
Goharian
Just Aam Aadmi..
اسلام علیکم
دُکھوں کا شاپنگ مال
زندگی کے دُکھوں کے شاپنگ مال میں میرا گزر ہوا۔ خوشیوں کی پرکشش دکانوں کے درمیان، ایک گوشے میں 'تلخی سینٹر' کا بورڈ آویزاں تھا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا مرکز معلوم ہوتا تھا، مگر جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اندر ایک وسیع ہال تھا، جس کے ریکس میں انسانی تلخیوں، کدورتوں اور منفی رویوں کی بوتلیں یوں سجی تھیں جیسے کوئی قیمتی شراب ہو۔
گھبرا کر واپس مُڑنا چاہا تو تلخی سینٹر کا مینیجر، جس کی شخصیت میں ایک عجیب سا رعب اور گہرائی تھی، تیزی سے میری طرف لپکا۔ اس نے بڑی شائستگی سے میرا ہاتھ تھاما اور نفیس لہجے میں بولا: "جنابِ والا! جب آ ہی گئے ہیں تو خالی ہاتھ کیسے جا سکتے ہیں؟ کچھ نہ کچھ تو خریدنا ہی پڑے گا۔"
میں نے لرزتی ہوئی آواز میں اعتراف کیا: "لیکن میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔"
مینیجر نے ایک پُر اسرار قہقہہ لگایا اور بولا: "آپ فکر نہ کریں، آپ کی جیبوں میں جو مال ہے، میں خود اس کی تلاشی لے کر قیمت چکا دوں گا۔"
اس کی بارعب شخصیت کے سامنے میری ہمت جواب دے گئی۔ مینیجر نے میری قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو میری آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ اس کے ہاتھ میں "دل آزاری، دھوکا، جھوٹ، فراڈ، غفلتِ عبادت، بغض و حسد اور نفسانی خواہشات" کے سکوں سے بھرا ایک پیکٹ تھا۔
یہ دیکھ کر وہ مسکرایا، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے "ٹینشن، بیزاری اور بلڈ پریشر" کے کاؤنٹر پر لے گیا۔ سیلز مین کو وہی پیکٹ بطور قیمت تھمایا اور بڑی بے رخی سے بولا: "صاحب کو رسید دیں اور انہیں ان کے اعمال کا خریدا ہوا یہ تحفہ—یعنی ٹینشن، بیزاری اور بیماری—پیک کر کے دے دیں۔"
اس نے سرد مہری سے میری طرف دیکھا اور ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "Have a good day!" اور پھر کسی دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا۔
میں وہاں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ ہم اپنی جیبوں میں جو منفی خیالات اور اعمال لے کر پھرتے ہیں، وہ دراصل تلخیوں کے بازار میں ہماری اپنی ہی خریدی ہوئی مہنگی ترین مصیبتیں ہیں۔
بقلمِ خود
ضیاءالدین ملک
intoBlog - Write, Speak, Inspire