے جب تم اپنے خوف، لالچ اور غصے سے آزاد ہو جاؤ۔ جو شخص اپنے جذبات اور خواہشات کو قابو میں رکھ لیتا ہے وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کا غلام نہیں رہتا۔ (یہ اندرونی آزادی ہی انسان کو بے خوف، باوقار اور خوددار بناتی ہے)۔
دنیا بھرپور ترقی کر چکی ہے اور آج کے انسان کے پاس آرام و راحت کی ہر سہولت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ پرسکون نہیں ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ اطمینان و سکون مادی ترقی یا سوشل میڈیا کے کمنٹس اور لائکس میں نہیں مل سکتا۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب تم اپنی ذات پر حکومت کرنا سیکھ جاؤ گے۔
ہم مرتے نہیں ہیں
بلکہ رپوش ہو جاتے ہیں ـ
کیا اپ جانتے ہیں کہ ہمارے والدین کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے ـ جو ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہےـ اب اگر والدین فوت ہو گئے ہیں تو وہ تو اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن ہم ان کی خون کی صورت میں اب بھی زندہ ہیں ـ اسی طرح جب ہم نے مر جانا ہے تو ہمارے خون نے ہماری اولاد میں منتقل ہو جانا ہے اور زندہ رہنا ہے ـ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مرتے نہیں ہیں بلکہ صرف صورتیں مرتی ہیں ـ اصل باقی رہتا ہے جو ں صدیوں ںسے چلتا ا رہا ہے اور صدیوں تک چلتا رہنا ہےـ
مرد کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنایا ہےـ چنانچہ لڑکوں کو میٹرک کے بعد لازما کوئی جاب کرنی چاہیےـ کیونکہ مرد کی یہ والی عمر میٹرک کے بعد والی عمر پریکٹیکل زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کی عمر ہوتی ہے یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان کو زندگی کے دھکے کھانے چاہیے، لوگوں کے رویے برداشت کرنے چاہیے، ذمہ داریاں اٹھانی چاہیے، سیلز سیکھنے چاہیے، کاروبار سمجھنا چاہیے ،پریشر برداشت کرنا چاہیے اور حقیقی دنیا کی تلخ حقیقتوں سے واسطہ پڑناچاہیے اس سے ہی ایک مرد مضبوط اعصاب کا مالک بنتا ہے ـ اگر ہم اپنے بیٹوں کو خود فیصلے کرنے نہیں دیں گے ہر معاملے میں ان کا ہاتھ تھامے رکھیں گے تو وہ کبھی بھی پر اعتماد شخصیت نہیں بن سکیں گےـ اج کل اس عمر میں جو سختیاں برداشت کرنے والی عمر ہوتی ہے جو جوانی کا جوبن ہوتا ہے جوش ہوتا ہے جذبہ ہوتا ہے اسے ایئر کنڈیشنر سکول کالجز میں برباد کر دیا جاتا ہے ـ بچے کو پریکٹیکلی سست بنا دیا جاتا ہےـ اب جس نے چھ گھنٹے اے سی والے روم میں رہنا ہے فل سہولتوں کے ساتھ رہنا ہے اس سے زمانے کی سختیاں کیسے برداشت ہوں گی؟ اس پہ غور کریںـ


Pull down to refresh