
Muzammil Shah
Educational Management and Leadership
لیڈرشپ صرف کرسی اور عہدے کا نام نہیں!
ہمارے ہاں عام طور پر لیڈرشپ کو کرسی، عہدے اور اتھارٹی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن جب کوئی ادارہ نقصان میں جارہا ہو، کرائسس کا سامنا ہو یا مشکل صورتحال ہو، تو نچھلے درجے کے ملازمین سے قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ باقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔
سٹار بکس (Starbucks) کے سی ای او ہاورڈ شلٹز نے 2008 میں مالیاتی بحران کے دوران کمپنی کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ کمپنی مالی بحران کا شکار تھی تو شٹلر نے اپنی تنخواہ 1.20 ڈالر کر دی (جو کہ علامتی طور پر اسٹاربکس کے ایک کپ کافی کی قیمت تھی۔ انہوں نے اپنے تمام مراعات اور بونس ختم کر دئیے، جبکہ عملے کے لیے ہیلتھ انشورنس اور دیگر مراعات برقرار رکھے۔ اس قربانی نے کمپنی کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور ملازمین کے اعتماد کو بحال کیا۔
2006 میں جب فورڈ (Ford) شدید بحران کی شکار تھی، سی ای او ایلن مولالی (Alan Moulali) نے اپنی سالانہ تنخواہ 2 ملین سے کم کر کے1 ڈالر کر دی۔ انہوں نے اپنے تمام بونس اور اسٹاک آپشنز بھی ختم کر دئیے، اور عوام سے قرض لے کر کمپنی کو بچایا۔ ان کا کہنا تھا: "جب تک کمپنی بحال نہیں ہو جاتی، میں ایک ڈالر پر کام کروں گا۔"
جب کورونا وائرس کی وجہ سے ورجن اٹلانٹک ایئرلائنز تباہی کے قریب پہنچ گئی تو کمپنی کے سی ای او، برانسن نے اپنی ذاتی جائیداد (ایک نجی جزیرہ) بینک میں گروی رکھ کر ڈھائی سو ملین ڈالر کمپنی میں لگا دئیے۔ انہوں نے کہا: "عملے کی نوکریاں بچانا میری اولین ترجیح ہے، میرے ذاتی اثاثے بعد میں آتے رہیں گے۔"
جب 2012 میں پیناسونک کو خسارے کا سامنا تھا، سی ای او موری نے اپنی مکمل تنخواہ اور بونس صفر کر دیا، جبکہ دیگر اعلیٰ افسران کی تنخواہیں 50 فیصد کم کر دی گئیں۔ تاہم انہوں نے نچلے درجے کے عملے کی تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی۔ ایک انٹرویو میں موری نے کہا: "لیڈر کو پہلے خود قربانی دینی چاہیے، دوسروں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔"
یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ حقیقی لیڈر وہی ہے جو مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے لیے اپنی آسائشیں قربان کر دے۔ ایسے لیڈرز صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں لیکن صدیوں تک ان کو یاد رکھا جاتا ہے۔
مزمل شاہ
intoBlog - Write, Speak, Inspire