Live Audio


قاری کی گردن پہلے ہی جملے میں دبوچ لیں۔ اسے سانس لینے کا، سوچنے کا، یا پلک جھپکنے کا موقع مت دیں۔ اگر آپ کی تحریر کا پہلا پیراگراف کسی دھماکے، کسی سفاک حقیقت یا کسی چونکا دینے والے انکشاف سے شروع نہیں ہو رہا، تو آپ کی تحریر پیدائش سے پہلے ہی مر چکی ہے۔ قلم اٹھائیں اور سیدھا دل پر وار کریں۔ کوئی سلام دعا نہیں، کوئی موسم کا حال نہیں، کوئی کھوکھلا پس منظر نہیں۔ قاری کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ آپ کے الفاظ کے گھنے جنگل میں بھٹکتا پھرے۔ اسے پہلے ہی سیکنڈ میں بتا دیں کہ آپ اس کی زندگی کے کس درد، کس المیے یا کس سچائی پر نشتر چلانے والے ہیں۔ بے رحمانہ اور تلخ حقائق (Brutal Truth) کو بغیر کسی غلاف کے پیش کریں، کیونکہ مارکیٹ کا بے رحم اصول یہ ہے کہ جو تحریر چونکاتی نہیں، وہ بکتی بھی نہیں۔

اب ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں اور اس کی نفسیات اور پس منظر کو سمجھیں۔

ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟ تاریخ کا پہلا انسان جب غار میں بیٹھا تھا، تو وہ کہانیاں کیسے سناتا تھا؟ وہ سیدھا بتاتا تھا کہ "باہر شیر ہے!" وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ "ایک سہانی صبح تھی، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور اچانک ایک شیر آ گیا۔" آج کا انسان اس غار والے انسان سے کہیں زیادہ بے صبر اور خوفزدہ ہے۔ ہم ایک ایسی ڈیجیٹل بساط پر بیٹھے ہیں جہاں ہر سیکنڈ میں کروڑوں الفاظ، نوٹیفکیشنز اور اشتہارات سکرین پر ناچ رہے ہیں۔ آپ ایک ایسے دور میں لکھ رہے ہیں جہاں قاری کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) محض چند سیکنڈز تک سکڑ کر رہ گیا ہے۔

یہ وہ سفاک المیہ ہے جس نے آج کے لکھاری کو ایک ڈیکوریٹر کی  بجائے ایک جراح (Surgeon) بننے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر آپ اپنی تحریر کے شروع میں ہی طویل اور بورنگ تمہید باندھنے کی غلطی کریں گے، تو قاری آپ کی تحریر کو وہیں چھوڑ کر کسی اور سکرین کی طرف اڑ جائے گا۔ تمہید بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں ہے، لیکن اس کی اصل جگہ شروع میں نہیں، درمیان میں ہے۔ جب آپ پہلے جھٹکے سے قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیں، جب اس کا لاشعور آپ کے الفاظ کی گرفت میں آ جائے، اور جب اسے یہ لگنے لگے کہ یہ تحریر تو بالکل اس کے اپنے دل کی آواز ہے،تب اسے وہ پس منظر، وہ منطق اور وہ تمہید بتائیں جس نے آپ کو یہ سب لکھنے پر مجبور کیا۔

ایک کامیاب تحریر وہ نہیں ہوتی جو خوبصورت اور مشکل الفاظ سے سجی ہو۔ کامیاب تحریر وہ ہوتی ہے جو قاری کے اعصاب پر ہتھوڑا بن کر برسے۔ آپ کو اپنے اندر کے اس ڈرپوک لکھاری کو بے دردی سے مارنا ہوگا جو لوگوں کو ناراض کرنے سے ڈرتا ہے اور جو کڑوے سچ کو میٹھی گولی بنا کر بیچنا چاہتا ہے۔ ایک بہترین تحریر لکھتے وقت آپ کے ہاتھ میں قلم نہیں، تیز دھار چاقو ہونا چاہیے۔ آپ کو معاشرتی ہپناٹزم کی تہیں چھیل کر وہ خالص اور ننگا سچ نکالنا ہے جسے لوگ پڑھنے سے ڈرتے ہیں، مگر پڑھے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔

آپ الفاظ کے اس کھیل کے ماسٹر تبھی بن سکتے ہیں جب آپ قاری کے ذہن کے ساتھ کھیلنا سیکھ جائیں۔ اسے پہلے جملے میں چونکائیں، درمیان کی تمہید میں اس کو منطق کی دلیل سے مطمئن کریں، اور تحریر کے آخر میں اسے ایک ایسے کڑوے اور بھیانک سوال پر لا کر چھوڑ دیں کہ وہ راتوں کو سو نہ سکے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔ آپ محض صفحے کالے کرنے والا ایک عام سا محرر بننا چاہتے ہیں، یا قاری کے لاشعور پر حکمرانی کرنے والا الفاظ کا جادوگر؟

#جاوید_تیموری 


آج کل ہر شخص کوئی نہ کوئی ہنر جانتا ہے اور وہ آن لائن کورسز کے ذریعے پیسے کمانا چاہتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی اجنبی پر اپنی خون پسینے کی کمائی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر آپ پہلے ہی دن دکان سجا کر آوازیں لگائیں گے کہ "میرا کورس خرید لو"، تو کوئی نہیں خریدے گا۔

