userPic

Dr.Hassan Muhammad

Hassan Muhammad

No bio available.

12
Posts
4
Followers
0
Following
اپنے بچوں کو یہ 5 ہنر ضرور سکھائیں 
ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ زندگی میں کامیاب ہو، عزت پائے اور ایک باکردار انسان بنے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، انہیں اچھے سکولوں میں داخل کرواتے ہیں اور بہترین نمبروں کی توقع رکھتے ہیں، لیکن صرف تعلیمی ڈگریاں ہی کامیاب زندگی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کچھ ایسی مہارتیں یا ہنر بھی ہیں جو بچوں کو نہ صرف پیشہ ورانہ کامیابی دلاتے ہیں بلکہ انہیں ایک بہتر انسان بھی بناتے ہیں۔ اگر والدین بچپن ہی سے ان ہنروں کی تربیت کریں تو بچے مستقبل کے چیلنجز کا زیادہ اعتماد اور کامیابی کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔
1۔ مؤثر گفتگو اور ابلاغ کا ہنر
زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں کامیابی کے لیے اچھے انداز میں بات کرنا اور اپنے خیالات کو واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ بہت سے ذہین اور قابل افراد صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بات دوسروں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچا پاتے۔ بچوں کو اعتماد کے ساتھ بات کرنا، دوسروں کی بات غور سے سننا اور احترام کے ساتھ اپنی رائے دینا سکھائیں۔ یہ ہنر ان کی تعلیمی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بے حد مفید ثابت ہوگا۔
2۔ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
زندگی میں ہر قدم پر مسائل اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو کامیابی زیادہ ملتی ہے جو گھبرانے کے بجائے مسائل کا حل تلاش کرنا جانتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا حل خود دینے کے بجائے بچوں کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کا موقع دیں۔ اس طرح ان میں تجزیہ کرنے اور درست فیصلہ لینے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔
3۔ وقت کی قدر اور نظم و ضبط
وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتی۔ بچوں کو وقت کی پابندی، منصوبہ بندی اور ذمہ داری نبھانے کی عادت سکھائیں۔ جو بچے وقت کی قدر کرنا سیکھ جاتے ہیں وہ مستقبل میں اپنی تعلیم، ملازمت اور ذاتی زندگی میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔
4۔ مالی شعور اور پیسے کی اہمیت
بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مالی معاملات کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کو کم عمری سے ہی بچت، خرچ اور بجٹ بنانے کے بنیادی اصول سکھائیں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ پیسہ محنت سے حاصل ہوتا ہے اور اسے دانشمندی سے استعمال کرنا چاہیے۔ مالی شعور انہیں مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔
5۔ احترام، ہمدردی اور اخلاقیات
اچھا انسان بننا ہر کامیابی سے زیادہ اہم ہے۔ بچوں کو دوسروں کا احترام کرنا، ہمدردی کا مظاہرہ کرنا اور اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا سکھائیں۔ معاشرے میں وہی افراد حقیقی عزت حاصل کرتے ہیں جو اچھے اخلاق اور مثبت کردار کے مالک ہوتے ہیں۔ علم اور مہارت کے ساتھ اگر اچھا کردار بھی ہو تو انسان کی شخصیت مکمل ہو جاتی ہے۔
والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بچوں کی تربیت صرف اچھے نمبروں یا ڈگریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب بچے زندگی کے عملی میدان میں بھی مضبوط، ذمہ دار اور بااخلاق ثابت ہوں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو مؤثر گفتگو، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، وقت کی قدر، مالی شعور اور اچھے اخلاق سکھا دیں تو ہم انہیں ایک روشن اور کامیاب مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ بچے ہماری باتوں سے کم اور ہمارے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اس لیے والدین خود بھی ان خوبیوں کا عملی نمونہ بنیں تاکہ بچے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)

