Live Audio

Don't join them 
درخت ہی گرمی کا توڑ ہیں
ہر گزرتے سال کے ساتھ گرمی کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جھلسا دینے والی دھوپ، گرم ہوائیں اور مسلسل بڑھتا ہوا درجۂ حرارت نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحول، زراعت اور آبی وسائل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی قدرتی، کم خرچ اور دیرپا حل موجود ہے تو وہ صرف اور صرف درخت ہیں۔
درخت قدرت کا انمول تحفہ اور زمین کے حقیقی محافظ ہیں۔ یہ ماحول کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے گھنے سائے سورج کی تپش کو کم کرتے ہیں، جبکہ ان کے پتے فضا میں نمی شامل کرکے ماحول کو خوشگوار اور نسبتاً ٹھنڈا بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درختوں سے بھرپور علاقے گرمی کے موسم میں بھی نسبتاً معتدل اور پرسکون محسوس ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے آبادی میں تیزی سے اضافے، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور شہری توسیع کے باعث درختوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید، طویل اور خطرناک ہو چکی ہیں۔ جہاں کبھی سرسبز درختوں کی قطاریں اور ٹھنڈی ہوائیں ہوا کرتی تھیں، وہاں آج کنکریٹ اور سیمنٹ کے جنگل کھڑے ہیں جو گرمی کو جذب کرکے ماحول کو مزید گرم کر دیتے ہیں۔
اگر ہم واقعی بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کے ساتھ ساتھ موجودہ درختوں کی حفاظت کو بھی اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ ایک تناور درخت اپنے اردگرد کے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے، ہوا کو صاف کرنے، آلودگی کم کرنے اور زندگی کو خوشگوار بنانے میں بے حد اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ درحقیقت قدرت کا وہ ائیر کنڈیشنر ہے جو بغیر بجلی کے دن رات انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ شجرکاری کو محض ایک رسمی مہم یا سالانہ سرگرمی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اپنی اجتماعی ذمہ داری اور قومی ضرورت بنایا جائے۔ آج لگایا گیا ایک پودا کل ایک مضبوط درخت بن کر نہ صرف سایہ فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، سرسبز اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی بنے گا۔
یاد رکھیں! درخت صرف زمین کی خوبصورتی کا ذریعہ نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی گرمی، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہماری سب سے مضبوط قدرتی ڈھال ہیں۔
🌳 "اگر گرمی کم کرنی ہے تو درخت بڑھانے ہوں گے، کیونکہ درخت ہی گرمی کا حقیقی توڑ ہیں۔"
Always keep distance from those who remember your only fault and forgets about their hundred of wrong doings
If your principles make some people uncomfortable, it often means your conscience is still alive and not available for compromise.
ہر شخص اپنے اِیمان کا پہلا گَواہ خُود ہے اُسکا دل کتنا مِیلا ہے اُور کتنا پارسا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔۔
از قلم: سہیل اختر راؤ
ایک ہنر، ایک پیشہ، ایک فرد — دم توڑتی ایک صنعت: موچی
کسی بھی معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا بڑے کاروباری مراکز سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہنرمند افراد بھی اس کی شناخت ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں کی محنت، مہارت اور تجربے سے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ معاشرے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کئی روایتی ہنر اور پیشے وقت کے ساتھ دم توڑتے جا رہے ہیں، جن میں موچی کا پیشہ بھی شامل ہے۔
اس موضوع پر لکھنے کا خیال مجھے اس وقت آیا جب گزشتہ روز ایک جوتے کی مرمت کروانے کے لیے مجھے ملتان جیسے بڑے شہر میں تقریباً آٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جدید مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور برانڈڈ جوتوں کی دکانوں کی بھرمار کے باوجود ایک اچھا موچی تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تب احساس ہوا کہ جس پیشے کو کبھی ہر بازار، گلی اور محلے کی ضرورت سمجھا جاتا تھا، وہ آج آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے رخصت ہوتا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب موچی ہر بازار کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ جوتوں کی مرمت، سلائی، پالش اور چمڑے کے کام میں اس کی مہارت قابلِ تعریف ہوتی تھی۔ ایک اچھا موچی پرانے اور بوسیدہ جوتے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیتا تھا۔ لوگ اپنے جوتے سنبھال کر رکھتے، ضرورت پڑنے پر مرمت کرواتے اور چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے ان سے بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
