Default Profile

Uzair Ahmad

@username

No bio available.

2
Posts
2
Followers
0
Following
 .  ۔۔۔۔۔۔بسم اللہ الرحمان الرحیم عزیراحمد. 
وقت، محنت اور تبدیلی کی کہانیہمارے حالات کبھی ایسے تھے کہ غربت سے جان چھڑانے کے لیے ہر وہ کوشش کی جو ایک مجبور آدمی سوچ سکتا ہے۔ خیر، اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور آہستہ آہستہ حالات سنورنے لگے۔ مگر یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی، اس کے پیچھے ایک طویل داستان ہے۔ہمارا علاقہ کبھی پانی کی شدید قلت کا شکار تھا۔ زیرِ زمین پانی اتنا کڑوا تھا کہ اگر کسی نے غلطی سے زیادہ پی لیا تو اسے میٹھے پانی کی قدر فوراً معلوم ہو جاتی تھی۔ میرے والد مرحوم بتایا کرتے تھے کہ گھر سے تقریباً تین کلومیٹر دور کلاب اسٹیشن پر دوپہر کے وقت ٹرین کا ایک ڈبہ آتا تھا جس میں پانی ہوتا تھا۔ لوگ برتن اٹھائے وہاں پہنچ جاتے، پانی بھر لیتے اور پھر اگلے دن تک اسی ذخیرے پر گزارا کرتے۔ جانوروں کو پانی پلانا ہو تو انہیں بھی اسٹیشن تک لے جانا پڑتا تھا۔یہ غالباً ستر کی دہائی کی بات ہے۔ بزرگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر کے قریب جو آج ڈبل روڈ ہے، اُس وقت ایک سنگل سڑک تھی۔ ایک مرتبہ کراچی سے آنے والی ایک فیملی وہاں سے گزری۔ راستے میں پیاس لگی تو سڑک کنارے لگے ہینڈ پمپ سے پانی پی لیا۔ پانی ایسا کڑوا تھا کہ کراچی پہنچتے پہنچتے پورے خاندان کو موشن لگ گئے۔بعد میں وہ صاحب لوگوں سے بڑے اعتماد سے کہا کرتے تھے:"بھائی! جسے قبض کی شکایت ہو، حکیموں کے چکر چھوڑ دے، ہمارے علاقے کا ایک گلاس پانی پی لے، شفا خود دوڑتی ہوئی آ جائے گی!"وقت گزرتا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مردہ زمین پر ایسی رحمت برسائی کہ آج وہی علاقہ سرسبز و شاداب دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس تبدیلی کے پیچھے برسوں کی محنت، جدوجہد اور انتظار چھپا ہوا ہے۔علامہ اقبال نے کہا تھا:"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا"واقعی، بڑی تبدیلیاں وقت مانگتی ہیں۔مجھے آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ایک واقعہ یاد ہے۔ میں دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک کوسٹر ڈرائیور نے بریک لگائی اور دکان پر آ گیا۔ کہنے لگا:"میں تیس سال پہلے یہاں سے گزرا کرتا تھا۔ اُس وقت دن کے وقت بھی ڈر لگتا تھا۔ ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا، اور آج دیکھو! جہاں درختوں کی حکومت تھی وہاں انسانوں کی آبادیاں ہیں۔"میں نے دل میں سوچا، واقعی اللہ تعالیٰ مردہ بستیوں کو کیسے زندگی عطا فرماتا ہے۔قرآن مجید میں حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ بھی یہی سبق دیتا ہے۔ سفر کے دوران انہوں نے ایک اجڑی ہوئی بستی دیکھی، مکانات موجود تھے مگر انسان نہ تھے۔ حیرت سے عرض کیا:"اے میرے رب! تو اس مردہ بستی کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟"اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال کے لیے موت دے دی۔ پھر زندہ فرمایا اور پوچھا:"کتنی دیر ٹھہرے رہے؟"عرض کیا:"ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔"حالانکہ پورے سو سال گزر چکے تھے۔ انسان کی بے بسی دیکھیے، وقت کے سامنے اُس کی یادداشت کتنی محدود ہے۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحے میں سب کچھ بدل دیتا، مگر اللہ کی سنت یہ ہے کہ تبدیلی کو وقت دیا جاتا ہے۔ دعا اپنا اثر دکھاتی ہے، محنت اپنا رنگ لاتی ہے اور پھر وقت گواہی دیتا ہے کہ بیج واقعی درخت بن چکا ہے۔کسی چیز کو توڑنا بہت آسان ہے، چند لمحے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن بنانے میں وقت لگتا ہے۔ ایک بچہ جوان بننے میں برسوں لیتا ہے، ایک درخت پھل دینے میں سالوں لگاتا ہے، اور خواب حقیقت بننے میں صبر مانگتے ہیں۔اس لیے کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ رب کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ آج اگر حالات مشکل ہیں تو یہ آخری منظر نہیں۔ ممکن ہے آپ کی دعائیں راستہ بنا رہی ہوں، آپ کی محنت مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہو، اور وقت آپ کے حق میں فیصلہ لکھ رہا ہو۔یاد رکھیے! آرزوؤں کے پھل بھی درختوں کی طرح ہوتے ہیں۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
You’ve reached the end.