وہ والدین جو کبھی مطمئن نہیں ہوتے، ان سے کیسے ڈیل کریں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جو تقریباً ہر استاد، سکول ایڈمنسٹریٹر اور تعلیمی ادارے کے منتظم کے ذہن میں کبھی نہ کبھی ضرور آتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں والدین اور اساتذہ کا تعلق ایک مضبوط شراکت داری کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بعض اوقات کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی کارکردگی، سکول کی سہولیات یا اساتذہ کی محنت کے باوجود مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ ان کی مسلسل شکایات اور غیر معمولی توقعات تعلیمی ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں اور اساتذہ کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
ہر والدین اپنے بچے کے روشن مستقبل کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن کچھ والدین اس خواہش کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ وہ ہر نتیجے، ہر سرگرمی اور ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی کمی تلاش کر لیتے ہیں۔ اگر بچہ اچھے نمبر لے آئے تو مزید بہتر نمبروں کا مطالبہ سامنے آ جاتا ہے، اور اگر کسی مقابلے میں کامیاب ہو جائے تو اگلے ہدف کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ اس مسلسل عدم اطمینان کی وجہ سے نہ صرف اساتذہ بلکہ خود بچے بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایسے والدین کے ساتھ کام کرتے وقت سب سے اہم چیز تحمل اور پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ جذباتی ردِعمل یا بحث و تکرار مسئلے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ والدین کی بات کو مکمل توجہ سے سننا اور ان کے تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کرنا اکثر مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔ بعض اوقات والدین صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں محسوس ہو کہ سکول ان کے خدشات کو اہمیت دیتا ہے۔
اساتذہ اور سکول انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے کی تعلیمی اور اخلاقی کارکردگی کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ جب گفتگو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہو تو غلط فہمیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کارڈز، کلاس ورک، ٹیسٹ نتائج اور مشاہداتی نوٹس والدین کو بچے کی حقیقی صورتحال سمجھانے میں مدد دیتے ہیں۔
باقاعدہ اور مثبت رابطہ بھی بہت اہم ہے۔ اگر والدین سے صرف شکایت یا مسئلے کے وقت رابطہ کیا جائے تو تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، بچے کی کامیابیوں اور مثبت پہلوؤں سے بھی والدین کو آگاہ کیا جائے تو اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے اور والدین زیادہ متوازن انداز میں معاملات کو دیکھتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ہر شکایت غلط نہیں ہوتی۔ بعض اوقات والدین کی تنقید میں ایسے نکات موجود ہوتے ہیں جو سکول یا استاد کی بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے شکایت کو ذاتی حملہ سمجھنے کے بجائے تعمیری نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ تاہم غیر حقیقی مطالبات یا غیر مناسب رویوں کے سامنے واضح حدود مقرر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سکول کے اصول و ضوابط برقرار رہ سکیں۔
