Live Audio

دنیا کی مشہور کتاب الکمسٹ سے 5 رولز سیکھ لو


ایک ایسی کتاب جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل دی۔ آج تک اس کی تقریباً 70 ملین کاپیز بک چکی ہیں اور 72 زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔


اس کتاب کے صرف ایک جملے پر بالی ووڈ نے پوری فلم بنا دی۔


"اتنی شدت سے میں نے تمہیں پانے کی کوشش کی ہے۔

 کہ ہر ذرّے نے مجھے تم سے ملانے کی سازش کی ہے۔"


میں اس کتاب کا پورا خلاصہ نہیں بتاؤں گا، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کتاب کو خود پڑھیں۔ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب آپ اس کہانی کو پڑھیں گے، تو آپ کو اس کے ہر جملے سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ضرور ملے گا۔


الکمسٹ (The Alchemist) سے کروڑوں لوگوں نے زندگی کا گر اور کامیابی کا راز سیکھا ہے، آج ان شاء اللہ آپ کی باری ہے۔


الکمسٹ سے سیکھے گئے یہ 5 رولز آپ کی سوچ بدل سکتے ہیں:


1۔ اپنے خوابوں کے پیچھے جاؤ (Follow Your Dreams)


اگر آپ اپنے سپنوں کو ignore کرو گے، تو زندگی بھر regret کرتے رہو گے۔ جو سچ میں چاہتے ہو، اس کے پیچھے جاؤ۔


2۔ ڈر، ناکامی سے بڑا ہوتا ہے (Fear is Bigger than Failure)


اپنے ڈر کو face کرو۔ لوگ fail ہونے سے نہیں، بلکہ fail ہونے کے ڈر سے کچھ کام نہیں کرتے۔


3۔ سفر پر بھروسہ رکھو (Trust the Journey)


اگر آپ کی life میں کچھ problems آتی ہیں، تو سمجھو کہ آپ بالکل صحیح direction پر جا رہے ہو۔


4۔ اپنی اندر کی آواز سنو (Listen to Your Heart)


دوسروں کی expectation کے حساب سے مت جیو۔اپنی inner voice کو سنو اور خود پر trust کرو۔


5۔ اصل خزانہ تمہارے اندر ہے (Treasure is in You)


لوگ happiness اور success کو باہر ڈھونڈتے ہیں، لیکن اصلی treasure آپ کی growth ،experiences اور آپ کے mindset میں ہوتا ہے۔


اگر میں اس پوری کتاب کا خلاصہ صرف ایک جملے میں کروں، تو وہ یہ ہے: "آپ کا اصل خزانہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہو، بلکہ وہ سفر ہے جو آپ کو وہاں تک لے جاتا ہے۔


اگر آج آپ کی زندگی میں مشکلات ہیں، تو یہ سمجھ لو کہ کائنات آپ کو بڑے خزانے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ بس اپنے دل کی سنو، مستقل مزاج رہو، اور اپنے سفر پر پورا بھروسہ رکھو۔


آج خود سے ایک سوال پوچھو:

