زندگی کا سب سے کڑوا سچ یہ ہے کہ جب انسان پر برا وقت آتا ہے، تو اس کی زور دار چیخیں بھی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ اس دنیا کے میلے کا یہ دستور ہے کہ جب تک تمہارے دن اچھے ہیں، ہر کوئی تمہاری دھن پر ناچے گا، لیکن جیسے ہی حالات کا رخ بدلتا ہے، لوگ تمہاری تکلیف سے یوں نظریں چرا لیتے ہیں جیسے تمہیں جانتے ہی نہ ہوں۔ انسان تڑپتا رہتا ہے، پکارتا رہتا ہے، مگر اس کا دکھ سننے کے لیے کسی کے پاس دو منٹ کا وقت بھی نہیں ہوتا۔لیکن یہی وقت کا پہیہ ہے جو کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ آج اگر تمہارے دن پھرے ہیں، تمہاری جیب بھری ہے اور معاشرے میں تمہارا طوطی بول رہا ہے، تو کبھی بھول کر بھی تکبر کی دلدل میں مت گرنا۔ یاد رکھو کہ عروج کو زوال ہونے میں اور رات کو صبح بدلنے میں پل بھر کی دیر نہیں لگتی۔ جو پرندے اونچی اڑان پر اتراتے ہیں، انہیں بھی آخر کار زمین پر ہی لوٹنا پڑتا ہے۔ اچھے حالات میں عاجزی اختیار کرنا ہی اصل انسانیت ہے، کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور جو آج بلندی پر ہے، وہ کل خاک پر بھی ہو سکتا ہے۔دوسری طرف، اگر آج تمہارا وقت اچھا نہیں ہے، ہر راستہ بند دکھائی دیتا ہے اور آزمائشوں نے تمہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، تو خبردار کبھی ناامید مت ہونا۔ ناامیدی انسان کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ یہ تلخ دن بھی ایک مسافر کی طرح ہیں جو آخر کار گزر ہی جائیں گے۔ رات جتنی بھی کالی اور طویل ہو، وہ صبح کے سورج کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اپنے اندر وہ حوصلہ پیدا کرو جو تمہیں ہر طوفان میں کھڑا رکھے۔ جس رب نے تمہیں اچھے دن دکھائے تھے، وہ ان برے دنوں سے نکالنے کی طاقت بھی رکھتا ہے، بس اپنے قدم ڈگمگانے مت دینا۔