ایک کامیاب تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جہاں والدین، اساتذہ اور سکول انتظامیہ ایک دوسرے کو مخالف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھیں۔ بچے کی بہترین تعلیم اور تربیت اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق باہمی احترام، اعتماد اور مؤثر رابطے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مطمئن نہ ہونے والے والدین بھی دراصل اپنے بچوں کی بہتری چاہتے ہیں، اور دانشمندی یہ ہے کہ ان کی توانائی کو تنازعے کے بجائے تعاون میں تبدیل کیا جائے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم صرف کتابوں اور نمبروں کا نام نہیں بلکہ تعلقات، اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کا سفر ہے۔ جب اساتذہ صبر، حکمت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ والدین سے رابطہ رکھتے ہیں تو مشکل سے مشکل صورتحال بھی بہت حد تک بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ یہی رویہ ایک مثبت تعلیمی ماحول اور بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)

کیا پرائیویٹ آدمی کے کوئی حقوق نہیں
یہ وہ تلخ اور چبھتا ہوا سوال ہے جو آج ہمارے معاشرے کے ایک بہت بڑے طبقے کے دل کی آواز بن چکا ہے۔ جب ہم پرائیویٹ آدمی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ عام شہری ہے جو کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہوتا اور جس کے پاس کوئی سیاسی پاور یا بڑا کاروباری ایمپائر نہیں ہوتا۔ وہ ایک عام تنخواہ دار ملازم یا چھوٹا دکاندار ہوتا ہے جسے معاشرے میں کوئی خاص پروٹوکول حاصل نہیں ہوتا۔ ظاہری طور پر تو آئین اور قانون کی کتابوں میں ہر شہری کے حقوق برابر لکھے ہیں لیکن مروجہ نظام اور طبقاتی تقسیم کو دیکھ کر اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے اس ملک میں پرائیویٹ آدمی ہونا کوئی محرومی کی علامت بن چکا ہے۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کو جان اور مال اور عزت کی برابری کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ جب کوئی وی آئی پی یا سرکاری افسر سڑک سے گزرتا ہے تو عام پرائیویٹ آدمی کو گھنٹوں ٹریفک میں سڑنے کے لیے روک دیا جاتا ہے۔ سڑکیں جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنتی ہیں وہاں عام شہری کو دوسرے درجے کی مخلوق بنا دیا جاتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا ایک ٹیکس دینے والے پرائیویٹ آدمی کا وقت اور اس کی جان اتنی سستی ہے کہ اسے کسی کے پروٹوکول کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ یہ وہ پہلا مقام ہے جہاں عام آدمی خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا اس ملک میں میرے کوئی حقوق نہیں ہیں۔
معاشی عدم تحفظ کے لحاظ سے بھی پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کا شدید استحصال ہوتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم کے پاس جاب سیکیورٹی اور پینشن اور میڈیکل الاؤنس جیسی مراعات ہوتی ہیں جبکہ پرائیویٹ ملازمتوں میں مالکان جب چاہیں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ملازم کو فارغ کر دیتے ہیں۔ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کہہ کر بارہ بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور اوور ٹائم کا کوئی تصور نہیں ہوتا جبکہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم اجرت پر بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ لیبر کورٹس اور محنت کشوں کے حقوق کے ادارے موجود تو ہیں لیکن ایک عام پرائیویٹ آدمی کے پاس نہ اتنے وسائل ہوتے ہیں اور نہ اتنا وقت کہ وہ بااثر مالکان کے خلاف برسوں عدالتوں کے چکر کاٹ سکے اس لیے وہ خاموشی سے ظلم سہتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر اس نے آواز اٹھائی تو اس کے گھر کا چولہا بند ہو جائے گا۔تھانہ کچہری اور انصاف کی فراہمی کا نظام بھی عام آدمی کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں ہے۔ بغیر کسی سیاسی اثر و رسوخ یا سفارش کے عام آدمی کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی اور اگر معاملہ عدالت تک پہنچ بھی جائے تو تاریخ پر تاریخ کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ سائل کی جوانیاں بوڑھی ہو جاتی ہیں لیکن فیصلہ نہیں آتا۔ ایک عام آدمی وکلاء کی بھاری فیسیں اور کچہری کے روزمرہ کے اخراجات برداشت کرتے کرتے سڑک پر آ جاتا ہے۔ جب طاقتور مجرم دندناتے پھریں اور مظلوم پرائیویٹ آدمی انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائے تو اس کا اس نظام سے یقین اٹھ جانا فطری بات ہے۔