مگر آج حالات مختلف ہیں۔ فیکٹریوں میں تیار ہونے والے سستے جوتوں اور تیزی سے بدلتے فیشن نے لوگوں کی سوچ بدل دی ہے۔ ہم بحیثیتِ معاشرہ فضول خرچی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جوتے کی مرمت کروانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور معمولی خرابی پر نیا جوڑا خرید لیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے مرمت کے کلچر کو تقریباً ترک کر دیا ہے۔ مہنگے سے مہنگا جوتا بھی اگر معمولی خرابی کا شکار ہو جائے تو ہم اسے مرمت کروانے کے بجائے نیا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جوتے کی مرمت کروانا ہمیں اپنی توہین محسوس ہوتا ہے، حالانکہ یہ رویہ نہ صرف فضول خرچی بلکہ اسراف کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ایک طرف ہم بڑھتی مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں اور دوسری طرف قابلِ استعمال اشیاء کو معمولی خرابی کی وجہ سے رد کر دیتے ہیں۔ اگر ہم مرمت کی روایت کو دوبارہ اپنائیں تو نہ صرف اپنے اخراجات کم کر سکتے ہیں بلکہ ہنرمند طبقے کے روزگار کو بھی سہارا دے سکتے ہیں۔
حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسعت عطا کی ہے تو کم از کم پرانے جوتے مرمت کروا کر کسی ضرورت مند، مزدور یا غریب شخص کو دیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف ایک ہنرمند کا روزگار برقرار رہتا ہے بلکہ کسی مستحق کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے۔ یوں ایک چھوٹا سا عمل معاشرے میں احساسِ ذمہ داری، کفایت شعاری اور انسان دوستی کو فروغ دے سکتا ہے۔
موچی کا کام بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مکمل ہنر ہے۔ چمڑے کی پہچان، جوتے کی ساخت کو سمجھنا، سلائی اور مرمت کی باریکیاں جاننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ مہارت ہے جو برسوں کی محنت اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ افسوس کہ ایسے ہنر آج ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آج کل جو بھی موچی نظر آتا ہے، وہ زیادہ تر عمر رسیدہ شخص ہوتا ہے۔ نوجوان نسل اس پیشے میں آنا پسند نہیں کرتی۔ شاید اس کی وجہ کم آمدنی، معاشرتی رویے یا بہتر مواقع کی تلاش ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس ہنر کے وارث کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں "موچی" کا لفظ پڑھیں اور اس پیشے سے عملی طور پر ناواقف ہوں۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک پیشے کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ہنر، ایک روایت اور ایک ثقافتی ورثے کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فنی تعلیم اور روایتی ہنر مندوں کی سرپرستی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ایسے پیشوں سے وابستہ افراد کو آسان قرضے، جدید تربیت اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے ہنر کو نئی نسل تک منتقل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی فنی تعلیم کو وہ اہمیت دی جانی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔
موچی بظاہر ایک فرد ہے، مگر درحقیقت وہ ایک ہنر، ایک پیشہ اور ایک پوری صنعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے روایتی ہنر مندوں کی قدر نہ کی تو آنے والے وقت میں ہم صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیں گے۔ ترقی کا مطلب صرف نئی چیزیں اپنانا نہیں، بلکہ اپنی مفید روایات، ہنر اور محنت کش طبقے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ ✍️🌹
#GajabThaiGayo2022GujaratiMovie#GajabThaiGayo2022Movie#GajabThaiGayo2022Gujarati#GajabThaiGayo2022Gajab Thai Gayo! is a 2022 Indian Gujarati-language science fiction comedy children's film written and directed by Neeraj Joshi. The film stars Malhar Thakar, Pooja Jhaveri and Ujjwal Chopra in lead roles.Genres: Comedy, Family, Sci-Fi#GajabThaiGayoGujaratiMovie#GajabThaiGayoMovie#GajabThaiGayoGujarati#GajabThaiGayo#GajabThaiGayo2022GujaratiFilm#GajabThaiGayo2022Film#GajabThaiGayoGujaratiFilm#GajabThaiGayoFilm#IMDB#Stage#UdtaFirtaaReview#MotionMingleGujarati#Movie#Atheist#buddhaveeragautam#abhishekhuman#ritshekgautam#rajpriyagautam#sunghpriyagautam 

Pull down to refresh