الْقَارِعَةُ ، مَا الْقَارِعَةُ , وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ .
کھڑکھڑا دینے والی! کیا ہے وہ کھڑکھڑا دینے والی؟ اور تم کیا جانو کہ وہ کھڑکھڑا دینے والی کیا ہے؟
سورۂ القارعہ کا آغاز ایک ایسے لفظ سے ہوتا ہے جو دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ '' القارعہ '' عربی میں اس چیز کو کہتے ہیں جو زور سے آ کر ٹکرائے، دروازہ کھٹکھٹائے، سکون کو توڑ دے اور غفلت میں ڈوبے ہوئے انسان کو چونکا دے۔
یہ قیامت کا ایک نام ہے۔
وہ دن جب انسان کے بنائے ہوئے تمام سہارے، تمام غرور، تمام دعوے اور تمام جھوٹی یقین دہانیاں ٹوٹ جائیں گی۔ وہ دن جب حقیقت پوری قوت کے ساتھ انسان کے سامنے آ کھڑی ہوگی۔
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ , وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ ۔
اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح۔
جن پہاڑوں کو انسان استحکام اور پائیداری کی علامت سمجھتا ہے، وہ بھی اپنی ہیبت کھو بیٹھیں گے۔ اور جو انسان خود کو طاقتور، بااختیار اور ناقابلِ شکست سمجھتا ہے، وہ منتشر پروانوں کی طرح حیران و پریشان پھر رہا ہوگا۔
یہ منظر دراصل انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے ۔
تمہاری طاقت عارضی ہے، تمہارا اقتدار عارضی ہے، تمہاری دولت عارضی ہے، مگر اللہ کا فیصلہ اٹل ہے۔
پھر سورہ انسان کی کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار بیان کرتی ہے۔
فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ، فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ ۔
پس جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ایک پسندیدہ اور خوشگوار زندگی میں ہوگا۔
قرآن کے نزدیک کامیابی مال، شہرت، نسب، طاقت یا منصب کا نام نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کا کردار، اس کے اعمال، اس کی نیتیں اور اس کی خدماتِ انسانیت، اللہ کے میزان میں وزن رکھتی ہوں۔
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ، فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ۔
اور جس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔
یہاں قرآن ایک تلخ حقیقت بیان کرتا ہے کہ زندگی کی اصل محرومی غربت یا کمزوری نہیں، بلکہ اعمال اور کردار کا خالی ہو جانا ہے۔ وہ انسان جس نے اپنی پوری زندگی صرف اپنی ذات، خواہشات اور دنیاوی مفادات کے گرد گھومتے ہوئے گزار دی، قیامت کے دن خود کو خالی ہاتھ پائے گا۔
وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ ، نَارٌ حَامِيَةٌ ۔
اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے؟ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔
یہ آگ صرف آخرت کی سزا کا نام نہیں، بلکہ ہر اس انجام کی علامت بھی ہے جو ظلم، تکبر، ناانصافی، بے حسی اور حق سے روگردانی کا لازمی نتیجہ بنتا ہے۔
سورۂ القارعہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ تم نے کتنا کمایا؟
اصل سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔
تم نے کیا بن کر زندگی گزاری؟تمہارے اعمال کا وزن کیا ہے؟تمہاری نیتوں کا وزن کیا ہے؟تمہارے کردار کا وزن کیا ہے؟اور تم نے اللہ کی دی ہوئی مہلت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا؟
قیامت کا دن دراصل وہ دن ہے جب دنیا کے تمام پیمانے ختم ہو جائیں گے اور صرف ایک پیمانہ باقی رہ جائے گا۔میزانِ عدل ۔
جس دن انسان کی کامیابی کا فیصلہ اس کے بینک بیلنس، عہدے، قبیلے یا شہرت سے نہیں، بلکہ اس کے اعمال کے وزن سے ہوگا۔
#ibrahimkhan