کیا تم اپنے خواب کے پیچھے چل رہے ہو، یا صرف دوسروں کی زندگی دیکھ رہے ہو؟

#Mrihsan
Aoa main hn Ghulam Raza hazurpur wadhan Bhera Sargodha just aj apana taraf he karwana hi
ملفوظات ظہیر 
ھو میں ھو ہو کر ھو کو قائم کرو- کمال ہو جائے گاکلمہ میں کلمہ قائم کرو -کمال ہو جائے گاخود میں خود قائم ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گانور ازل کو نور ازل میں قائم کرو -کمال ہو جائے گا۔بے تصور میں بے تصور ہو جاؤ- کمال ہو جائے گابے اسم میں بے اسم ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گابے ذکر میں بے ذکر ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گامجلس محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حقیقی مرتبہ پاؤ۔ کمال ہو جائے گا۔ والسلام 
روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ قائم مقام سربراہ سلسلہ عالیہ چشتی صابری ظہیری 
اپنی روح کے سفر کے لئےپڑھیں کتاب عرفان خودی عرفان خدامصنف ۔ سید ظہیر حسین شاہرابطہ نمبر 03059906066
Aisa Q hota hai 🙂
کونسی سمارٹ واچ خرید کرنی چاہیے پوسٹ سیریز پوسٹ نمبر 05اب جب آپ فٹنس اور ہیلتھ ٹریکنگ فیچرز کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں، تو اگلا مرحلہ اسمارٹ واچ کے ڈیزائن اور آرام دہ استعمال پر توجہ دینا ہے۔ آخرکار، بہترین فیچرز بھی اس وقت مکمل فائدہ نہیں دیتے جب واچ روزمرہ استعمال میں آرام دہ محسوس نہ ہو یا آپ کے اندازِ زندگی سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
ڈیزائن اور آرام دہ استعمال (Design & Comfort)
اسمارٹ واچ صرف ایک ٹیکنالوجی ڈیوائس نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جسے آپ روزانہ اپنے ساتھ پہنتے ہیں۔ اسی لیے ڈیزائن، وزن اور آرام دہ استعمال خریداری کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خریداری سے پہلے درج ذیل نکات پر ضرور غور کریں:
⌚ ڈسپلے کا سائز اور وزنبڑی اسکرین والی واچز پر معلومات پڑھنا آسان ہوتا ہے اور نوٹیفکیشنز زیادہ واضح نظر آتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے اور ہلکے ماڈلز کلائی پر زیادہ آرام دہ محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ اسے پورا دن پہننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
🛡️ باڈی اور بلڈ کوالٹیاسٹین لیس اسٹیل یا ٹائٹینیم سے بنی واچز زیادہ مضبوط اور پریمیم احساس دیتی ہیں، جبکہ ایلومینیم یا پلاسٹک سے بنی واچز ہلکی ہوتی ہیں اور روزمرہ استعمال کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
🎽 اسٹریپ کے آپشنزاگر آپ ورزش یا کھیلوں کے لیے واچ استعمال کرتے ہیں تو سلیکون اسٹریپ بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ ہلکی، آرام دہ اور پسینے کے خلاف بہتر کارکردگی دیتی ہے۔ جبکہ کاروباری یا رسمی ماحول کے لیے لیدر یا میٹل اسٹریپس زیادہ خوبصورت اور پروفیشنل انداز فراہم کرتی ہیں۔
🌟 ڈسپلے کوالٹیAMOLED ڈسپلے والی اسمارٹ واچز عام طور پر زیادہ شوخ رنگ، بہتر کنٹراسٹ اور دھوپ میں بہتر ویوئنگ ایکسپیرینس فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈسپلے پریمیم اسمارٹ واچز میں زیادہ مقبول ہیں۔
اگر آپ اپنی اسمارٹ واچ کو دن رات، یعنی 24/7 پہننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو صرف فیچرز پر توجہ نہ دیں بلکہ یہ بھی یقینی بنائیں کہ واچ آپ کی کلائی پر آرام دہ محسوس ہو اور آپ کے ذاتی انداز اور طرزِ زندگی سے مطابقت رکھتی ہو۔
⌚ اب آپ بتائیں!
آپ اسمارٹ واچ میں سب سے زیادہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں؟
🌟 AMOLED Display💎 Premium Look🏃 ہلکی اور آرام دہ واچ🛡️ مضبوط Build Quality🎽 Stylish Straps
کمنٹ میں اپنی پسند ضرور بتائیں✨

آئیں زمین کو واپس کریں


الارم بج چکا ہے اگلے 5 سالوں میں پانی کا شدید بحران..!


 💧 ہمارے شہروں کا زیرِ زمین پانی (Groundwater) ہر سال خطرناک حد تک نیچے جا رہا ہے۔ جہاں پہلے 50 فٹ پر میٹھا پانی ملتا تھا، آج وہاں 300 سے 500 فٹ پر بھی کھارا پانی آ رہا ہے۔ ہم زمین سے روزانہ کروڑوں گیلن پانی نکال تو رہے ہیں، لیکن بارش کا مفت پانی گٹروں میں بہا کر ضائع کر دیتے ہیں۔ 


🤝 حل بہت آسان اور سستا ہے..! 


اس مہم کا مقصد حکومت پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ حکومت کا ہاتھ بٹانا اور اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہے۔ 💰 امیر ہو یا غریب سب کا ذاتی فائدہ: 


امیر اور مڈل کلاس گھرانوں کے لیے: 


آپ کو اپنے پکے فرش توڑنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اپنے کار پورچ، گلی یا ریمپ کے پاس ایک چھوٹا سا ۳ بائے ۳ فٹ کا "واٹر ریچارج پٹ" (Recharge Pit) بنائیں چھت کا پائپ اس میں ڈالیں


 ✨ حکومتِ وقت اور اربن پلانرز سے گزارش ہے کہ جیسے سولر کے لیے گرین میٹرنگ اور بائی لاز بنائے گئے، ویسے ہی نئے بننے والے ہر گھر اور پلازہ کے نقشے میں "واٹر ریچارج سسٹم" لازمی قرار دیا جائے اور اسے لگانے والے شہریوں کو واٹر ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔ یہ ملک ہمارا ہے، یہ زمین ہماری ہے۔ 


بارش اللہ کی رحمت ہے، اسے نالیوں میں ضائع نہ کریں بستی ملوک شہر میں بھی پانی کی صورتحال سب کے سامنے ہیں اس وقت ہنگامی حالات میں کم از کم 500 ری چارجنگ پٹ بستی ملوک شہر میں بننا ضروری ہیں تاکہ زمینی پانی کی سطح میں بہتری آئے اور زیر زمین پانی میٹھا اور صاف ہو۔

Khush raho hamesha sab ❤️
زخمی رُوحیں جب بُری نہ بن سکیں تو انّا پرست بن جاتی ہیں۔۔۔!🍂

