Live Audio

Aoa main hn Ghulam Raza hazurpur wadhan Bhera Sargodha just aj apana taraf he karwana hi
ملفوظات ظہیر 
ھو میں ھو ہو کر ھو کو قائم کرو- کمال ہو جائے گاکلمہ میں کلمہ قائم کرو -کمال ہو جائے گاخود میں خود قائم ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گانور ازل کو نور ازل میں قائم کرو -کمال ہو جائے گا۔بے تصور میں بے تصور ہو جاؤ- کمال ہو جائے گابے اسم میں بے اسم ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گابے ذکر میں بے ذکر ہو جاؤ۔ کمال ہو جائے گامجلس محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حقیقی مرتبہ پاؤ۔ کمال ہو جائے گا۔ والسلام 
روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ قائم مقام سربراہ سلسلہ عالیہ چشتی صابری ظہیری 
اپنی روح کے سفر کے لئےپڑھیں کتاب عرفان خودی عرفان خدامصنف ۔ سید ظہیر حسین شاہرابطہ نمبر 03059906066
Aisa Q hota hai 🙂
کونسی سمارٹ واچ خرید کرنی چاہیے پوسٹ سیریز پوسٹ نمبر 05اب جب آپ فٹنس اور ہیلتھ ٹریکنگ فیچرز کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں، تو اگلا مرحلہ اسمارٹ واچ کے ڈیزائن اور آرام دہ استعمال پر توجہ دینا ہے۔ آخرکار، بہترین فیچرز بھی اس وقت مکمل فائدہ نہیں دیتے جب واچ روزمرہ استعمال میں آرام دہ محسوس نہ ہو یا آپ کے اندازِ زندگی سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
ڈیزائن اور آرام دہ استعمال (Design & Comfort)
اسمارٹ واچ صرف ایک ٹیکنالوجی ڈیوائس نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جسے آپ روزانہ اپنے ساتھ پہنتے ہیں۔ اسی لیے ڈیزائن، وزن اور آرام دہ استعمال خریداری کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خریداری سے پہلے درج ذیل نکات پر ضرور غور کریں:
⌚ ڈسپلے کا سائز اور وزنبڑی اسکرین والی واچز پر معلومات پڑھنا آسان ہوتا ہے اور نوٹیفکیشنز زیادہ واضح نظر آتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے اور ہلکے ماڈلز کلائی پر زیادہ آرام دہ محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ اسے پورا دن پہننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
🛡️ باڈی اور بلڈ کوالٹیاسٹین لیس اسٹیل یا ٹائٹینیم سے بنی واچز زیادہ مضبوط اور پریمیم احساس دیتی ہیں، جبکہ ایلومینیم یا پلاسٹک سے بنی واچز ہلکی ہوتی ہیں اور روزمرہ استعمال کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
🎽 اسٹریپ کے آپشنزاگر آپ ورزش یا کھیلوں کے لیے واچ استعمال کرتے ہیں تو سلیکون اسٹریپ بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ ہلکی، آرام دہ اور پسینے کے خلاف بہتر کارکردگی دیتی ہے۔ جبکہ کاروباری یا رسمی ماحول کے لیے لیدر یا میٹل اسٹریپس زیادہ خوبصورت اور پروفیشنل انداز فراہم کرتی ہیں۔
🌟 ڈسپلے کوالٹیAMOLED ڈسپلے والی اسمارٹ واچز عام طور پر زیادہ شوخ رنگ، بہتر کنٹراسٹ اور دھوپ میں بہتر ویوئنگ ایکسپیرینس فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈسپلے پریمیم اسمارٹ واچز میں زیادہ مقبول ہیں۔
اگر آپ اپنی اسمارٹ واچ کو دن رات، یعنی 24/7 پہننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو صرف فیچرز پر توجہ نہ دیں بلکہ یہ بھی یقینی بنائیں کہ واچ آپ کی کلائی پر آرام دہ محسوس ہو اور آپ کے ذاتی انداز اور طرزِ زندگی سے مطابقت رکھتی ہو۔
⌚ اب آپ بتائیں!
آپ اسمارٹ واچ میں سب سے زیادہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں؟
🌟 AMOLED Display💎 Premium Look🏃 ہلکی اور آرام دہ واچ🛡️ مضبوط Build Quality🎽 Stylish Straps
کمنٹ میں اپنی پسند ضرور بتائیں✨

آئیں زمین کو واپس کریں


الارم بج چکا ہے اگلے 5 سالوں میں پانی کا شدید بحران..!


