ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بزرگ اپنے شاگردوں کے ساتھ سفر پہ نکلے۔طویل سفر کی وجہ سے زاد راہ کم پڑ گیا، تو انہوں اپنے شاگردوں کو کہا کہ جاؤ کچھ کھانے کے لیے تلاش کرو۔ شاگرد ادھر ادھر جاتے ہیں اور جب دن گزرنے کے بعد واپس آتے ہیں تو کسی کے پاس سوکھی روٹی ہوتی ہے کسی کے پاس بچا ہوا کھانا ہوتا ہےتو کسی کے پاس تھوڑے سے پھل ہوتے ہیں۔جو بھی کچھ لوگوں نے ان کو مسافر سمجھ کے اپنے طور سے دیا ہوتا ہے وہ سب کچھ لے کر آ جاتے ہیں اور ساتھ میں کھانے بیٹھتے ہیں۔ اتنے میں ان کا ایک شاگرد آتا ہے جو کھجور کا ایک گچھا لاتا ہے ،بزرگ اس سے پوچھتے ہیں کہ اتنے سارے کھجور کیسے ملے؟ تو وہ کہتا ہے کہ میں نے کھجور کے مالک سے کہا کہ میں تھوڑی مزدوری کر لیتا ہو آپ کے پاس ،جس کے عوض آپ مجھے کھجور دے دیجئے گا،تو مالک راضی ہو گیا اور میں نے اس کی دکان کے چھوٹے موٹے کام کر کے، یہ معاوضہ لے لیا۔ بزرگ نے کہا یہ ہمارے لئے برکت والا کھانا ہو گیا۔ اتنے میں ایک اور شاگرد بہت سے سیب لے کر آتا ہے تو استاد اس سے پوچھتا ہے کہ تمہیں اتنے سارے سیب کس نے دیئے؟ تو وہ کہتا ہے کہ میں نے چرائے ہیں۔مگر کیوں؟شاگرد نےکہا کہ میں نے تو لوگوں کو بتایا تھا کہ ہم یہاں تبلیغ پر علم کے سفر پہ نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی لوگ مجھے اپنا بچا ہوا کھانا دینا چاہتے تھے جو کہ ہم سب کے لئے ناکافی ہوتا۔ تو میں نے یہ سوچا کہ میں یہ پھل چرا لیتا ہوں کیونکہ کھانا تو ہمیں چاہیے تھا ۔بزرگ نے کہا کہ تم یہ پھل لے کے فوراً واپس چلے جاؤ کیونکہ زندگی میں چیزوں کا حصول ہی کافی نہیں ہوتا وہ کس ذریعے سے حاصل کی گئی ہیں یہ بھی بہت ضروری ہے اور اگر آج تومیرے لئے چوری کر سکتا ہے تو کل مجھ سے بھی چوری کر سکتا ہے۔ اس کہانی کا سبق یہ ہےکہ ہم زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم وقت کی تیزی،دنیا کی چکا چوند اورمعاشرتی دباؤ کی وجہ سےاکثر یہ بھول جاتے ہیں جو چیز حاصل کر رہے ہیں اس کا ذریعہ ٹھیک ہے یا نہیں؟پیسا کما تو رہے ہیںکہاں سے کما رہے ہیں؟کیسے کما رہے ہیں؟یہ سوچنا بھی ضروری ہےاور یہ بھی ضروری ہےکہ ہم جن گھروں میں رہتے ہیں، جو لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہیں جو ہمارے لئے کماتے ہیں۔ ہمارے لئے تحائف لے کے آتے ہیں ہم اس پر بھی نظر رکھیں کہ اس سب کا ذریعہ کیا ہے؟محض مادی اشیاء کا حاصل کرنا،ایک آسودہ زندگی گزارنےکافی نہیں ہےوہ کہاں سے آ رہی ہیں؟وہ کس طریقے سے کمائی جاری ہیں؟اس پر بھی نظر رکھنا ضروری ہےخواہ آپ بچے ہیں یا آپ گھر کے سربراہ ہیں یا آپ گھر کے افراد میں سے ہیں ان سب چیزوں پر نظر رکھیں۔اسائشوں کی تمنا کیجئے،اسائشوں کے لئے محنت کیجئے،اپنے پیاروں سے فرمائش کیجئے، یہ سب آپ کا حق ہےلیکن یہ ضرور یاد رکھئےکہ زندگی میں محض مادی چیزوں کا حصول ہی کافی نہیں ہوتاوہ کس ذریعے سے حاصل ہو رہی ہیں یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے۔اور آج اگر کوئی شخص آپ کے لئے کوئی نا جائز زریعہ استعمال کر رہا ہے تو وہ کل کو آپ کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔
!منکسر المزاج رہنما Konosuke Matsushita ( founder of Panasonic) جن کو جاپان میں اتنا بڑا ردجہ حاصل تھا کہ ان کو (god of management) کہا جاتا تھا.انہوں نے ایک دفعہ ٹوکیو کے ایک سٹیک ریستوران میں جا کر کھانا کھانے کا ارادہ کیا۔اس دن اس ریستوران کا سٹاف ہائی الرٹ پہ تھا اور انہیں بہت خاص ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنا بیسٹ بیہیوئر شو کریں گےاور جو کھاناMr.Matsushita آرڈر کریں گے وہ ہیڈ شیف بنائے گا کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ آج کے اس دن جاپان کے بہت بڑا بزنس آئیکن ان کے ریستوران کو وزٹ کرنے آ رہا ہے۔جبوہ وہاں پہنچے تو انہوں نے سٹیک آرڈر کیا، اور جب سٹیک آئی جو کہ ریستوران کے بہترین شیف نے بنائی تھی،اور سرو کرنے والے نے بڑی ہی اچھی طرح سے اس کو پیش خدمت کیا تھا لیکن Mr.Matsushita نے بہت تھوڑی سی سٹیک کھا کے چھوڑ دی چونکہ سارا عملہ بہت خوش بھی تھا اور تھوڑا گھبرایا ہوا بھی تھا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں کوئی بات بری لگ جائےتو جب انہوں نے دیکھا کہ Mr. Matsushita نے سٹیک تھوڑی سی کھا کے چھوڑ دی تو ان کے خوف میں اور بےچینی میں اضافہ ہو گیااور اس میں مزید اضافہ جب ہوا جب انہوں نے کہا کہ مجھے ہیڈ شیف سے ملنا ہے اور اس سے بات کرنی ہےخیر جناب ہیڈ شیف وہاں پہنچے۔ سب سے پہلے تو Mr.Matsushita
اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہیڈ شیف کے آگے سر کو جھکایا جو کہ جاپانیوں کا عزت دینے کا ایک طریقہ ، ایک انداز ہےاور پھر انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے جو کھانا بنایا وہ بہترین تھا لیکن میں چونکہ بوڑھا ہو گیا ہوں نا اس لیے اب میں اتنا زیادہ کھانا کھا نہیں سکتا۔میں کھانا چھوڑنے کے لیے تم سے معذرت خواہ ہوں اور میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ میں تمہیں یہ بتا سکوں کہ یہ مت سوچنا کہ میں نے تمہارے فوڈ کو انجوائے نہیں کیامیں نے نہ صرف کھانا انجوائے کیا میں نے یہاں کا ماحول بھی خوب انجوائے کیااور تم سب نے جتنی اچھی طرح میری مہمان نوازی کی میں اس سب کے لیے تمہارا شکر گزار ہوں بس کھانا میں اپنی ضعیفی کی وجہ سے ختم نہیں کر سکاجس کے لیے تم مجھے معاف کر دینااور میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں کہ تم سب نے میری بہت اچھی مہمان نوازی کی۔ یہ واقعہ مجھے جب بھی یاد آتا ہےتو میں سوچتی ہوں کہ اتنا بڑا بزنس لیڈر ایک ملک کاجس کو اس ملک میں God of management کا لقب حاصل تھا اس ملک میں اس شخص کی بڑی قدر تھی۔اس کایوں منکسر المزاج ہونا کتنی بڑی بات ہے۔وہ کھانا چھوڑ کے، بنا کسی معذرت کے بھی جا سکتے تھے، مگر وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے اس ریستوران کی ساکھ کو دھچکا لگ سکتا تھا اور اس کے ملازمین متاثر ہو سکتے تھے۔اس لئے انہوں نے معذرت کے ساتھ ساتھ تعریف بھی کی۔ ہم نے ہمیشہ سے یہ سنا ہےکہ جو شجر جتنا پھلدار ہوتا ہےاس کی شاخیں اتنی ہی جھکی ہوئی ہوتی ہیں۔اور یہ اس کی عملی مثال تھے
زندگی میں پنسل اور ربڑ کا سبق زندگی ایک پنسل کی طرح ہے… اور ہم سب اس کے لکھنے والے۔پنسل ہمیں سکھاتی ہے کہ غلطی ہونا فطری ہے۔جیسے لکھتے ہوئے لائن ٹیڑھی ہو جاتی ہے ویسے ہی زندگی میں فیصلے بھی کبھی غلط ہو جاتے ہیں۔ ربڑ ہمیشہ ساتھ ہوتا ہے۔ربڑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلطی کا مطلب اختتام نہیں…بلکہ اصلاح کا موقع ہے۔ ہر مٹانے کی قیمت ہوتی ہے۔جب ہم ربڑ استعمال کرتے ہیں تو کاغذ ہلکا سا نشان رکھ لیتا ہے۔اسی طرح زندگی میں بھی کچھ غلطیاں ہمیں سبق دے کر نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ جتنا تراشتے ہیں، اتنا نکھرتے ہیں۔پنسل کو تیز کرنے کے لیے اسے تراشنا پڑتا ہے۔زندگی میں بھی مشکلات ہمیں کمزور نہیں کرتیں… بلکہ بہتر بناتی ہیں۔ یاد رکھیں…پنسل کی اصل طاقت اس کے لکڑی کے خول میں نہیں،بلکہ اندر موجود سیسے میں ہوتی ہے۔اسی طرح انسان کی اصل طاقت اس کے حالات میں نہیں،بلکہ اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ تو لکھتے رہیے…اگر غلطی ہو جائے تو گھبرائیے نہیں،آپ کے ہاتھ میں ربڑ بھی ہے۔