آن لائن دنیا میں پیسے کی اصل کرنسی 'اعتماد' ہے۔ اور یہ اعتماد کیسے جیتا جاتا ہے؟ اس کا ایک بہت ہی سادہ اور آزمودہ فارمولہ ہے: پہلےمفت سکھائیں، پھر پیسے کمائیں۔

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنا ایک پروفیشنل 'فیس بک پیج' اور intoBlog (ان ٹو بلاگ) پر ایک اکاؤنٹ بنائیں۔ اس کے بعد فورا اپنا کورس بیچنے کے بجائے لوگوں کو مفت میں چھوٹی چھوٹی ٹپس اور طریقے سکھانا شروع کریں۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ آپ کے مفت مشوروں سے انہیں فائدہ ہو رہا ہے، تو وہ آپ پر اندھا اعتماد کرنے لگیں گے۔ اور جب اعتبار قائم ہو جائے، تب آپ اپنا پیڈ (Paid) کورس لانچ کریں، لوگ خوشی خوشی پیسے دیں گے۔

آئیے اسے تین مختلف اور سادہ مثالوں سے سمجھتے ہیں:

1. انگریزی سکھانے کا کورس (English Language Course)

فرض کریں آپ لوگوں کو انگریزی بولنا سکھانا چاہتے ہیں۔ آپ فیس بک اور intoBlog پر روزانہ ایک چھوٹی سی پوسٹ یا آرٹیکل لکھیں۔ مثال کے طور پر: "انگریزی کے 5 ایسے الفاظ جو ہم روز غلط بولتے ہیں" یا "بغیر گرامر رٹے انگریزی بولنے کے 3 آسان طریقے۔" آپ لوگوں کو روزمرہ استعمال کے جملے سکھائیں۔ جب لوگ آپ کی پوسٹس پڑھ کر اپنی انگریزی میں بہتری محسوس کریں گے، تو وہ آپ کو اپنا 'استاد' مان لیں گے۔ ایک مہینے بعد جب آپ اعلان کریں گے کہ "میں ایک ماہ کا مکمل اسپوکن انگلش کورس کروا رہا ہوں،" تو وہی لوگ جو پہلے آپ کو نہیں جانتے تھے، اب آپ کو خوشی سے پیسے دیں گے کیونکہ انہیں پتا ہے کہ آپ واقعی اچھا سکھاتے ہیں۔

2. گرافک ڈیزائننگ یا فری لانسنگ کا کورس

اگر آپ ویڈیو ایڈیٹنگ یا ڈیزائننگ کا کورس بیچنا چاہتے ہیں، تو intoBlog پر ایسی پوسٹس لگائیں جن میں آپ سکھائیں کہ "کسی بھی تصویر کا بیک گراؤنڈ ایک کلک میں کیسے ختم کریں" یا "رنگوں کو ملانے کا جادوئی طریقہ کیا ہے۔" آپ اپنے پیج پر چھوٹے چھوٹے ڈیزائنز بنا کر ان کا طریقہ مفت بتائیں۔ لوگ آپ کی مہارت کے دیوانے ہو جائیں گے۔ پھر آپ انہیں کہیں کہ "یہ تو صرف ٹریلر تھا، اگر آپ مکمل پروفیشنل ڈیزائنر بن کر گھر بیٹھے لاکھوں کمانا چاہتے ہیں تو میرا یہ پروفیشنل کورس خریدیں۔" آپ کی مفت کی ٹپس ان کا اعتماد جیت چکی ہوں گی، اور وہ کورس ضرور خریدیں گے۔

3. فٹنس اور وزن کم کرنے کا کورس (Health & Fitness)

اگر آپ فٹنس ٹرینر ہیں اور ڈائٹ پلان بیچنا چاہتے ہیں، تو فوراً پیسے مت مانگیں۔ پہلے لوگوں کو بتائیں کہ "چینی چھوڑنے کے 3 حیران کن فائدے کیا ہیں" یا "بغیر جم جائے گھر میں 5 منٹ کی ورزش سے وزن کیسے کم کریں۔" آپ intoBlog پر صحت کے حوالے سے معلوماتی مضامین لکھیں۔ جب کوئی شخص آپ کے مفت بتائے ہوئے طریقے پر عمل کر کے اپنا 2 کلو وزن کم کر لے گا، تو وہ آپ کا پکا گاہک بن جائے گا۔ اب اگر آپ اسے اپنا 10 ہزار روپے کا مکمل فٹنس پلان بیچیں گے، تو وہ بغیر سوچے سمجھے آپ کو پیسے دے دے گا۔


کاروبار کا اصول بہت سیدھا ہے: "پہلے ویلیو (Value) دیں، پھر قیمت مانگیں۔" intoBlog اور فیس بک آپ کے لیے وہ پلیٹ فارم ہیں جہاں آپ اپنے علم کا تھوڑا سا حصہ مفت بانٹ کر لوگوں کو اپنا مداح بناتے ہیں۔ جب آپ لوگوں کی زندگی میں مفت ویلیو شامل کرتے ہیں، تو بدلے میں وہ آپ کو پیسے دینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔

آپ کے پاس ایسا کون سا ہنر یا علم ہے جس کا کچھ حصہ آپ آج ہی intoBlog پر مفت بانٹ کر اپنا اعتماد بنانا شروع کر سکتے ہیں؟

#جاوید_تیموری 

اے آئی سے بنی تصویر

یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کیا کرو، یہ تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا باعث ہوگا۔


حوالہ: جامع ترمذی ، حدیث نمبر: 2698

Pull down to refresh