 💧 ہمارے شہروں کا زیرِ زمین پانی (Groundwater) ہر سال خطرناک حد تک نیچے جا رہا ہے۔ جہاں پہلے 50 فٹ پر میٹھا پانی ملتا تھا، آج وہاں 300 سے 500 فٹ پر بھی کھارا پانی آ رہا ہے۔ ہم زمین سے روزانہ کروڑوں گیلن پانی نکال تو رہے ہیں، لیکن بارش کا مفت پانی گٹروں میں بہا کر ضائع کر دیتے ہیں۔ 


🤝 حل بہت آسان اور سستا ہے..! 


اس مہم کا مقصد حکومت پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ حکومت کا ہاتھ بٹانا اور اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہے۔ 💰 امیر ہو یا غریب سب کا ذاتی فائدہ: 


امیر اور مڈل کلاس گھرانوں کے لیے: 


آپ کو اپنے پکے فرش توڑنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اپنے کار پورچ، گلی یا ریمپ کے پاس ایک چھوٹا سا ۳ بائے ۳ فٹ کا "واٹر ریچارج پٹ" (Recharge Pit) بنائیں چھت کا پائپ اس میں ڈالیں


 ✨ حکومتِ وقت اور اربن پلانرز سے گزارش ہے کہ جیسے سولر کے لیے گرین میٹرنگ اور بائی لاز بنائے گئے، ویسے ہی نئے بننے والے ہر گھر اور پلازہ کے نقشے میں "واٹر ریچارج سسٹم" لازمی قرار دیا جائے اور اسے لگانے والے شہریوں کو واٹر ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔ یہ ملک ہمارا ہے، یہ زمین ہماری ہے۔ 


بارش اللہ کی رحمت ہے، اسے نالیوں میں ضائع نہ کریں بستی ملوک شہر میں بھی پانی کی صورتحال سب کے سامنے ہیں اس وقت ہنگامی حالات میں کم از کم 500 ری چارجنگ پٹ بستی ملوک شہر میں بننا ضروری ہیں تاکہ زمینی پانی کی سطح میں بہتری آئے اور زیر زمین پانی میٹھا اور صاف ہو۔

Khush raho hamesha sab ❤️
زخمی رُوحیں جب بُری نہ بن سکیں تو انّا پرست بن جاتی ہیں۔۔۔!🍂

