غوروفکرکرناچاہیے
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
دنیا میں نت نئی تبدیلیاں اورحوادث بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ جائے عبرت ہے۔تبدیلیاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں،ہو بھی رہی ہیں اورمستقبل میں بھی ہوتی رہیں گی جب تک قیامت قائم نہ ہو جائے۔روزانہ حوادث انسان کو سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ دنیا جائے عبرت ہے اور اس سے عبرت حاصل کی جائے۔اللہ تعالی نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ حقیقت تک پہنچ جائے۔ماضی میں نافرمان قوموں پر اللہ تعالی نےعذاب نازل کیے۔کسی پرآسمان سے پتھر برسے،کوئی زلزلوں کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوا،کوئی کسی بیماری کا شکار ہو کربرباد ہوا اورکوئی کسی دوسرے عذابوں کا شکار ہو کرعبرت کا نمونہ بنا۔بستیاں بھی اللہ کے حکم سے الٹیں اور دیگر عذاب بھی نافرمان قوموں پر آئے۔اللہ تعالی نے نافرمانوں کو عذاب کا مزہ چکھایا اور کئی عذابوں کو قصوں کی صورت میں قرآن میں محفوظ کر دیا،تاکہ لوگ ان کو پڑھ کر درس عبرت حاصل کریں۔غور و فکر کا حکم دیا ہےتاکہ دنیا میں بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہا جا سکےاورآخرت میں بھی کامیابی حاصل ہو۔اللہ تعالی نےماضی میں پیغمبراوررسول بھیجے،تاکہ وہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں اور ان کی رہنمائی کریں۔نافرمان قوموں نے ان کو جھٹلایااور نتیجے میں مختلف عذابوں کا شکار ہو گئے۔اللہ تعالی نےامت محمدیہ کو بھی ان قصص سے درس لینے کاحکم دیا۔قرآن مجید کی سورہ طہ اور آیت نمبر 128 میں ہے"تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دیں کہ یہ ان کی بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں۔بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کےلیے"اللہ تعالی واضح کر رہے ہیں کہ پہلےکتنی قومیں ہلاک کر دی گئی ہیں۔انسان درس عبرت حاصل کرے کہ وہ قومیں کیوں ہلاک ہوئیں؟کہیں ہم بھی ان نافرمان قوموں کی پیروی تو نہیں کر رہے جو عذاب الہی کا شکار ہو گئیں۔ہمیں غور و فکر کرنا چاہیےکہ ایسی عادتیں ہم میں موجود تو نہیں جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب نہ بن جائیں؟ تاریخ کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ ماضی بعید اور ماضی قریب میں کئی قومیں شان شوکت کی حامل تھیں اور عروج پر پہنچی ہوئی تھیں،مگران سے غلطیاں سرزد ہوئیں اورغلطیاں ان کی تباہی کا سبب بن گئیں۔کئی طاقتور اٹھے اور دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا،مگر وہ بھی آخر کار عبرت کا نشان بنے۔غیر مسلم اقوام ماضی قریب میں پسماندگی کا شکار تھیں اور امت مسلمہ کاعروج تھا،مگرمسلمان اب نافرمانیوں اور غلطیوں کی وجہ سےزوال پزیر ہو چکے ہیں۔سبق سیکھنا چاہیے کہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن سے مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔اللہ تعالی کا اصول ہےکہ جو محنت کرتا ہے،اسی کو اس محنت کا پھل بھی ملتا ہےاور جو محنت نہیں کرتا،اس کو کامیابی بھی حاصل نہیں ہوتی۔قرآن بارہا انسانوں کو نصیحت کر رہا ہےکہ غور و فکر کریں۔غور و فکر کرنے سےکامیابیوں کے مراحل طے ہوتے ہیں۔انسانوں کو زمین اور آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ حق کو پہچان سکیں۔قرآن کریم کی سورۃ ال عمران میں ہے"آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں"ایک غور فکر کرنے والا انسان اکثر سمجھ جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے؟اس کو یہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ کامیابی کس کو کہا جاتا ہے؟قرآن قصہ یوسف علیہ السلام اور کئی پیغمبروں کے واقعات بیان کرتا ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کس کو کہا جاتا ہے؟اس طرح فرعون اورکئی نافرمانوں کے بھی واقعات بیان کیے گئے ہیں کہ بظاہر وہ کامیاب تھے لیکن نافرمانیوں اور غلطیوں کی وجہ سےتباہ و برباد ہو گئے۔ روزانہ پیدادینے والے حادثےانسان کو عبرت دلاتے ہیں۔قرآن حکیم میں سود کو اللہ اور رسول سے جنگ کہا گیا ہے لیکن موجودہ معیشت سود پر چل رہی ہے،سود کی موجودگی میں ہم کیسے معاشی صورتحال کو بہتر کر سکتے ہیں؟اس طرح کئی ایسی برائیاں ہیں،جو ہم میں موجود ہیں،ان کو چھوڑے بغیر ہم کیسے بہتری کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟حالیہ امت مسلمہ کا زوال،ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے؟