صحت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق بھی اب ایک پرائیویٹ آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ماچس کی ڈبیا سے لے کر پٹرول تک ہر چیز پر حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن بدلے میں اسے سرکاری ہسپتالوں میں نہ ادویات ملتی ہیں اور نہ بروقت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر گھر میں کوئی بڑی بیماری آ جائے تو عام آدمی کا پورا اثاثہ بک جاتا ہے یا وہ قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ دوسری طرف سرکاری اسکولوں کا معیار گرنے کی وجہ سے عام آدمی مجبوراً اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتا ہے جہاں کی بھاری فیسیں اس کی کمر توڑ دیتی ہیں لہٰذا ریاست کو ٹیکس دینے کے باوجود جب پرائیویٹ آدمی کو اپنے بچوں کے لیے بنیادی تعلیم اور علاج بھی خریدنا پڑے تو یہ حقوق کی بدترین پامالی ہے۔
ہمارے معاشرے میں انسان کی قیمت اس کے اخلاق یا انسانیت سے نہیں بلکہ اس کے عہدے اور گاڑی اور بینک بیلنس سے لگائی جاتی ہے۔ ایک پرائیویٹ مڈل کلاس آدمی جب کسی سرکاری دفتر میں اپنے جائز کام کے لیے جاتا ہے تو وہاں تعینات چھوٹے سے چھوٹا اہلکار بھی اس سے فرعونیت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لائنوں میں لگنا اور تذلیل کا سامنا کرنا اور گھنٹوں انتظار کرنا صرف پرائیویٹ آدمی کا مقدر بنا دیا گیا ہے اور سماجی تقاریب سے لے کر کاروباری معاملات تک ہر جگہ پروٹوکول کلچر حاوی ہے جہاں طاقتور کو سلام کیا جاتا ہے اور قانون پر عمل کرنے والے شریف پرائیویٹ شہری کو کمزور سمجھ کر دبا دیا جاتا ہے۔
اگر ہم ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں پرائیویٹ آدمی کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا جس کے لیے پروٹوکول کلچر کا مکمل خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ جب تک قانون کے سامنے ایک عام شہری اور ایک اعلیٰ عہدیدار برابر نہیں ہوں گے تب تک معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کے تحفظ کے لیے بنے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اور اوقاتِ کار اور جاب سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ نجی شعبے کا ملازم خود کو محفوظ محسوس کرے۔ لوئر کورٹس اور تھانہ کلچر کو ٹھیک کیا جائے تاکہ ایک عام آدمی بغیر کسی خوف اور سفارش کے انصاف حاصل کر سکے اور ٹیکس دینے والے شہریوں کو صحت اور تعلیم کی شکل میں براہِ راست ریلیف ملنا چاہیے تاکہ انہیں اپنی بنیادی ضروریات کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔پرائیویٹ آدمی کوئی لاوارث یا دوسرے درجے کا شہری نہیں ہے بلکہ وہ اس ملک کا اصل پہیہ ہے جو ٹیکس دیتا ہے اور محنت مزدوری کر کے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے۔ ریاست اور معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی طاقت اس کے چند وی آئی پیز نہیں بلکہ اس کے عام شہری ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ آدمی کے حقوق بالکل ہیں اور وہ حقوق اسے کسی کی خیرات کے طور پر نہیں بلکہ اس کے آئینی اور انسانی حق کے طور پر ملنے چاہئیں۔ جب تک عام آدمی کو تحفظ اور انصاف اور عزتِ نفس نہیں ملے گی تب تک ایک منصفانہ اور پائیدار معاشرے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اس لیے عام آدمی کی آواز کو سننا اور اس کے حقوق کو بحال کرنا ہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
(ڈاکٹر حسن محمد،لاہور )
