دو محرم کو جب اترا تھا سادات کا وہ خیمہکرب و بلا کا وہ تپتا ہوا میدان یاد آتا ہے
سات محرم سے بند کر دیا گیا تھا وہ پانیپیاسے بچوں کا وہ العطش کا نعرہ تڑپاتا ہے
شبِ عاشور گزری تھی پوری عبادت میںاگلی صبح تو بس قربانی کا منظر نظر آتا ہے
شامِ غریباں کی وہ تاریکی اور جلے ہوئے خیمےاسیرانِ اہل بیت کا وہ کڑا سفر یاد دلاتا ہے
اربعین پر اے جعفری ختم ہوتے ہیں چالیس دنحسین کا یہ غم کائنات کو جینا سکھاتا ہے