userPic

Amir zada

khattak22

creater

14
Posts
1
Followers
9
Following
darood sharif par lain Dua ma yad rakain jazzak Allah 🌹
کتو ں کے لیے قربانی نا کیجئے خدارا ۔یہ واقعہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کا ھے ۔ایک باپ جو کہ قربانی نہیں کر پا رہا اس کی روداد سنیے۔بابا.... بابا .... ہمیں بھی گوشت ملے گا نا ؟ میں نے کہا : ہاں ہاں کیوں نہیں بِالکُل ملے گا۔۔ لیکن بابا ....پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا ھےگوشت دیکھے ہوئے بھی۔۔۔ میں نے بڑے پیار سے سمجھایا :بیٹا اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا،میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ۔۔میری بیٹی پھر بولنے لگی ۔۔ ساتھ والے انکل قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں، اور سامنے والے چاچا اقبال بھی تو بکرا لے کر آئےہیں،  میں دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے،  امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں، یہی سوچتے ہوئے میں عید کی نماز کیلے مسجد کی طرف چل پڑا ۔ وہاں بھی مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیںکہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔ ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔۔۔ خیر میں بھی نماز ادا کر کےگھر پھنچ گیا،  کوئی گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد میری بیٹی بولی۔۔  بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا ،  بڑی بہن رافیہ بولی ۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو میں چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا ۔۔کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا۔۔۔۔آپ خود جا کر مانگ لائیں،  میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا عجیب بات کر رہی ہے ۔میں نے نرمی سے کہا ۔۔دیکھو شازیہ کی ماں۔۔۔۔ تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ، اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔ دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے بار بار اصرار پر پہلے دوسری گلی میں ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے،بیٹی کا مایوسی سے بھرا چہرہ برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔اس لئیے مجبوراً اس کو ساتھ لے کر چل پڑا ۔۔۔ڈاکٹر صاحب دروازے پر آئے تو میں بولا ۔۔۔ ڈاکٹر صاحب میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتاہے؟  یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے،تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔ توہین کے احساس سے میری آنکھوں میں آنسو آ گۓ۔۔لیکن بیٹی کا دل نہ دکھے ،آنسووں کو زبردستی پلکوں میں روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔آخری امید اقبال چاچا ۔۔بو جھل قدموں سے چل پڑا ۔۔ان کے سامنے بھی بیٹی کی خاطر گوشت کیلے دست سوال۔ اقبال چاچا نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلےگۓ۔ تھوڑی دیر بعد باھرآۓ تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلۓ گۓ۔جیسے میں نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی ۔۔خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے آیا اور بے آواز آنسو بہتے جارہے تھے ۔بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی ۔اور بولی بابا ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ۔۔لیکن میں سمجھ گیا کہ بیٹی باپ کو دلاسہ دے رہی ہے ۔۔بس یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگالیکن رونے والا میں اکیلا نہیں تھا۔۔دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہی تھی اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی ۔۔جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔  آزاد بھائی ، دروازہ کھولو، دروازہ کھولا۔۔ تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیا، اور بولا ،گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔ اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔یہ تم بھی کھا لینا خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔ تیسرے دن میری بیٹی شازیہ اور میں باہر آئے تو دیکھا کہ، اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔ جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ اور اس پر کُت ے جھپٹ رہے تھے۔ شازیہ بولی ،  بابا ۔  کیا کُتو ں کے لیۓ قربانی کی تھی ؟ وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے ۔ اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔ یہ صِرف تحریر ھی نہیں،گذشتہ چند سالوں میں قربانی کے موقع پر آنکھوں دیکھا حال ہے۔(خدارا احساس کریں اپنے اردگرد غریب اور مسکین لوگوں کا جو آپ کے آس پاس ہی رہتے ہیں ۔۔۔!!
انسان کی موت کبھی اپنی آنکھوں سے بھی دیکھی ہو گی کہ جب انسان مرنے لگتا ھے تو فوری موت نہیں ہو جاتی کچھ لمحوں یا 10 سے 15 سیکنڈ تک کا بھی وقت لگ جاتا ھے مرنے والا انسان جیسے سب محسوس کر رہا ہو ایسا لگتا ھے بعض اوقات وہ اپنی آنکھوں کو بھی 2 یا 3 بار بند کر کے کھولتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں ہوتا ھے انسان کی موت کا سبب کیا ھے۔۔۔ دل ۔۔ دل جسم کا وہ اعضاء ھے جو خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ھے آپ جو غذا کھاتے ہیں وہ خون میں انسولین بناتی ھے۔۔ پھپھڑے ،،ہم جب ہوا سے آکسیجن لیتے ہیں تو پھپھڑے اس آکسیجن کو خون میں ٹرانسفر کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جسم سے باہر پھینکتے ہیں ۔ ۔۔۔۔ اگر پھیپھڑے فیل تو جسم کے اندر خون میں آکسیجن لینے کا سارا نظام بند ہو جاتا ھے جس وجہ سے خون میں آکسیجن نہیں ہونے کی وجہ سے دل کے مسلز سکڑنے کمزور ہونے کی وجہ سے دل بند ہو جاتا ھے ۔۔ جب خون میں آکسیجن نہیں رہتی تو جسم کے خلیوں کی انرجی کچھ سیکنڈ میں ختم ہونے لگتی ھے جس سے جسم کے سارے خلیوں کی نشوونما رک جاتی ھے اور خلیے مرنے لگتے ہیں ۔۔ دماغ ۔۔۔ دماغ کو جب آکسیجن ملنا بند ہو جاتی ھے تو دماغ کے نیورون بھی ۔مرنے لگتے ہیں جس وجہ سے برین ڈیتھ ہو جاتی ھے ۔
زید بن اسلم سے نقل ہے، وہ کہتے ہیں کہ بیت المقدس کی کنجی حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تھی۔ آپ اس پر کسی کو امین نہیں بناتے تھے۔ چنانچہ ایک رات آپ کھڑے ہوئے تاکہ اسے کنجی سے کھولیں، مگر اس کا کھلنا آپ پر دشوار ہوگیا۔ آپ نے جنّات سے مدد لی مگر وہ بھی نہ کھول سکے۔ اس کے بعد آپ نے انسانوں سے مدد لی، مگ
وکٹ کیپر محمد رضوان نے بنگلہ دیش میں تین دن کیلئے پانچ تبلیغی جماعت نکال دی بنگلہ دیشی رضوان کے دیوانے ہوگئے ڈھاکہ کی مرکزی جامع مسجد میں رضوان نے عصر کی نماز میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیاوی کاموں کیساتھ اللہ کی دین کا کام بھی کرنا ہوگا کیونکہ ہمارے دنیا میں آنے کا مقصد عبادت ہے اور اگر آپ کے دعوت سے کوئی ایک آدمی بھی سیدھے راستے پر آگیا تو تم کامیاب ہوجاو گے اس موقعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی امام مسجد مفتی یس کاغذ قلم لیکر کھڑے ہوگئے محمد رضوان کے پاس اور رضوان نے کہا کون کون تین دن کیلئے فوری طور پرتیار ہےجس پر سب نے لبیک کہا اور لوگ زیادہ ہونے کی وجہ سے امام مسجد نے پانچ گروپ بنائے اور تین دن کیلئے نکل گئے‎
Follow and give a star 
Follow give star ✨
Follow me for more info