*گرمیوں کی چھٹیوں کی شروعات کس نے کی؟*                                                                             گرمیوں کی چھٹیوں کی شروعات دراصل کسی ایک شخص نے نہیں کی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جو وقت کے ساتھ مختلف معاشروں میں وجود میں آیا۔ قدیم زمانے میں جب زیادہ تر لوگ زراعت سے وابستہ تھے، تو بچوں کو بھی کھیتوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں گرمیوں کے موسم میں فصلوں کی دیکھ بھال اور کٹائی کا کام زیادہ ہوتا تھا، اس لیے بچوں کو سکول سے چھٹیاں دی جاتی تھیں تاکہ وہ اپنے خاندان کی مدد کر سکیں۔ اس دور میں سکول پورا سال مسلسل نہیں چلتے تھے بلکہ مختلف موسموں کے حساب سے تعلیمی اوقات تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ دیہاتی علاقوں میں بچے کھیتی باڑی میں حصہ لیتے جبکہ شہروں میں تعلیمی نظام نسبتاً مختلف تھا۔ آہستہ آہستہ جب صنعتی انقلاب آیا اور تعلیم کو باقاعدہ نظام کی شکل دی گئی، تب حکومتوں نے ایک مشترکہ تعلیمی کیلنڈر بنانے پر توجہ دی۔ اسی دوران گرمیوں کی طویل چھٹیوں کا تصور زیادہ مضبوط ہوا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیاں صرف گرمی سے بچنے کے لیے دی جاتی تھیں، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے زرعی اور معاشرتی ضروریات زیادہ اہم تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلتی گئی اور پھر مستقل تعلیمی نظام کا حصہ بن گئی۔
انیسویں صدی میں امریکہ اور یورپ کے تعلیمی ماہرین نے محسوس کیا کہ بچوں کو مسلسل پڑھائی سے ذہنی اور جسمانی تھکن ہوتی ہے، اس لیے انہیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس زمانے میں شہروں میں گرمی بہت زیادہ محسوس کی جاتی تھی کیونکہ جدید ایئرکنڈیشننگ یا ٹھنڈک کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔ سکولوں کی عمارتیں بھی زیادہ تر ایسی تھیں جہاں گرمی برداشت کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے گرمیوں کے مہینوں میں سکول بند رکھنے کا فیصلہ زیادہ مقبول ہوتا گیا۔ اس دور میں کچھ ماہرینِ تعلیم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے آرام، کھیل کود اور خاندانی وقت بھی ضروری ہے۔ اس لیے گرمیوں کی چھٹیوں کو صرف ایک روایت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور شخصیت سازی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ امریکہ کے کئی شہروں میں جب تعلیمی نظام یکساں بنایا گیا تو گرمیوں کی طویل تعطیلات کو سرکاری سطح پر قبول کر لیا گیا۔ بعد میں یہی ماڈل دنیا کے کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنایا۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں بھی سکولوں کے شیڈول کو موسم کے مطابق ترتیب دیا جانے لگا۔ اس طرح گرمیوں کی چھٹیاں ایک عالمی تعلیمی روایت بنتی چلی گئیں۔
برصغیر پاک و ہند میں گرمیوں کی چھٹیوں کا آغاز برطانوی دورِ حکومت میں زیادہ منظم انداز میں ہوا۔ چونکہ یہاں گرمی کا موسم بہت شدید ہوتا ہے، اس لیے سکولوں میں پڑھائی جاری رکھنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔ برطانوی حکام نے اپنے تعلیمی نظام کے مطابق سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات متعارف کروائیں تاکہ بچے اور اساتذہ شدید گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔ خاص طور پر مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں درجہ حرارت بہت بڑھ جاتا تھا، اس لیے سکول بند رکھنا ایک عملی ضرورت بن گیا۔ آزادی کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں نے اسی نظام کو جاری رکھا۔ آج بھی پاکستان میں زیادہ تر سکول مئی کے آخر یا جون کے آغاز میں بند ہوتے ہیں اور اگست میں دوبارہ کھلتے ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بچے نہ صرف آرام کرتے ہیں بلکہ مختلف سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے رشتہ داروں کے پاس جاتے ہیں، کچھ سمر کیمپ میں شامل ہوتے ہیں جبکہ کئی بچے نئی مہارتیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین بھی اس عرصے کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ اس طرح گرمیوں کی چھٹیاں صرف سکول بند ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک سماجی اور خاندانی روایت بن چکی ہیں۔
