بالکونی میں کھڑی وہآسمان پر ابھرتی قوسِ قزح کو دیر تک دیکھتی رہی،پھر آہستہ سے بولی—"انسان بھی شاید اسی کی طرح ہوتے ہیں،ہر لمحہ ایک نیا رنگ اوڑھ لیتے ہیں"میں کچھ کہہ نہ سکا،لفظ جیسے کہیں گم ہو گئے تھے،بس میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا—وہاں قوسِ قزح نہیں تھی،کوئی تنوع، کوئی بدلتے رنگ نہیں…بس ایک رنگ تھا—گہرا، سلگتا ہوا،سرخ…جیسے کسی اَن کہی کہانی کا آخری سچ۔My lines