کیسے امت مسلمہ زوال پذیر ہوئی؟امت مسلمہ کی زوال پذیری پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں نجی طور پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟نجی طور پر ہم دوسروں سے لین دین کس طرح کرتے ہیں یا کس طرح کا سلوک ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں؟ہمارے اعمال اور کام کیسے ہیں؟دین و دنیا میں کامیابی کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟ایسی سینکڑوں باتیں ہیں،جن پر غور و فکر کر کےکامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔قبرستانوں میں جا کر دیکھا جائےتو ایسے ایسے افراد کی قبریں نظر آتی ہیں جو پرغرور زندگی گزارتے تھے۔ایسے افراد مٹی میں مل چکے ہیں جو ظلم و زیادتیاں کرتے تھے۔ غور و فکر کرتے رہنا چاہیے،کیونکہ غور و فکر کرنا انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ہر واقعے سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہےچاہےجتنا معمولی کیوں نہ ہو۔مثال کے طوردرختوں سے گرنے والے پتے بتانے کے لیے کافی ہیں کہ آخر ہم نے بھی فنا ہو جانا ہے۔روزانہ ہونے والی اموات بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہم نے بھی مرنا ہے۔غور و فکر کرنے والےاگر درست سمت میں چل پڑیں تو وہ کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔سائنسدان غور و فکر کر کےانسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ماضی اور حال کا موازنہ کیا جائے توآسانی سے علم ہو جاتا ہے کہ ماضی کا انسان سخت زندگی گزارتا تھااور کئی قسم کی مشکلات کا سامنا بھی اس کو کرنا پڑتا تھا۔گراہم بیل،ایڈیسن،مارکونی اور کئی قسم کے سائنسدان غور و فکر کر کےانسانوں کی زندگیاں آسان بنا گئے۔کوئی بھی انسان غور و فکر کی عادت اپناتا ہےتو تھوڑا یا زیادہ فائدہ اٹھا ہی لیتا ہے۔غور و فکر کرنے سے علم ہوتا ہے کہ پائیدار کوئی چیز نہیں،بلکہ ہر چیز نے فنا ہونا ہے۔اگر یہ بات ذہن میں آ جائے کہ ہم نے فنا ہونا ہےتو غور و فکر مثبت راستے کی طرف مڑ جاتا ہے۔منفی غورو فکر انسانیت کے لیےتکلیف دہ ثابت ہوا ہے۔قرآن حکیم واضح حکم دے رہا ہے کہ غور و فکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالی نے ان افراد کی تعریف کی ہے جو عقل والے ہیں۔قرآن حکیم میں ہے کہ "عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں"۔عقل والے اپنی عقل کا استعمال کر کےکامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔غور وفکرلازمی اور ضرور کرنا چاہیے۔
ہر مسکراتا ہوا انسان بے فکر نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اپنے دل میں طوفان لیے پھرتے ہیں، مگر دوسروں کے لیے سایہ بنے رہتے ہیں۔
اس لیے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کرو۔ آپ نہیں جانتے کہ کون شخص مسکراہٹ کے پیچھے کتنی بڑی آزمائش چھپا کر بیٹھا ہے۔ ❤️
مسائل حل نہ کرنا اصل مسئلہ ہے۔
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
غربت،تعلیمی بحران،میرٹ کی پامالی،ناانصافی یا دیگر مسائل پاکستان میں موجود ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہ مسائل موجود ہیں بلکہ اصل مسئلہ ان کو حل نہ کرنا ہے۔ہر ایک دوسروں کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔یہ درست ہے کہ حکومت ذمہ دار ہے کہ مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔لیکن حکومت کو بھی مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔قوم میں ایک یہ فکر پائی جاتی ہے کہ حکومت ہی تمام مسائل حل کرے یا یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ سب قسمت ہے۔اس طرح کی سوچ مایوسی پیدا کرتی ہے،مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ہمیں خود بھی کوشش کرنا ہوگی کہ مسائل کو حل کریں۔کوئی دوسرا ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا،ہمارے مسائل ہم نے ہی حل کرنے ہیں۔اگر ہم نے غربت کو ختم کرنا ہے تو فوری طور پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔لازمی نہیں کہ پاکستان کی عوام ہمیشہ غریب رہے۔یہ بھی لازمی نہیں کہ ہمیشہ نا انصافی موجود رہے۔کوئی بھی مسئلہ ہو،حل کیا جا سکتا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا درست نہیں بلکہ کام کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔شکوہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں کام نہیں ملتا،یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں۔