آج کے جدید دور میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طویل تعطیلات بچوں کی پڑھائی پر منفی اثر ڈالتی ہیں کیونکہ وہ بہت سا سبق بھول جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ ممالک نے گرمیوں کی چھٹیوں کا دورانیہ کم کر دیا ہے یا پورے سال میں مختصر مختصر تعطیلات دینے کا نظام اپنایا ہے۔ اس کے باوجود دنیا کے بیشتر ممالک میں گرمیوں کی چھٹیاں آج بھی تعلیمی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق بچوں کو ذہنی سکون، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی آرام کے لیے وقفہ ملنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کو صرف تفریح نہیں بلکہ بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس روایت کی شروعات زرعی ضرورتوں اور موسمی حالات کی وجہ سے ہوئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس نے تعلیمی، سماجی اور نفسیاتی اہمیت بھی حاصل کر لی۔ آج جب بچے گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں تو دراصل وہ ایک ایسی روایت کا حصہ ہوتے ہیں جو صدیوں پہلے مختلف معاشرتی ضرورتوں کے تحت شروع ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں دنیا بھر کے بچوں کے لیے خوشی، آزادی اور سکون کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)
فرنچائز سسٹم سکول کو کیا فائدہ دے سکتا ہے                                                                       آج کے جدید تعلیمی دور میں صرف ایک سکول کھول لینا کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ ایک مضبوط نظام، معیاری تعلیم اور بہترین مینجمنٹ ہی اصل کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرنچائز سسٹم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
فرنچائز سسٹم سکول کو ایک مضبوط برانڈ کی پہچان دیتا ہے، جس سے والدین کا اعتماد بڑھتا ہے اور ایڈمیشن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکول کو تجربہ کار ٹیم کی رہنمائی، جدید تعلیمی نظام، مارکیٹنگ سپورٹ، اسٹاف ٹریننگ اور مکمل مینجمنٹ گائیڈ لائن بھی حاصل ہوتی ہے۔
ایک نیا سکول جہاں چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے نقصان اٹھا سکتا ہے، وہیں فرنچائز سسٹم ان مسائل کو کم کر دیتا ہے کیونکہ آپ ایک آزمودہ اور کامیاب ماڈل کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔
فرنچائز صرف نام نہیں دیتی بلکہ ایک مکمل راستہ دیتی ہے، جو سکول کو تیزی سے ترقی، بہتر ساکھ اور مضبوط مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)
جب بیماری بھی ایک نعمت بن جائے
کہتے ہیں تندرستی ہزار نعمت ہے، لیکن کبھی کبھی یہ کمزوری، یہ نقاہت اور یہ بیماری بھی انسان کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم اپنوں کے لیے کتنے انمول ہیں۔
میں چند دن سے بیمار ہوں، جسم میں درد ہے اور کمزوری ہے، لیکن میرے دل میں جو سکون اور سرور ہے، وہ لفظوں میں بیاں نہیں ہو سکتا۔ جب میں بستر پر لیٹا ہوتا ہوں اور میرا بھائی کمرے میں داخل ہو کر محبت بھری نظروں سے میری خیریت پوچھتا ہے، تو میرا آدھا درد وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ جب میرے بھتیجے اور میرے بیٹے اپنے سارے کام چھوڑ کر میرے گرد جمع ہو جاتے ہیں، کوئی مجھے ہنسانے کی کوشش کرتا ہے، تو کوئی محبت سے میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ کوئی کھانے کے لیے کچھ لا رہا ہے تو کوئی پینے کے لیے... ان کے چہروں پر میرے لیے جو فکر اور آنکھوں میں جو بے پناہ محبت ہوتی ہے، وہ دیکھ کر میری روح سرشار ہو جاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اپنوں کی اس حد سے زیادہ توجہ اور بے پناہ محبت نے مجھے اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے میں کبھی تندرست ہی نہ ہوں... میں اسی بستر پر رہوں اور اپنوں کی اس محبت کے سائے میں جیتا رہوں۔