محبت کا درد


اے پہاڑ! غم میں مبتلا عاشقوں کے آنسو ان کے گالوں پر سوکھنے کا نام ہی نہیں لیتے، کیونکہ ان کے اندر جدائی اور محبت کا درد بہت گہرا ہے۔
کے ٹو K2 کے سخت پتھر بھی ایسے مسلسل رونے اور غموں کے اثر سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئے ہیں۔ یعنی عاشق کے درد اور آہ میں اتنی طاقت ہے کہ بے جان پتھر بھی پگھل جاتے ہیں۔
غم اور جدائی کے گھوڑے انسان کو اتنا دور لے جاتے ہیں، کہ جب جان اور محبوب کے درمیان جدائی آتی ہے تو یہ درد برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستان کا لاجیکل ڈیزائن اگر پچھلے پچاس سالہ تاریخ پہ نظر ڈالوں تو پاکستان کی اساس بنانے میں جو منطق استعمال کی گئی ہے یا جو منطقی ڈیزائن بنا کر پاکستان کی جنریشن ایکس ، وائی اور زی کو پروان چڑھایا گیا ہے وہ تین طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور یہ تینوں طبقات ایک دوسرے سے نفرت بھی کرتے ہیں ۔ جب کسی قوم کی بنیاد کو سمجھنا ہو تو اس کے تعلیمی نظام کو سمجھنا پڑتا ہے ۔ انیس سو اسی کی دہائی سے پاکستان کے نظام تعلیم میں ایک تبدیلی آئی تھی ۔ اس سے پہلے پاکستان کا نظامِ تعلیم دو طبقات پہ مشتمل تھا ۔ ایک گورنمنٹ سکول سسٹم اور دوسرا مدارس کا نظام تعلیم ۔ گورنمنٹ سکول سسٹم میں دفتری اور علم ہندسہ و طب یعنی بزنس ایجوکیشن ، انجنئیرنگ اور میڈیکل کی تعلیم دی جاتی تھی جبکہ مدارس خالص دینی تعلیم دیتے تھے ۔ یہ دونوں طبقات ایک دوسرے کو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ مدارس والے سکولوں میں پڑھنے والوں کو دہریے اور بے دین کہتے تھے جبکہ سکولوں میں پڑھنے والے مدارس والوں کو جہلا ، مولوی اور نہ جانے کیا کیا کہتے تھے ۔ اس وقت تک دو طرح کا پاکستان تھا ایک اردو میڈیم سکول اور دوسرا مدرسہ لیکن پھر ایک تیسرا میڈیم سکول بھی اس میں شامل کیا گیا جسے انگلش میڈیم کیا جاتا ہے۔ ایک بچہ انگریزی میں او لیول اے لیول پڑھتا تھا ، ایک بچہ اردو میں میٹرک کرتا ہے اور تیسرا بچہ مدرسے سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کرتا تھا ۔ یہ تینوں بچے ایک ہی شہر ایک ہی محلے میں رہتے ہیں لیکن تینوں کے روز گار کے ذرائع مختلف ہیں ۔یہ تینوں ایک دوسرے سے نظریاتی نفرت کرتے ہیں ۔اور ان تینوں کا نظریاتی پاکستان مختلف ہے ۔ ایک طبقہ لبرل یا آزاد خیال پاکستان چاہتا ہے وہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتا ہے ۔ ایک طبقہ جمہوری پاکستان چاہتا ہے اور تیسرا طبقہ اسلامی پاکستان چاہتا ہےیہ تین طبقات ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور ایک دوسرے پہ سوال کرتے ہیں ۔ یہ تینوں مل کے ایک ہی سوال نہیں کرتے اور نہ ہی اکٹھے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ طبقاتی لاجیکل ڈیزائن ہے جو تقسیم کرو اور حکومت کرو کے لیے بنایا گیا ہے ۔ جب ایک طبقہ بہتری کی کوشش کرتا ہے تو دوسرا اس کی ٹانگ کھینچنے کے لیے کود پڑتا ہے ۔ اگر لبرل بھٹو آتا ہے تو اسلامی جمہوری اتحاد اسے پھانسی لگوا دیتا ہے ۔ اگر جمہوری نواز شریف آتا ہے تو بھٹو والے اور اسلام والے اسے اٹھا کے ادھر مارتے ہیں ۔ اسلامی والوں کو ویسے ہی دونوں بڑے طبقے دبا کے رکھتے ہیں ۔جب تک قوم کو یہ لاجیکل ڈیزائن سمجھ نہیں آئے گا تب تک ایسے ہی سارے مل کے جوتے کھاتے رہیں گے یا ملک چھوڑ کے بھاگتے رہیں گے ۔ آپ کو پتا ہے ؟ پچھلے سال پاکستان سے سات لاکھ لوگ کہیں اور شفٹ ہو گئے ہیں ۔ اور یہ سات لاکھ وہ ہونے ہیں جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے تحریر Beenish Iftikhar
عالمی قرضوں کا بحران اور ترقی پذیر ممالک کی مشکلات تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com   قرضوں کی وجہ سے ترقی پزیر ممالک کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔قرضوں کے جال میں پھنسا کر بہت سے ممالک کی معیشتوں پر قبضہ کرنے کے علاوہ انتظامی امور کو بھی کنٹرول کیا جا رہا ہے۔قرضے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔قرض تقریبا تمام ممالک لیتے ہیں لیکن مسائل کمزور ممالک کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک معاشی طور پر مستحکم ہوتےہیں،ان کے لیے قرضہ مسئلہ نہیں بنتا۔غریب اور ترقی پذیر ممالک کےلیے قرض معاشی اور دیگر مسائل پیدا کر دیتا ہے۔عالمی بینک،آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ترقی پزیر ممالک کو معیشتیں چلانے،ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے مسلسل بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔قرض پر چلنے والی معیشتیں ہمیشہ مسائل کا شکار رہتی ہیں۔کوئی ملک اگر قرض حاصل کرتا ہے تو اس کو قرض دینے والی کی شرائط بھی تسلیم کرنا پڑتی ہیں۔مقروض ممالک ٹیکسز میں اضافہ،مہنگائی میں اضافہ،فنڈز میں کٹوتی جیسی شرائط تسلیم کر کے ملک کی خود مختاری کو کمزور کرتے ہیں۔اکثر اوقات اس قسم کی شرائط بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں،جن کا عام حالات میں سوچنا بھی تصور نہیں کیاجاتا۔سیاسی طور پر بھی مداخلت بڑھ جاتی ہے،جس کا نقصان مقروض ملک کو ہوتا ہے۔من پسند حکمرانوں کو حکومت دے کر قرض دینے والے ممالک اپنی مرضی کی پالیسیاں بنوا کر نافذ کر دیتے ہیں۔قرض لینے والے ممالک میں کرپشن،میرٹ کی پامالی سمیت کئی قسم کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ ممالک صنعتوں کے لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ ممالک میں معدنیات موجود ہوتی ہیں۔