کام کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ فوری طور پر کام کے عوض ہمیں بڑی رقم حاصل ہو جائے۔اگر کم رقم مل رہی ہو تو کام کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔کوئی بھی مشکل کام ہو،کرنے سے انکار نہیں کیا جائے۔محنت کی عادت اپنا کر ہی بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔کچھ نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کو فوری طور پر رقم مل جائے،تاکہ وہ بہت بڑا کاروبار کر سکیں۔کاروبار چھوٹے پیمانے پر بھی کیا جا سکتا ہے۔بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھیک تو مانگ لی جاتی ہے لیکن کام نہیں کیا جاتا۔ حکومت بھی ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر قوم کا خون نچوڑ رہی ہے۔صرف بجلی کی قیمتوں کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنے زیادہ ٹیکس کیوں لگائے جا رہے ہیں؟یوں لگتا ہے کہ حکومت نے سارا پاکستان جس رقم پر چلانا ہے وہ بجلی کے بلوں سے وصول کی جائے۔تعلیم کا حال بھی بہت برا ہے۔تعلیمی بجٹ انتہائی کم ہے،حالانکہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کو قرضوں پر چلایا جا رہا ہے اور قرض کے حصول کو حکمران بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔حکمرانوں کی مراعات میں اضافہ عوام کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔اگرمراعات میں کمی کر دی جائے تو وہ رقم بہتر کاموں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔حکومت صحت اور تعلیم کو پہلی ترجیح دینے پر تیار ہی نہیں۔تعلیم کے بجٹ کے ساتھ صحت کا بجٹ بھی بہتر نہیں۔دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ صحت کو بھی توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان میں ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ تعلیم یا صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔حکومت کی پالیسیاں بھی غربت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔بہتر قسم کی پالیسیاں بنا کر ملک میں غربت کی شرح کم کی جا سکتی ہے۔اس قسم کی سکیمیں لانچ کر دی جاتی ہیں،جو غربت میں کمی نہیں کر سکتیں۔سب سے بڑی مثال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دی جا سکتی ہے۔اربوں روپے دیے جا رہے ہیں،اگر اسی رقم سے نئی فیکٹریاں بنا دی جائیں یا کوئی دیگر منصوبہ شروع کر دیا جائے تو ملک میں غربت ختم نہ سہی، کم تو کی جا سکتی ہے۔حکمران یہ جواز دے سکتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا رہی ہے،یہ جواز سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح غربت ختم نہیں ہو سکتی۔بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم کی بندش کی وجہ سے احتجاج بھی ہو سکتا ہے لیکن پہلے احتجاجوں نے حکومت کو کیا نقصان پہنچایاہے؟دیگر سکیمیں بھی لانچ کی گئی ہیں،لیکن وہ بھی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔ اگر مسائل حل کرنے ہیں تو حکومت اور عوام دونوں کو مل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔عوام کی بڑھتی مایوسی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔نوجوانوں کو اگرملازمت نہیں ملتی یا روزگار کا کوئی ذریعہ موجود نہیں،تو ان کو ہنر سیکھنے چاہیے۔مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہنر سیکھ کر فائدہ مند شہری بنا جا سکتا ہے۔پاکستان کا ہر شہری عملی قدم اٹھائے اور یہ تہیہ کر لےکہ ہم نے ملک کو عظیم تر بنانا ہے تو ہمیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔قوم میں تعصب کو ختم کرنا ہوگا۔سندھی،پنجابی،بلوچی یاپٹھان کی بجائے پاکستانی بنناہوگا۔لسانی تعصب،علاقائی تعصب،سیاسی تعصب کے علاوہ تمام تعصبات کو ختم کرنا ہوگا۔حکمران اگر ناانصافی کر رہے ہیں،تو بحیثیت قوم ہماری کمزوری ہے۔انصاف کے لیے اتحاد ضروری ہے اور بغیر اتحاد کیے انصاف کا ملنا انتہائی دشوار ہے۔تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت نہ ملنے کے شکوے کر کے مایوس ہو رہے ہوتے ہیں،حالانکہ ان کا شکوہ درست نہیں کہا جا سکتا۔نوجوانوں کو دوران تعلیم ہنر سکھایا جائے تو وہ کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔فارغ وقت میں بالغ افراد کوئی بھی کام کریں تو انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان میں تعلیم کی بہت زیادہ کمی ہے۔