اس مادہ پرست دنیا میں، جہاں لوگ اپنے سائے سے بھی بھاگتے ہیں، وہاں مجھے ایسا خاندان ملا ہے جو میری اک ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتا ہے۔

 *یا اللہ* میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جن سے میں تیری اس عنایت کا حق ادا کر سکوں۔ تو نے مجھے ایسے رشتے دیے جو میری زندگی کا اصل سرمایہ ہیں۔ مجھے اس محبت کے قابل بنانے پر تیرا کروڑوں بار شکر۔


(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)
3 سے 5 سال کے بچوں کی نفسیات: نشوونما، جذبات اور سیکھنے کا عمل
3 سے 5 سال کی عمر، جسے بچپن کا ابتدائی دور کہا جاتا ہے، انسانی نفسیات اور شخصیت کی تشکیل میں سب سے اہم سنگِ میل ہے۔ اس عمر میں بچے کا دماغ ایک اسفنج کی طرح ہوتا ہے جو اپنے ماحول سے ہر معلومات، رویے اور ردِعمل کو تیزی سے جذب کرتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق، اس مرحلے پر بچے انا پسندی کے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں، جہاں وہ دنیا کو صرف اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ دوسروں کے احساسات یا خیالات ان سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی دور میں ان کے اندر خود مختاری کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے؛ وہ اپنے کپڑے خود چننا، خود کھانا اور اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اس مرحلے پر ان کی اس جبلت کو تعمیری آزادی نہ ملے، تو ان میں خود اعتمادی کی کمی اور شک کا عنصر پیدا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ، اس عمر کے بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ان کی جذباتی لچک، سماجی رابطوں کی شروعات اور ذہنی تخیل کے پھیلاؤ کو گہرائی سے دیکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی تربیت صحیح خطوط پر کی جا سکے۔اس عمر کے بچوں کی ایک اور نمایاں نفسیاتی خصوصیت ان کا غیر معمولی تخیل اور کھیل کے ذریعے سیکھنا ہے۔ 3 سے 5 سال کے بچے اکثر فرضی کہانیاں بناتے ہیں، خیالی دوست رکھتے ہیں اور کھلونوں کو زندہ مخلوق سمجھ کر ان سے باتیں کرتے ہیں، جسے نفسیات میں جاندار پسندی کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی ذہنی خلل نہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کی علامت ہے، جو ان کے مسقبل کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتی ہے۔ کھیل کود محض تفریح نہیں بلکہ ان کی نفسیاتی ضرورت ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے غصے، خوف اور بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ جب بچے دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کھیلتے ہیں، تو وہ شراکت داری، باری کا انتظار کرنا اور ہمدردی جیسے اہم سماجی اصول سیکھتے ہیں۔ تاہم، چونکہ اس عمر میں جذبات پر قابو پانے کا عصبی نظام ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوتا، اس لیے وہ اکثر اپنے جذبات پر قابو نہیں پا پاتے، جس کا نتیجہ ضد، غصے کے دوروں یا رونے دھونے کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایسے میں والدین اور اساتذہ کا صبر و تحمل ان کی جذباتی لچک کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔تعلیمی اور ذہنی نشوونما کے لحاظ سے یہ دور زبان کی مہارت اور تجسس کا عروج ہے۔ ایک 3 سے 5 سال کا بچہ روزانہ درجنوں نئے الفاظ سیکھتا ہے اور اس کے پاس سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہوتا ہے—"یہ کیا ہے؟"، "کیوں ہے؟"، "کیسے ہوا؟" جیسے سوالات دراصل ان کے دماغ کی کھڑکیوں کے کھلنے کا ثبوت ہیں۔ یہ تجسس ان کی ذہنی صلاحیتوں کو وسعت دیتا ہے، اس لیے ان کے سوالات کو نظر انداز کرنے یا انہیں ڈانٹنے کے بجائے، ان کے ذہنی معیار کے مطابق آسان اور دلچسپ جوابات دینا ضروری ہے۔ اس مرحلے پر بچے اپنے بڑوں کے رویوں، الفاظ اور عادات کی ہو بہو نقل کرتے ہیں، جسے نفسیاتی زبان میں مشاہداتی سیکھنا کہا جاتا ہے۔ اگر گھر یا اسکول کا ماحول پرسکون، حوصلہ افزا اور مثبت ہو گا، تو بچے کے اندر سیکھنے کا شوق اور تلاش کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ اس کے برعکس، اگر انہیں مسلسل تنقید، سختی یا خوف کا سامنا کرنا پڑے، تو ان کا فطری تجسس دب جاتا ہے اور وہ مستقبل میں نئی چیزیں سیکھنے اور چیلنجز کا سامنا کرنے سے کترانے لگتے ہیں۔مجموعی طور پر، 3 سے 5 سال کے بچوں کی صحت مند نفسیاتی نشوونما کے لیے مثبت کمک اور ایک محفوظ، محبت بھرا ماحول بنیادی ستون ہیں۔ اس عمر میں بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں شاباش دینا ان کی عزتِ نفس کو بلندیوں پر لے جاتا ہے، جو ان کی مستقبل کی تعلیمی اور سماجی زندگی میں کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ والدین اور ماہرینِ تعلیم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے، اس لیے اس کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرنا اس کی نفسیات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سزا یا خوف کے بجائے، محبت، واضح حدود کے تعین اور شفقت آمیز رہنمائی کے ذریعے ان کے رویوں کی اصلاح کی جانی چاہیے۔ جب ہم بچوں کو ایک ایسا ماحول دیتے ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کریں اور اپنے جذبات کا بلا خوف اظہار کر سکیں، تو ہم نہ صرف ان کے بچپن کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ ایک متوازن، پراعتماد اور کامیاب شخصیت کی تعمیر کی مضبوط بنیاد بھی رکھ رہے ہوتے ہیں جو آگے چل کر معاشرے کا ایک بہترین سرمایہ ثابت ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)
سکول کسے بنانا چاہیے ؟
تعلیمی ادارہ قائم کرنا ایک عظیم انسانی اور سماجی فریضہ ہے جسے صرف وہی شخص سرانجام دے سکتا ہے جو تعلیم کو محض کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کا ذریعہ سمجھے۔ سکول بنانے والے کے پاس ایک واضح وژن ہونا چاہیے کہ وہ کس قسم کی نسل تیار کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ کا مقصد بچوں میں تنقیدی سوچ، اخلاقی جرات اور جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے، تو آپ اس ذمہ داری کے اہل ہیں۔
ایک کامیاب سکول کے پیچھے وہ ذہن ہوتا ہے جو اساتذہ کی قدر و منزلت سے واقف ہو۔ سکول دراصل اینٹ اور گارے سے بنی عمارت نہیں بلکہ اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان قائم ہونے والے علمی رشتے کا نام ہے۔ وہ شخص جو اساتذہ کی مسلسل تربیت، ان کے معاشی استحکام اور ان کے احترام کو مقدم رکھتا ہے، وہی ایک ایسا ماحول تخلیق کر سکتا ہے جہاں بچے ذہنی اور نفسیاتی طور پر محفوظ محسوس کریں اور اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔
انتظامی نقطہ نظر سے سکول اسے بنانا چاہیے جو نظم و ضبط اور ہمدردی کے درمیان توازن برقرار رکھنا جانتا ہو۔ سکول چلانے کے لیے بہترین مینجمنٹ سکلز، قانونی تقاضوں کی آگاہی اور مالی وسائل کی درست تقسیم ضروری ہے۔ ایک اچھا بانی وہ ہے جو صرف فیسوں کی وصولی پر توجہ نہ دے، بلکہ سکول کے نصاب، کھیل کود کی سرگرمیوں اور بچوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بہترین سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سکول بنانے والے میں صبر اور استقامت کا مادہ ہونا چاہیے۔ تعلیمی نتائج راتوں رات حاصل نہیں ہوتے، بلکہ یہ سالہا سال کی محنت اور خلوص کا ثمر ہوتے ہیں۔ جو شخص معاشرے کے روشن مستقبل کے لیے آج بیج بونے کا حوصلہ رکھتا ہے اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بہتری کا سوچتا ہے، وہی درحقیقت ایک مثالی تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھنے کا حقدار ہے۔
(ڈاکٹر حسن محمد، لاہور)