محبت کا درد


اے پہاڑ! غم میں مبتلا عاشقوں کے آنسو ان کے گالوں پر سوکھنے کا نام ہی نہیں لیتے، کیونکہ ان کے اندر جدائی اور محبت کا درد بہت گہرا ہے۔
کے ٹو K2 کے سخت پتھر بھی ایسے مسلسل رونے اور غموں کے اثر سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئے ہیں۔ یعنی عاشق کے درد اور آہ میں اتنی طاقت ہے کہ بے جان پتھر بھی پگھل جاتے ہیں۔
غم اور جدائی کے گھوڑے انسان کو اتنا دور لے جاتے ہیں، کہ جب جان اور محبوب کے درمیان جدائی آتی ہے تو یہ درد برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستان کا لاجیکل ڈیزائن اگر پچھلے پچاس سالہ تاریخ پہ نظر ڈالوں تو پاکستان کی اساس بنانے میں جو منطق استعمال کی گئی ہے یا جو منطقی ڈیزائن بنا کر پاکستان کی جنریشن ایکس ، وائی اور زی کو پروان چڑھایا گیا ہے وہ تین طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور یہ تینوں طبقات ایک دوسرے سے نفرت بھی کرتے ہیں ۔ جب کسی قوم کی بنیاد کو سمجھنا ہو تو اس کے تعلیمی نظام کو سمجھنا پڑتا ہے ۔ انیس سو اسی کی دہائی سے پاکستان کے نظام تعلیم میں ایک تبدیلی آئی تھی ۔ اس سے پہلے پاکستان کا نظامِ تعلیم دو طبقات پہ مشتمل تھا ۔ ایک گورنمنٹ سکول سسٹم اور دوسرا مدارس کا نظام تعلیم ۔ گورنمنٹ سکول سسٹم میں دفتری اور علم ہندسہ و طب یعنی بزنس ایجوکیشن ، انجنئیرنگ اور میڈیکل کی تعلیم دی جاتی تھی جبکہ مدارس خالص دینی تعلیم دیتے تھے ۔ یہ دونوں طبقات ایک دوسرے کو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ مدارس والے سکولوں میں پڑھنے والوں کو دہریے اور بے دین کہتے تھے جبکہ سکولوں میں پڑھنے والے مدارس والوں کو جہلا ، مولوی اور نہ جانے کیا کیا کہتے تھے ۔ اس وقت تک دو طرح کا پاکستان تھا ایک اردو میڈیم سکول اور دوسرا مدرسہ لیکن پھر ایک تیسرا میڈیم سکول بھی اس میں شامل کیا گیا جسے انگلش میڈیم کیا جاتا ہے۔ ایک بچہ انگریزی میں او لیول اے لیول پڑھتا تھا ، ایک بچہ اردو میں میٹرک کرتا ہے اور تیسرا بچہ مدرسے سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کرتا تھا ۔ یہ تینوں بچے ایک ہی شہر ایک ہی محلے میں رہتے ہیں لیکن تینوں کے روز گار کے ذرائع مختلف ہیں ۔یہ تینوں ایک دوسرے سے نظریاتی نفرت کرتے ہیں ۔اور ان تینوں کا نظریاتی پاکستان مختلف ہے ۔ ایک طبقہ لبرل یا آزاد خیال پاکستان چاہتا ہے وہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتا ہے ۔ ایک طبقہ جمہوری پاکستان چاہتا ہے اور تیسرا طبقہ اسلامی پاکستان چاہتا ہےیہ تین طبقات ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور ایک دوسرے پہ سوال کرتے ہیں ۔ یہ تینوں مل کے ایک ہی سوال نہیں کرتے اور نہ ہی اکٹھے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ طبقاتی لاجیکل ڈیزائن ہے جو تقسیم کرو اور حکومت کرو کے لیے بنایا گیا ہے ۔ جب ایک طبقہ بہتری کی کوشش کرتا ہے تو دوسرا اس کی ٹانگ کھینچنے کے لیے کود پڑتا ہے ۔ اگر لبرل بھٹو آتا ہے تو اسلامی جمہوری اتحاد اسے پھانسی لگوا دیتا ہے ۔ اگر جمہوری نواز شریف آتا ہے تو بھٹو والے اور اسلام والے اسے اٹھا کے ادھر مارتے ہیں ۔ اسلامی والوں کو ویسے ہی دونوں بڑے طبقے دبا کے رکھتے ہیں ۔جب تک قوم کو یہ لاجیکل ڈیزائن سمجھ نہیں آئے گا تب تک ایسے ہی سارے مل کے جوتے کھاتے رہیں گے یا ملک چھوڑ کے بھاگتے رہیں گے ۔ آپ کو پتا ہے ؟ پچھلے سال پاکستان سے سات لاکھ لوگ کہیں اور شفٹ ہو گئے ہیں ۔ اور یہ سات لاکھ وہ ہونے ہیں جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے تحریر Beenish Iftikhar

Pull down to refresh