صنعتوں اور معدنیات سے ملک معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔خلیجی ممالک میں تیل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کی معیشت مضبوط ہے۔جرمنی،جاپان کے علاوہ کئی ممالک میں صنعتی خوشحالی ہے۔کئی ممالک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مسائل پائے جاتے ہیں،حالانکہ معدنیات سمیت کئی قسم کے خزانے موجود ہوتے ہیں۔جنگوں کی وجہ سے بھی معاشی دھچکا پہنچتا ہے۔دیگر بھی کئی قسم کے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ممالک معاشی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔مختلف مسائل کی وجہ سے ان ممالک کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔قرض دینے والے ان ممالک کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔بھاری سود کےعوض قرض دیا جاتا ہے۔مقروض ملک اکثر اوقات قرض کی قسط ادا کرنے کے لیےمزید قرض لیتا ہے۔قرض در قرض کا سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے اور وہ ملک کبھی بھی معاشی صورتحال کو بہتر نہیں کر سکتا۔قرض معاشی استحکام اور قومی خود مختاری کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔قرض لینے والے ممالک اکثر اپنے ترقیاتی منصوبے پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچا پاتے۔رقم کی کمی صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کے فنڈز میں کٹوتی کر کے پوری کی جاتی ہے۔اس قسم کے مسائل سے مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔قرض لیا جائے لیکن بہتر منصوبہ بندی سے خرچ کیا جائے تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔دوسری صورت میں قرض لینے والا ملک ہمیشہ مقروض رہے گا اور معاشی کمزوری کا بھی سامنا کرتا رہے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 122 ممالک خطرناک حد تک قرضوں کےبوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔کئی ممالک کی تو معاشی حالت انتہائی خراب ہے۔قرضے کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے،حالانکہ سرمایہ کاری سے کسی بھی ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔قرض لے کر ملک کی معیشت کو مزید کمزور کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے۔معاشی لحاظ سے کمزور ممالک جب تک قرض سے چھٹکارا نہیں پاتے،اس وقت تک معاشی استحکام کا حاصل ہونا مشکل ہے۔بہتر پالیسیاں بنا کر قرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کی جائے۔لوکل انڈسٹریز کا فروغ لازما کرنا چاہیے۔ملک میں موجود فیکٹریوں کو سبسڈی اور دیگر سہولیات دے کر معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔موبائل،گاڑیاں،الیکٹرانکس کا سامان اور دیگر مصنوعات ملکی طور پر تیار کی جائیں۔مشینری بھی ملک کے اندر تیار کی جانی چاہیےاور مصنوعات کا معیار بھی بہتر ہو۔اگر معیاری مصنوعات تیار کی جائیں گی تو ان کی عالمی منڈی میں بہتر قیمت مل سکے گی۔ٹیکس کا نظام بہتر بنانا چاہیے اور ٹیکس نیٹ ورک کی توسیع بھی لازمی ہونی چاہیے۔ٹیکس سسٹم کو ڈیجیٹل پر منتقل کیا جائے اور ٹیکس کی شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے۔امیر سے براہ راست ٹیکس وصولی کا انتظام کیا جائے۔کمزور طبقات کے لیے سبسڈی کا نظام ہونا چاہیے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ملکی سرمایہ کاروں کو بھی سہولیات دی جائیں،تاکہ ملک میں سرمایہ کاری سے خوشحالی پیدا ہو سکے۔جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہو وہ ملک بھی معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتے۔کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ورنہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔جن ممالک کے پاس بہترین زرعی رقبے ہیں،اگر زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔معدنیات کو بھی استعمال میں لایا جائے۔کئی ممالک میں قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہوتےہیں، لیکن ان کو استعمال میں نہ لا کر معاشی بدحالی برداشت کی جا رہی ہوتی ہے۔بہت سے ذرائع ہیں جن کی وجہ سے کوئی بھی ملک اپنی معیشت کو مضبوط کر کے قرضوں کے جال سے نکل سکتا ہے۔ قرض کابحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔کرونا وبا نے بھی عالمی معاشی نظام کو زبردست نقصان پہنچایا۔بہت سے ممالک اس وبا کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہو گئے۔قرضوں کا بحران بہت سے ممالک کی ترقی کو روک رہا ہے۔معاشی لحاظ سے کمزور ممالک متحد ہو کر خود مختار ہو سکتے ہیں۔قرض کی رقم بہتر منصوبوں پر استعمال کرنے سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر تعلیم کا بجٹ زیادہ ہونا چاہیے۔اگر تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کی جائے تو مستقبل میں معاشی انقلاب آ سکتا ہے۔تعلیم کے علاوہ دیگر بہتر منصوبوں پر سرمایہ خرچ کیا جائے،جس کا فائدہ لازما ہوگا۔یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر قرضوں سے نجات حاصل نہیں کی جا سکتی،آہستہ آہستہ اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔قرض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بے شمار ممالک کا مسئلہ ہے۔بہتری کے لیے کام نہ کرنے والے ممالک ہمیشہ ابتر صورتحال کا سامنا کرتے رہیں گے۔قرض جیسے بحران کا مقابلہ کرنا آسان نہیں لیکن ناممکن نہیں۔کوشش سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔

Pull down to refresh