کرورڑوں افراد ناخواندہ ہیں۔بالغ افراد تعلیم کی طرف توجہ دے کر ملک کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں،حکومتی سطح پر بھی تعلیمی بالغاں کے سنٹر بنائے جائیں۔۔حکمرانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے بہتری کی طرف قدم نہ بڑھائے تو مستقبل ان کے لیے بھی خاصہ خوفناک ہوگا۔اس کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسائل کو حل نہ کرنا مسئلہ ہے۔غربت،ناانصافی یا دیگر مسائل موجود ہیں اور یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دیگر ممالک کا بھی مسئلہ ہے۔بہت سے ممالک کے حکمرانوں اور عوام نے مشترکہ کوششوں سے مسائل حل کر لیے ہیں۔جن ممالک میں مسائل کو حل کرنےکے لیے کوششیں نہیں کی گئیں،وہ ذلت کا شکار ہیں۔اب بھی بہت کچھ باقی ہے،فوری طور پر کوشش شروع کر کے سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔Intellectual Stagnation
Written by: Allah Nawaz Khan
allahnawazk012@gmail.comIntellectual stagnation refers to a mental blockage or the freezing of thought and perspective. It is extremely dangerous, as it kills human capabilities. If a single individual falls victim to intellectual stagnation, it is bad enough, but when an entire society or nation becomes its victim, the decline of that nation or society becomes inevitable. Stagnant thinking pushes entire societies toward slavery. When human thought falls into stagnation and decay, a person’s conscious powers become ineffective and life turns meaningless. When conscious power becomes ineffective, widespread corruption spreads throughout society.Thought keeps a person alert and active, and motivates them to discover new worlds. When the Muslim Ummah was intellectually alive, it was leading the entire world. When the Muslim Ummah fell into intellectual stagnation, it began suffering heavy losses that continue to this day. These losses have not stopped; they are ongoing, and no one can say when they will end.Islamic teachings encourage people to think. The Quran repeatedly urges reflection and contemplation. The story of Hazrat Ibrahim (Abraham, peace be upon him) is mentioned in the Quran:“When the night grew dark upon him, he saw a star and said, ‘Is this my Lord?’ But when it set, he said, ‘I do not like those that set.’ Then when he saw the moon rising, he said, ‘Is this my Lord?’ But when it set, he said, ‘If my Lord had not guided me, I would surely be among the misguided people.’ Then when he saw the sun rising, he said, ‘Is this my Lord? This is greater.’ But when it set, he said, ‘O my people! Indeed I am free from all that you associate with Allah as partners.’” (Surah Al-An’am: 76-78)These Quranic verses invite humans to think. The people of Ibrahim (AS) used to worship gods other than Allah. Some had made a star their lord, some the sun, some the moon, and others something else. Ibrahim (AS) invited his people to reason and thought so that the truth could become clear. Obviously, how can something that perishes be called Lord? Therefore, Islam pulls humans out of intellectual stagnation so that society can move toward improvement.Intellectual stagnation pushes a person toward despair. Sometimes a person even becomes inclined toward suicide.In the present age, the developed countries that we see today once had populations suffering from intellectual stagnation and decline. Their thinking and worldview were limited. Acquiring modern knowledge was considered a sin. Living a life of limited thought had become their goal. This restricted thinking was stopping them from progressing. Thinking and reflecting too much was seen as a sin at that time. Narrow-minded scholars would not allow them to step outside a certain circle. These circles revolved sometimes around religion (self-made religion), sometimes around customs and traditions, and sometimes around so-called ideologies. If any scholar or thinker tried to break out of these circles, he was given severe punishments. A few centuries ago, great scientists and thinkers had to endure unbearable tortures. Not just a few centuries ago, but even thousands of years ago, enemies of thought existed who forced Socrates, the great philosopher, to drink poison. A few centuries ago, Galileo had to face punishment. Besides them, many other great thinkers were forced to spend their lives enduring hardships.However, when intellectual stagnation broke at the popular level, the pace of progress became astonishing. Thought introduces man to new worlds, while intellectual stagnation kills the mind. Islam provides complete guidance on how to reflect and ponder. Reflection does not mean promoting useless or idle thoughts. For example, when Baghdad was under attack, the scholars and thinkers of that time were entangled in debates about whether the bones of sacrificial meat should be buried, thrown into the river, or burned. Sometimes their discussions were on trivial matters, such as “How many angels can sit on the tip of a needle.” While real knowledge was pushed aside, people remained entangled in such useless thoughts.Islam does not forbid worldly education; rather, it encourages acquiring it. If worldly education is gained for the welfare of humanity, there is no better deed. Thinking and reflecting for the betterment of humanity is greatly liked by Allah.In various universities and educational institutions, a specific type of curriculum is taught, and students are not introduced to modern sciences. It is unfortunate not to pay attention to subjects like philosophy, science, mathematics, and other modern disciplines. It would be far better to acquaint children with these sciences from an early age so that when they grow up, they become useful members of society.Intellectual stagnation must be broken in society so that we can move toward progress. Intellectual stagnation is the death of nations, and any nation that frees itself from it becomes developed and prosperous. Philosophy and science are not enemies of Islam, nor is Islam their enemy. Philosophy, science, and similar disciplines broaden the human mind.It is regrettable that today’s youth have become lost in the glitter of the internet and have strayed from their real purpose. The relationship with books is breaking, and whoever loses their connection with books can be considered to have lost their connection with knowledge. When a nation’s relationship with knowledge becomes weak or breaks, restlessness naturally arises in it.Questions should be raised, and satisfactory answers to those questions are also necessary. Asking questions and answering them is a sign of a living society. When questions arise, doors to new research open, and new inventions and facilities come into being.Knowledge does not belong to anyone; whoever moves forward acquires it. Knowledge breaks intellectual stagnation, and intellectual stagnation must be broken. It is essential to recognize intellectual stagnation. Until we realize what intellectual stagnation actually is, it is not possible to move forward.The Quran is present for our guidance. If we follow its guidance and turn toward other sciences as well, a magnificent society can be formed.
تنقید یا نظر انداز ;
کبھی کبھی تنقید سے زیادہ نظر انداز کیا جانا تکلیف دیتا ہے، کیونکہ تنقید میں کم از کم آپ کی
موجودگی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسان صرف توجہ نہیں، بلکہ اپنی اہمیت محسوس کرنا چاہتا ہے۔ آپ کے خیال میں زیادہ تکلیف دہ کیا ہے: تنقید یا نظر انداز کیا جانا؟
Pull down to refresh